ملزم بچوں کی ریڑ ھ کی ہڈی میں نشہ آوار انجکشن لگا کر زیادتی کرتے

ملزم بچوں کی ریڑ ھ کی ہڈی میں نشہ آوار انجکشن لگا کر زیادتی کرتے
ملزم بچوں کی ریڑ ھ کی ہڈی میں نشہ آوار انجکشن لگا کر زیادتی کرتے

  

قصور(ویب ڈیسک)وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قصور کے نواحی علاقہ حسین خانوالہ میں پونے تین سو سے زائد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے مسلسل بلیک میل کرنے اور سینکڑوں گھروں کو دیوالیہ کر دینے والے ملزمان کے متعلق مزید ہولناک اور خوفناک انکشافات منظر عام پر آرہے ہیں پہلے سے گرفتار چلے آنیوالے ملزمان حسیم وغیرہ نے بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ناصرف اعتراف کر لیا تھا بلکہ اپنے جرم کا اعتراف کرنے کے علاوہ ملزم حسیم نے یہ بھی مانا تھا کہ وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ مل کر ویڈیو فلمیں تیار کرتا تھا جبکہ باقی ملزمان اس دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے تھے تاہم اس سے بھی زیادہ دلخراش انکشافات اس وقت ہوئے جب زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے صحافیوں کو لیکر حویلی کرمونوالہ میں گئے یہ حویلی گاﺅں سے باہر بنی ہوئی ہے اور اس کے اندر ایک کنواں موجود ہے حویلی میں تین کمرے ہیں اس حویلی سے میڈیا ٹیم کو نشہ آور ادویات سرنجیں ،رسے ،اسلحہ اور دیگر اشیاءملیں بچوں نے کنواں دکھلاتے ہوئے کہاکہ ملزمان راہ جاتے ہوئے بچوں کو زبردستی پکڑ لیتے اور ریڑھ کی ہڈی پر نشہ آور زنجکشن لگانے کے بعد زیادتی کا نشانہ بناتے اس دوران ان کی بلیو فلمیں تیار کرلی جاتیں کئی بچوں کی فلمیں ایک اور عمارت میں بھی تیار کی گئیں جو بچے مزاحمت کرتے انہیں تیز دھار چھرے ،ٹوکے اور اسلحہ دکھایا جاتا اور زیادہ مزاحمت کرنے والے بچوں کو رسوں سے باندھ کر کنویں میں لٹکا دیا جاتا جس سے یہ بچے اس حد تک خوفزدہ ہوجاتے کہ پھر کبھی زبان نہ کھولتے زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کو بیس کے قریب ملزمان کا یہ گروہ مجبور کرتا کہ وہ گھروں سے نقدی اور زیورات وغیرہ لیکر آئیں جب اچانک زیورات اور نقدی وغیرہ غائب ہونے پر بچوں کے والدین تفتیش کرتے اور انہیں علم ہوتا کہ ان کے بچوں نے چوری کی ہے توباز پرس پر بچے ملزمان کے متعلق انہیں بتاتے جب بچوں کے والدین ملزمان سے رابطہ کرتے تو انہیں دھمکی دی جاتی کہ ان کے بچوں کی فلمیں انٹرنیٹ پر ڈال دی جائیں گیں جس سے ان کے بچوں کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی زندگی بھر کسی کومنہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے جس کے بعد یہ ملزمان بچوں کے والدین کو بھی بلیک میل کرتے ان ملزمان نے سینکڑوں والدین سے لاکھوں روپے کی نقدی زیورات ،ناصرف ہتھیا لیے بلکہ انہیں اپنا گھر بار بھی بیچنے پر مجبور کر دیا عزت کے ڈر سے لوگوں کی بڑی تعداد ان ملزمان کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہی یہ سلسلہ 2008 ءسے شروع ہوا اور حیرت انگیز طور پر 2013 ءتک جاری رہا اور اس دوران علاقہ کے لوگ اس قدر خوفزدہ رہے کہ کسی نے زبان کھولنے کی جرات نہ کی لوگ دبے لفظوں میں ایک دوسرے سے اس بلیک میلنگ کا ذکر کرنے لگے تو کچھ لوگوں نے جرات کرکے پولیس کو اطلاع کی تو ستم ظریفی کی انتہا دیکھئے کہ پولیس ملازمین جو پہلے سے ملزمان کے ساتھ ملے ہوئے تھے وہ ملزمان کو تھانے میں انصاف کے لیے آنیوالے افراد کے نام وغیرہ بتا دیتے جس پر ملزمان انہیں مزید تنگ کرتے اور تشددکانشانہ بناتے تاہم چند ماہ قبل جب علاقہ کے لوگوں کو پتہ چلا کہ گاﺅں کے علاوہ ارد گرد کے دیہات کے بچوں کی بڑی تعداد بھی ملزمان کی زیادتی اور بلیک میلنگ کا نشانہ بن رہی ہے تو چھ بچوں کے والدین مقدمات کے اندراج کے لیے ایک سماجی کارکن مبین احمد کے تحریک دینے پر تھانہ گنڈا سنگھ والا گئے جہاں پر موجود ایس ایچ او مہر اکمل نے ان کی داد رسی کرنے کی بجائے بیٹھے ہوئے والدین کی اپنے موبائل پر فلم بنائی ان سے درخواستیں لیکر رکھ لیں اور یہ فلم مبینہ طور پر ملزمان کے گروہ کے اہم کارندے سلیم شیرازی کے حوالے کر دی۔جس پر ملزمان نے اپنے خلاف درخواستیں دینے والے افراد کو تشددکانشانہ بنایا جس سے علاقہ میں اشتعال پھیل گیا اور اس طرح شروع ہونیوالے مظاہروں نے ملزمان کے اس بدترین درندگی کی تفصیلات کا پردہ چاک کر دیا جب صورتحال پولیس کے لیے درد سر بنی تو انہوں نے پہلے آنیوالی سات درخواستوں پر مقدمہ درج کرلیا تاہم پولیس پر یقین نہ ہونے اور ملزمان کے خوف کی وجہ سے دیگر متاثرہ خاندانوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی تاہم روزنامہ خبریں کے بعد دیگرحوالوں سے شائع ہونیوالی خبروں اور رپورٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد اب تک چالیس کے قریب مزید بچوںکے والدین درخواستیں دینے کے لیے تیار ہوچکے ہیں اور کل تک وہ درخواستیں تھانہ گنڈاسنگھ والا پولیس کے سپر د کر دیں گے اس ساری صورتحال جب مزید واضح ہوئی تو ڈی پی او قصور نے موقف اختیار کیا کہ صرف سات بچوں کے والدین نے مقدمات درج کرائے ہیں ہمارے پاس مزید کوئی مدعی نہیں آیا اور مزید مدعی آنے کی صورت میں ہم مقدمات درج کر سکتے ہیں مگر زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد اس سے کہیں کم ہے جو میڈیا میں بیان کی جارہی ہے تاہم ڈی پی او قصور رائے بابر سعید کے اس موقف کی اس طرح تردید ہورہی ہے کہ ظلم وتشددکانشانہ بننے والے بچوں کے والدین کی بڑی تعداد قانونی کاروائی کے لیے پولیس سے رجوع کرنے لگی ہے ڈی پی او قصور نے مبینہ طور پر ملزمان کے ساتھ ملے ہوئے ایس ایچ او مہر اکمل کو تبدیل کرکے طارق بشیر چیمہ کو ایس ایچ او گنڈا سنگھ والا تعینات کر دیا ہے۔دریں اثناء  یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملزمان نے ان بچوں کی بلیو فلمیں سی ڈیز پر ڈال کر ایک مقامی میوزک سنٹر کے مالک کو دے دی جو انہیں دوسو سے لیکر چار سو روپے تک فروخت کرتا تھا یہ سی ڈیز علاقہ میں پھیلنے کے بعد بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی خبریں تیزی کے ساتھ علاقہ میں پھیلیںاور ہزاروں افراد نے پولیس کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا اور گذشتہ ہفتے جب ان کی کسی جگہ شنوائی نہیں ہورہی تھی انہوں نے پنجاب اسمبلی کے سامنے جاکر مظاہرہ کرنے کی تیار ی کی ہزاروں لوگ جب اس لانگ مارچ پر نکلے تو پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس کے تصادم کے نتیجہ میں پندرہ پولیس ملازمین اور ایک درجن سے زائد دیہاتی زخمی ہوگئے پولیس نے اس سلسلہ میں تین سو کے قریب دیہاتیوں کےخلاف دہشت گردی کی ایک ایف آئی آر درج کرکے سیل کر رکھی ہے اور عوامی دباﺅ کے پیش نظر وہ دیہاتیوں کو گرفتار نہیں کر رہی اس صورتحال نے ناصرف پولیس اور عوام کے درمیان عدم اطمینان کی وسیع خلیج پیدا کر دی ہے بلکہ علاقہ میں غم وغصہ کی فضا کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔

مزید :

قصور -