سانحہ قصور۔ تماشہ لگانے والے سیاستدان۔ کیا ہونا چاہئے

سانحہ قصور۔ تماشہ لگانے والے سیاستدان۔ کیا ہونا چاہئے

  

قصور کے معاملہ پر ایک طرح سے پورے ملک کے سیاستدانوں کی چاندی ہو گئی ہے۔ ہر کوئی قصور جا رہا ہے۔ بیچارے معصوم بچوں اور بچیوں پر ہونے والے ظلم پر سیاست کی جا رہی ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ حکومت بھی اس پر سیاست ہی کر رہی ہے۔ ایک حکومتی وزیر کا بیان دوسرے سے نہیں مل رہا ہے۔ میں دکھ میں ہوں۔ اس پر نہیں لکھنا چاہتا تھا۔ کیونکہ اس پر لکھنے سے بھی دل دکھتا ہے۔ میری خواہش تھی کہ حکومت جلد از جلد ایسے اقدامات اٹھائے کہ بچوں بچیوں پر ہونیو الے ظلم پر سیاست ختم ہو جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اور سیاست لمبی ہوگئی۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں موجود ہیں۔یہ کوئی اس نوعیت کاپہلا جرم نہیں ۔ لیکن متاثرین کی بڑی تعداد نے معاملے کو سنگین کیا ہے۔ لیکن شکر ہے کہ معاشرہ سویا ہو ا نہیں۔ لوگ ہوش میں ہیں۔ لیکن پھر بھی شائد ابھی تک حکومت عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔

حکومت نے جیوڈیشل کمیشن بنا دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی پولیس کے تفتیشی افسران نے یہ بیان بھی جاری کر دیا ہے ۔ کہ ملزمان نے اقبال جرم کر لیا ہے محترمہ ریحام خان کا یہ موقف کافی حد تک درست ہے کہ جب حکومت کہہ رہی ہے کہ ملزمان نے اقبال جرم کر لیا ہے تو پھر جیوڈیشل کمیشن کی کیا ضرورت ہے۔ معاملہ حل ہو گیا ہے۔ بچے موجود ہیں۔ ملزمان موجود ہیں۔ گواہ مووجود ہیں۔ ثبوت موجود ہیں۔ اب جیوڈیشل کمیشن نے کیا کر نا ہے۔ لیکن شائد محترمہ ریحام خا ن زیادہ عرصہ ملک سے باہر رہی ہیں۔ اور پاکستان میں تو انہوں نے عمران خان سے شادی کے بعد سیاست شروع کی ہے۔ اس سے قبل چند سیاستدانوں کے انٹرویو ان کے کریڈٹ پر موجود ہیں۔ لیکن انہیں یہ علم نہیں کہ پولیس کے سامنے کئے ہو ئے اقبال جرم کی عدالت میں کوئی حیثیت اور وقعت نہیں۔ سو فیصد ملزمان پولیس کے سامنے تفتیش میں اقبال جرم کر لیتے ہیں۔ اور سو فیصد ملزمان ہی عدالت میں اس اقبال جرم سے مکر جاتے ہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ اقبال جرم پولیس کے دباؤ اور تھرڈ ڈگری کے استعمال کی وجہ سے کیا تھا۔ اور یہ اقبال جرم ختم ہو جا تا ہے۔ اسی طرح اگر یہ ملزمان جیوڈیشل کمیشن کے سامنے بھی اقبال جرم کر لیں تب بھی ان کے پاس عدالت میں جا کر مکرنے کا بھر پور موقع موجود ہوتا ہے۔ متاثرین مطالبہ کر رہے ہیں۔ کہ ان کا مقدمہ فوجی عدالت میں بھیج دیا جائے۔

حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ Justice delayed is Justice denied اس معاملے میں بھی دیر حکومت کے نقصان میں ہے۔ یہ بھی ماننا ہو گا کہ جیوڈیشل کمیشن بھی اب سیاسی ہو چکے ہیں ۔اور اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔ لوگ جلد انصاف کے خواہاں ہیں۔ جب حکمرانوں نے اپنے سیاسی مفاد اور جمہوری نظام کو بچاناہو تو اسمبلیوں کے اجلاس بھی راتوں رات بلا لئے جاتے ہیں۔ اور ترامیم بھی منٹوں میں منظور ہو جاتی ہیں۔ آج اس قوم کے بچوں بچیوں کے ساتھ ظلم ہو اہے تو پنجاب اسمبلی کا اجلاس کیوں نہیں طلب کیا جا سکتا۔ اس مقدمہ کی سماعت کے لئے خصوصی عدالت کیوں نہیں بنائی جا سکتی۔ کیوں نہیں راتوں رات آرڈیننس کے ذریعے اس مقدمہ کے لئے ایک خصوصی عدالت قائم کر کے انصاف کیا جائے۔ ہمیں ماننا ہو گا کہ ہماری انسداد دہشت گرد ی کی عدالتیں بھی صرف نام کی خصوصی عدالتیں رہ گئی ہیں۔ اور وہاں بھی انصاف عام عدالتوں کی طرح ہی ملتا ہے۔ اس لئے اس مقدمہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھیجنا کافی نہیں ہو گا۔

میاں شہباز شریف کو اس دلخراش واقعہ کے لئے انصاف کے خصوصی اقدامات کرنا ہو نگے۔ اگر آرڈیننس یا کرمنل سسٹم میں ترمیم سے خصوصی عدالت بنائی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ والدیں پولیس کو درخواستیں نہیں دے رہے۔ یہ کہاجا رہا ہے کہ یہ گھناؤنا کام کئی سال سے جاری تھا۔ لیکن کسی نے پولیس کو درخواست نہیں دی۔ اب بھی پولیس کے پاس صرف سات درخواستیں آئی ہیں۔ مساجد میں اعلان بھی کروائے گئے ہیں۔ لیکن لوگ سامنے نہیں آئے۔ جب قصور کے پولیس اعلیٰ افسر یہ کہہ رہے ہیں کہ لوگ ان کو درخواستیں نہیں دے رہے تو یہ متاثرین کا پولیس اور موجودہ نظام انصاف پر عدم اعتماد ہے۔ اس لئے میاں شہباز شریف کو خصوصی اقدامات کرنا ہو نگے۔ ورنہ وہ ان بچوں کو انصاف نہ دینے کے حوالے سے روز آخرت بھی جوابدہ ہو نگے۔

یہ جتنے سیاستدان قصور گئے ہیں۔ ان سے بھی سوال پوچھنا چاہئے کہ انہوں نے ان بچوں کی داد رسی کے لئے کیا کیا ہے۔ صرف ان بچوں کے گھر جانا وہاں میڈیا سے بات کرنا کافی ہے۔ افسوس یہ سب تو انہوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لئے کیا ہے۔ یہ سب غریب گھروں کے بچے ہیں۔ انہیں اس علاقہ سے فوری ریسکیو کر نے کی ضرورت ہے۔ انہیں تماشہ بنانے اور ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر سیاست چمکانا ٹھیک نہیں۔ جتنے سیاستدان قصور گئے ہیں۔ اگر یہ پانچ پانچ بچوں کو بھی اپنے ذمہ لیتے۔ توا ن بچوں کا مستقبل سنور جا تا۔ لیکن بڑی بڑی گاڑیوں ۔ بڑے پروٹوکول ۔ ہر طرف میڈیا۔ دھکم پیل۔ زندہ باد مردہ باد کے نعرے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی۔ ان بچوں اور ان کے اہل خانہ پر کوئی مثبت اثر نہین ڈال رہی ہو گی۔ لیکن میری اس دلیل کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی بھی نہ جا تا تو یہ کہا جا تا کہ دیکھیں سیاستدان کتنے بے حس ہو گئے ہیں۔ اتنا بڑا واقعہ ہو گیا کوئی گیا بھی نہیں۔ ٹھیک مگر صرف وہاں اپنی کوریج اور بیان بازی بھی ٹھیک نہیں۔ کیا ایسا نہیں کہ ان سب کے پاس ان بچوں کی داد رسی کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں تھی۔ کوئی ان مظلوموں کے لئے دھرنا دینے کو بھی تیار نہیں تھا۔ کسی کے پاس ان کے لئے کوئی فنڈز نہیں تھے۔

میری رب سے دعا ہے کہ اس ملک سے نا انصافی کو ختم کر دے۔ ان بچوں کے ساتھ ہونے والا ظلم ہمارے نظام پولیس اور نظام انصاف کو ٹھیک کرنے کے لئے کافی ہو۔ ورنہ اگر ہم نے اب بھی بے حسی کا مظاہرہ کیا اور ان بچوں پر ہونے والا ظلم بھی ہمیں اور ہمارے ضمیر کو نہ جگا سکا تو ہم کوئی معاف نہیں کرے گا۔

مزید :

کالم -