پیپلزپارٹی پنجاب کو جھٹکا، دیوان غلام محی الدین، چھوڑ کر بیرسٹر کے ساتھ؟

پیپلزپارٹی پنجاب کو جھٹکا، دیوان غلام محی الدین، چھوڑ کر بیرسٹر کے ساتھ؟

  

تجزیہ:۔ چودھری خادم حسین

پیپلزپارٹی کے راہنما اور سینٹ میں قائد حزب اختلاف چودھری اعتزاز احسن نے تسلیم کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کمزور ہو چکی اور اسے اوپر لانے کے لئے بڑی محنت اور جدوجہد کرنا ہو گی۔ ممکن ہے کہ ان کی اس بات پر بعض حضرات نے تضحیک آمیز ریمارکس دیئے ہوں لیکن سچائی کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ اس کا مظاہرہ گزشتہ روز ہی ہو گیا جب پیپلزپارٹی پنجاب کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری غلام محی الدین دیوان پارٹی چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے انہوں نے جواز یہ دیا کہ وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چودھری عبدالمجید کے رویے سے بد دل ہو گئے ہیں، دیوان غلام محی الدین پیپلزپارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو کے بہت قریب تھے اور ان کی حمایت بھی کرتے تھے۔ بتایا گیا کہ میاں منظور وٹو نے ان کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن ان سے زیادہ بیرسٹر سلطان محمود کی دوستی دیوان کو اس طرف لے گئی اور انہوں نے اپنے گھر پر تحریک انصاف کی قیادت کو مدعو کر کے پیپلزپارٹی کو داغ مفارقت دے دیا، میاں منظور وٹو بہت سیانے اور سمجھدار سیاست دان ہیں وہ یہ نہ جان سکے کہ بیرسٹر سلطان محمود کے تحریک انصاف میں چلے جانے اور اصولی طور پر آزاد کشمیر اسمبلی کی نشست سے استعفےٰ دے کر پھر سے منتخب ہونے کے بعد انہوں نے سرگرم کردار ادا کرنا شروع کیا تو دیوان غلام محی الدین بھی زیادہ دیر پیپلزپارٹی میں نہ رہ سکیں گے کہ ماضی میں بھی وہ جیالے ہونے کے باوجود بیرسٹر سلطان محمود سے دوستی نبھاتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ پارٹی چھوڑ کر گئے اور پھر واپس بھی آئے تو انہی کے ساتھ آئے تھے یہ الگ بات ہے کہ بیرسٹر پیپلزپارٹی کو آزاد کشمیر کی قیادت کے مسئلہ پر پھر چھوڑ گئے تو دیوان پیپلزپارٹی میں رہے تاہم ان کا یہ قیام بیرسٹر موصوف کے سیٹ ہونے تک تھا دوسرے پیپلزپارٹی کی کوئی سرگرمی نہیں تھی۔ ان کو یہاں مستقبل غیر یقینی نظر آنے لگا تھا۔ اس کا جواب بھی میاں منظور وٹو ہی کو دینا ہو گا کہ آخر لوگ کیوں پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو پاکستان میں ہیں ان کی پنجاب آمد کا ایک سے زیادہ مرتبہ اعلان ہوا لیکن وہ بوجوہ نہیںآئے اگرچہ سندھ میں ان کی بات مانی جا رہی ہے تاہم ابھی تک ان کی طرف سے تنظیمی امور کو نہیں چھیڑا گیا بلدیاتی انتخابات سر پر ہیں۔ جیالے پوچھتے ہیں کیا بلاول بھی سندھ ہی کو سنبھالیں گے؟ وہ پنجاب کب آ کر اپنے پروگرام پر عمل کریں گے۔

یہ پاکستان کی سیاست کا ایک منظر ہے دوسرا اب قومی اسمبلی اور ہری پور کے ضمنی انتخاب میں نظر آ رہا ہے، مسلم لیگ (ن) نے حکمت عملی کے تحت تحریک انصاف والوں کی نشستیں تو بحال کرا لیں اور توقع کی کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے رویے میں تبدیلی آ جائے گی یہ خواب پورا نہیں ہوا اور عمران خان نے اب دوسرے انداز سے سڑکوں پر آنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں، انہوں نے الیکشن کمشن کو لمبا چوڑا خط لکھ دیا جو جوڈیشل کمشن کی رپورٹ کی روشنی میں ہے اور انہوں نے ہر بے ضابطگی کو اب نئے انداز سے دھاندلی قرار دیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمشن سے اپنے چالیس سوالات کا جواب مانگا اور دھمکی دی کہ وہ سڑکوں پر ہوں گے۔

جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو خود ان کو اپنی جماعت میں مسائل درپیش ہیں لیکن وہ پرواہ کئے بغیر آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور یوں احساس ہوتا ہے کہ وہ محاذ آرائی ہی میں اپنی جماعتی شہرت دیکھتے ہیں بہرحال مسلم لیگ (ن) مطمئن ہے۔ وزیر اعظم کے مراسم ہر طرف ٹھیک ہیں وہ ملک کے اندر کسی بڑے ہنگامے سے بچ کر چل رہے ہیں۔ اب بلدیاتی انتخابات کا معرکہ سندھ اور پنجاب میں ہے۔ سندھ میں تو مسلم لیگ (ن) واجبی ہے۔ پیپلزپارٹی کی کمزوریوں کا فائدہ متحدہ قومی موومنٹ کے بعد فنکشنل لیگ اور قوم پرست جماعتوں کو ہو سکتا ہے۔ بعض ذرائع تو سندھ میں بھی حالات ناخوشگوار بتاتے ہیں لیکن خورشید شاہ مطمئن نظر آتے ہیں۔ پنجاب میں بلدیاتی معرکہ زور دار ہو گا کہ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں بڑا سیاسی اتحاد بنانے کی کوشش جاری ہے۔ میاں منظور وٹو کو تحریک ا نصاف، پاکستان عوامی تحریک اور جماعت اسلامی کے ساتھ چلنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ پنجاب میں مقابلہ سخت ہو گا۔

مزید :

تجزیہ -