اردو بطور سرکاری وتعلیمی زبان

اردو بطور سرکاری وتعلیمی زبان
 اردو بطور سرکاری وتعلیمی زبان

  

وزیراعظم میاں محمدنواز شریف نے گزشتہ دنوں اپنے دستخطوں سے حکمنامہ جاری کیا ہے کہ اردو کو سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں نافذ کردیا جائے۔ دفتروں کے تمام کام اردو میں ہوں گے اور یوٹیلٹی بلز کے مندرجات اردو میں بھی ہونے چاہئیں اور یہ کام تین ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کے کچھ محکموں میں قوانین کا ترجمہ اردو میں کیا گیا ہے۔ مختلف محکموں کے سربراہوں کو چاہئے کہ ان کے پاس جو سول سروس ادیب شاعر ہیں، یا جن کی انگریزی اور اردو بہت اچھی ہے وہ ان سے اپنے محکموں کے ایکٹس (Acts)کا بامحاورہ اردو میں ترجمہ کروائیں۔ قو میں اپنی زبان اختیار کرکے ہی ترقی کرتی ہیں۔اس طرح ان کے ہنروں کے جوہرکھلتے ہیں۔ غیرملکی زبانوں کو ہردرجہ میں لازمی حیثیت میں پڑھنے سے اکثر طلباء رٹو طوطے تو بن جاتے ہیں۔ لیکن ان میں تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتیں اجاگر نہیں ہوتیں، بلکہ دب جاتی ہیں۔ ممتاز نقاد ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی شاہکار کتاب ’’پاکستان میں کلچر کا مسئلہ‘‘ میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ چین اور جاپان نے اپنی زبانیں اختیار کرکے اتنی ترقی کی ہے، یورپ میں سوائے دولت مشترکہ کے ممالک کے اکثر ملک اپنی زبانیں بولتے ہیں۔ مثلاً اہل ڈنمارک ڈینش ، اہل جرمنی جرمن ،اہل پولینڈ پولش، بلغاریہ میں بلغاری بولی جاتی ہے۔ سپین میں سپینش اور فرانس میں فرنچ زبان بولی جاتی ہے۔ اہل فرانس گو انگریزی سمجھتے ہیں لیکن انگریزی بولنے والے کو برا سمجھتے ہیں۔

ماضی میں کچھ اندرونی اور بیرونی طاقتیں نہیں چاہتی تھیں کہ وطن عزیز میں اردو کو بطور سرکاری وتعلیمی زبان نافذ کردیا جائے کہ اس طرح غریب لوگ اوپر آجائیں گے اور پاکستان ترقی کرجائے گا۔ غریبوں میں بعض امور جیسے انتظامیہ اور بصیرت میں اکثر اوقات صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ زیادہ ذہین اور دانشمند ہوتے ہیں، چونکہ انگریزی میں مہارت حاصل نہیں کرسکتے، لہٰذا پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ پچھلے دنوں فیڈرل گورنمنٹ کے ایک بیسویں گریڈ کے سی ایس ایس آفیسر کے پاس بیٹھا تھا۔ بڑی گلوگیر آواز میں کہنے لگے کہ بڑے بڑے عالی دماغ لوگ محض انگریزی میں رکاوٹ کی وجہ سے سی ایس ایس کا امتحان کوالیفائی نہیں کرسکتے۔ میں خود بھی پی سی ایس ایگزیکٹو کے امتحان میں شریک ہوا تھا۔ میرا مشاہدہ ہے کہ صرف انگریزی میں مہارت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لائق لوگ اس امتحان میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔ انگریزی بڑی مشکل زبان ہے۔ کیونکہ اس کا کوئی اصول نہیں ہے۔ بس مسلسل محنت ہی کامیابی کی کلید ہے۔

ہمارے تعلیمی نظام میں ایف اے اور ایف ایس سی تک انگریزی کے لازمی مضمون کی حیثیت برقرار رہے۔ میری اور میرے چند دوستوں کی رائے کے مطابق سال چھ مہینے بعد جب تیاری مکمل ہوجائے تو بی اے میں انگریزی کے لازمی مضمون کی حیثیت ختم کردی جائے۔ کیونکہ اس مضمون میں بہت سے طلباء کی کمپارٹمنٹ آجاتی ہے۔ یوں طلباء کا قیمتی وقت اور صلاحیت ضائع ہوتی ہے۔ بی اے کے اختیاری مضامین میں بھی اردو میں امتحان دینے کی اجازت ہونی چاہئے۔ جو طلباء انگریزی میں بی اے کا امتحان دینا چاہیں، ان کو بھی اجازت ہو۔ سردست جب تک مکمل تیاری نہیں ہوتی، سی ایس ایس اور پی سی ایس کے مقابلے کے امتحانات میں انگریزی کے ایک لازمی مضمون (پرچے) کی حیثیت برقرار رکھی جائے، باقی سب اختیاری مضامین میں اردو میں امتحان دینے کا اذن عام ہو۔ جو امیدوار انگریزی میڈیم میں امتحان دینا چاہیں ،وہ دے سکیں ۔ ہمیں ایسے افسران بھی چاہئیں جن کی انگریزی بڑی ہائی ہو، تاکہ وہ بیرونی ممالک سے آنے والے وفود سے انگریزی زبان میں تبادلہ خیالات کرسکیں۔ متعلقہ حکام کو ایسے افسران کو سول سروسز اکیڈیمز اور نیپامیں سپیشل کورسز بھی کروانے چاہئیں۔

آج سے چندبرس قبل اردو میں بھی لاء کرنے کی آپشن تھی لیکن پھر یہ انگریزی میں کردیا گیا۔ کافی عرصہ پہلے میں خود نیوکیمپس لاء کالج میں پڑھتا رہا ہوں۔ گو کہ اس وقت بعض طلباء کہتے تھے کہ یہ انگریزی میں آسان ہے لیکن پروفیسر لڑکوں کو یہی کہتے کہ وہ اردو میں امتحان دیں۔ ویسے بھی قومی مفاد کے لئے اگر ذرا زیادہ محنت کرلی جائے تو کیا حرج ہے ؟ میرے ایک ملنے والے بتارہے تھے کہ عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ چھ ماہ سے فیصلے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی کررہے ہیں۔ جزاک اللہ !دوتین ہفتے پہلے، میں نے سول سیکرٹریٹ کے ایس اینڈ جی اے ڈی کے ذیلی ادارے آفیشل لینگوئج کمیٹی سے رابطہ کیا تھا، تو وہاں کے ڈائریکٹر بتارہے تھے کہ سپریم کورٹ میں جو قومی زبان اردو کو سرکاری زبان بنانے کے سلسلے میں پٹیشن چل رہی ہے ، تو اس سلسلے میں ہمیں بھی عدالت میں بلایا گیا تھا۔ ڈائریکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ سپریم کورٹ اس کیس میں بہت دلچسی لے رہی ہے۔ انہوں نے تراجم کرنے کے سلسلہ میں ہماری کارکردگی پر بھی استفسار کیا۔

ڈائریکٹر صاحب نے میرے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ایک ڈیڑھ سو ایکٹ کے اردو میں تراجم ہوچکے ہیں اور رولز اینڈ ریگولیشنز کے بھی اردو میں تراجم ہوئے ہیں ۔ اردو میں ڈکشنریاں بنائی گئی ہیں اور یہاں سے رسالہ ’’دفتری زبان ‘‘ بھی شائع ہوتارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاء ڈیپارٹمنٹ میں ترجمہ کرنے کے لئے باقاعدہ ایک ونگ بنا دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر صاحب نے کہا کہ انہوں نے تیاری کی ہوئی ہے۔ 1979ء کو مقتدرہ قومی زبان نامی ادارہ قائم کیا گیا، اس نے اردو زبان کو فروغ دینے کے لئے بہت سی کوششیں کی ہیں اور کررہا ہے۔ اس کو چاہئے کہ ایسی کمیٹیاں بنائے جو مختلف محکموں کے ایکٹس کو اردو کے قالب میں ڈھا لیں۔ جس طرح سول سیکرٹریٹ میں ایس اینڈ جی اے ڈی کے ذیلی ادارے آفیشل لینگوئج کمیٹی نے کام کیا ہے۔ اسی طرح مقتدرہ قومی زبان کی قائم کردہ کمیٹیوں کو وفاقی محکموں میں مختلف محکموں کے ایکٹس کو اردو میں منتقل کرنا چاہئے۔

مزید :

کالم -