بھارت دولت مشترکہ کانفرنس میں آئے یا نہ آئے کشمیر جنگ ہر فورم پر لڑیں گے ، ایاز صادق

بھارت دولت مشترکہ کانفرنس میں آئے یا نہ آئے کشمیر جنگ ہر فورم پر لڑیں گے ، ...

  

اسلام آباد (آن لائن) سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تین سالہ قومی اسمبلی سٹرٹیجک پلان کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی 177 میں سے 155 برانچز نے پاکستان میں کانفرنس میں شرکت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے بھارت کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے نہ آیا تو ہر محاذ پر کشمیر کی جنگ لڑیں گے ۔ پاکستان میں کانفرنس کسی اور جگہ منتقل کرنے یا پھر منسوخ کرنے کے آپشنز ہیں لیکن فیصلہ پارلیمنٹ ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی نے کرنا ہے ۔ پاکستان بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی مخالفت کر چکا ہے جو ملک اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل نہیں کرتا وہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن کیسے بن سکتا ہے ۔ پارلیمنٹ میں اراکین تنقید ضرور کریں لیکن ذاتیات پر بات نہ کریں ۔ پی ٹی آئی اراکین کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرار داد کی پاسداری کریں ۔ پیر کے روز پاکستان انسٹیٹوٹ پارلیمنٹری سروسز پیپس میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں تین سالہ قومی اسمبلی سٹرٹیجک پلان ( این اے ایس پی ) کی تقریب رونمائی ہوئی جس میں پارلیمنٹیرین نے بھی شرکت کی اس موقع پر سپیکر ایاز صادق نے پارلیمنٹیرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این اے ایس پی کا وژن ایوان میں مزید جدت ، موثر اور شفافیت سے کام چلانا ہے انہوں نے اس وژن کے 6 اہم نقات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے استعداد کار کو فروغ دینے کے لئے قانون سازی کی مضبوطی ، شفافیت ، احتساب ، وقت اور وسائل کا درست استعمال سمیت دیگر اہم امور ضروری ہیں جو کہ وژن میں شامل ہیں ۔ این اے ایس پی میں ہم نے فیصلہ کیا ہے اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اس کے پارلیمنٹیرین اور پارلیمنٹ مضبوط ہو گا ۔بعدازاں سپیکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی 177 میں سے 155 برانچز نے پاکستان میں کانفرنس میں شرکت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے ۔لیکن ان میں ایک مقبوضہ کشمیر اسمبلی کو دعوت نہیں دی گئی ہے کیونکہ ہم سالہا سال کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔ ایاز صادق نے کہا کہ ہم نے بنگلہ دیش کو بھی کانفرنس میں شرکت کے لئے کہا لیکن وہاں کی چیئرپرسن نے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو بھی اس میں دعوت دیں گی لیکن ہم نے معذرت کر لی ہے ۔ لیکن 7 اگست کو بھارت نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ ہندوستان سے بھی کوئی برانچ کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گی مگر ہم نے مسئلہ کشمیر کا معاملہ ہر سطح پر اجاگر کر دیا ہے بھارت پاکستان میں کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے تو سرآنکھوں پر نہ بھی آئے تو کشمیر کی جنگ ہر فورم پر لڑیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو کمیٹی میں پاکستان سے کانفرنس کسی اور جگہ منتقل کرنے یا پھر منسوخ کرنے کے آپشنز زیر غور ہیں ۔پاکستان میں کانفرنس کا انعقاد ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ پارلیمنٹ ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 15 اگست تک کرنا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن تسلیم نہیں کرتا اور پہلے بھی اس کی مخالفت کر چکا ہے جو ملک اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل نہ کرے اور اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو پھر وہ ملک سلامتی کونسل کا مستقل رکن کیسے بن سکتا ہے ۔ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ بھارت اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کرا دے تو مقبوضہ جموں وکشمیر کو کامن ویلتھ پارلیمنٹیری ایسوسی ایشن کی کانفرنس میں شرکت کے لئے دعوت دے دیں گے ۔پی ٹی آئی اراکین کی اسمبلیوں میں واپسی کے سوال پر ایاز صادق نے کہا کہ تمام جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ ایوان میں تنقید ضرور کریں مگر ذاتیات پر ہر گز بات نہ کریں لیکن پی ٹی آئی والے جو باتیں پارلیمنٹ کے باہر کرتے ہیں وہ باتیں کبھی بھی انہوں نے پارلیمنٹ میں نہیں کیں اور استعفوں کے دوران بھی شاہ محمود قریشی نے واضح کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے باہر سیاست ہوتی ہے اصل بات پارلیمنٹ کے اندر ہوتی ہے ۔ اب پی ٹی آئی کے اراکین کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے تقدس کا احترام کریں اور قومی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرار دادوں کی پاسداری کریں ۔

مزید :

علاقائی -