اسرائیلی ناکہ بندی ،غزہمیں شیرخواروں کی اموات میں اضافہ

اسرائیلی ناکہ بندی ،غزہمیں شیرخواروں کی اموات میں اضافہ

  

غزہ( آن لائن )فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبوداور بحالی کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی "اونروا" نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فلسطین کے جنگ زدہ علاقے غزہ کی پٹی میں شیرخوار بچوں میں شرح اموات پچھلی نصف صدی میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "اونروا" کی جانب جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر سنہ 2007ء سے مسلط کی گئی معاشی ناکہ بندی کے نتیجے میں شیرخواروں میں اموات کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ادویات کی عدم موجودگی، خوراک کی قلت اور بنیادی ضروریات کے فقدان نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ شیر خواروں پر خاص طور پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سنہ 1960ء میں فی ہزار 127 بچے فوت ہوئے۔ سنہ 2008ء میں یہ شرح فی ہزار 20.2 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔ پانچ سال بعد سنہ 2013ء4 میں بچوں میں شرح اموات 22.4 فی تک پہنچ گئی۔ سنہ 2008ء تا 2013ء تک پیدائش کے چوتھے ہفتے کے اندر اندر لقمہ اجل بننے والے بچوں کی شرح 20.3 فی صد ریکارڈ کی گئی۔"اونروا" کے زیرانتظام ہیلتھ پروگرام کے ڈائریکٹر اکیھترو سائیٹا کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے باوجود غزہ کی پٹی میں شیر خوار بچوں کی شرح اموات کے اعدادو شمار اتنے خطرناک بھی نہیں ہیں۔ کیونکہ بعض ممالک میں بچوں میں شرح اموات اس سے کہیں زیادہ ہے۔ خاص طورپر افریقی ملکوں میں ایڈز جیسی وباء4 کی موجودگی کے باعث بچوں میں شرح اموات غیرمعمولی حد تک ہے۔ایک سوال کے جواب میں مسٹر سائیٹا کا کہنا تھا کہ غزہ میں شیرخوار بچوں میں شرح اموات کے اسباب کا تعین کرنا مشکل ہے تاہم خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں غزہ میں بچوں میں شرح اموات غیرمعمولی حد تک بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ پابندیوں کے باعث شہریوں کو خوراک اور ادویات کی قلت کا سامنا رہتا ہے۔اقوام متحدہ کے بعض دوسرے اداروں کی جانب سے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی عاید کردہ پابندیوں کے خطرناک نتائج پر سخت تنبیہ کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ناکہ بندی غزہ کے بچوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ غزہ میں 45 فی صد افراد کی عمریں 14 سال سے کم ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیل نے سنہ 2014ء کے دوران غزہ کی پٹی پر 51 دن تک جنگ مسلط کیے رکھی جس کے نتیجے میں 22 سو فلسطینی شہید ہوئے تھے۔ شہداء میں بڑی تعداد بچوں پر مشتمل تھی۔

مزید :

عالمی منظر -