واقعہ قصور میں ملزم اقبالی گواہ موجود ہے تو پھر جوڈیشل کمیشن کی کیا ضرورت ہے: ریحام

واقعہ قصور میں ملزم اقبالی گواہ موجود ہے تو پھر جوڈیشل کمیشن کی کیا ضرورت ہے: ...
واقعہ قصور میں ملزم اقبالی گواہ موجود ہے تو پھر جوڈیشل کمیشن کی کیا ضرورت ہے: ریحام

  

قصور (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اہلیہ ریحام خان نے قصور واقعہ پر پنجاب حکومت کی بے حسی پر افسوس اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ، قصور واقعہ پاکستان کی تاریخ کا ہولناک اور درد ناک واقعہ ہے اس واقعہ پر ہمیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بجائے بطور شہری اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیں ، ایسے واقعات صرف قصور میں نہیں ہوئےبلکہ پاکستان اور پنجاب کے ہر شہر میں ہو رہے ہیں اور اس میں ہم سب برابر کے ذمہ دارہیں۔

ان خیا لات کا اظہار انہوں نے دورہ قصو کے موقع پر گاﺅں حسین والا میں متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، قصور واقعے کے بعد پنجاب حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہو تی ہے ، وزیر اعلی اگر قصور نہیں آ سکتے تو نہ آئیں عوام کو انکی ضرورت نہیں بلکہ انصاف کی ضرورت ہے، پاکستان میں جوڈیشل انکوائریوں سے کھبی کوئی موثر نتائج نہیں نکلے اس واقع میں گواہ موجود ہیں اور اعتراف جرم بھی ہو گیا ہے کمیشن کی ضرروت نہیں تھی حکومت کمیشن بنانے کے بجائے متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں ، وزیر اعلیٰ پنجاب متاثرہ بچوں کے چہروں کو دیکھیں انکے چہرے بتا رہے ہیں کہ ان سے زیادتی ہوئی ہے وزیر اعلیٰ پنجاب بطور شہری اور والد کی حیثیت سے اس واقعہ کو لیں اور متاثرہ بچوں کو انصاف فراہم کریں انہوں نے کہا ہے کہ قصور واقعہ پاکستان میں پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایسے وقعات پنچاب سمیت پاکستان کے ہر شہر میں ہو رہے ہیں ، یہ تو صرف 284باہمت بچے ہیں جنہوں نے جرم کے خلاف آواز اٹھائی ہے ، ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کے تدراک کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں ، لیکن پنجاب حکومت کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ سب کچھ واضح ہونے کے باوجود بھی مجرموں کو انجام تک پہنچانے کے بجائے کیس کو الجھایا جا رہا ، ریحام خان نے وزیر اعلی ٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں پنجاب حکومت پر اس وقت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کمیشن نہ بنائیں بلکہ انصاف فراہم کریں متاثرہ خاندانوں کو آپکے دورے یا کمیشن کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں انصاف چاہیے۔

ریحام خان نے قصور واقعے پر میڈیا کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کے میڈیا نے جس طرح اس معا ملے کو اُجاگرکیا اس پر میں میڈیا کی شکر گزار ہو ں لیکن ایک التجاء  بھی ہی کہ اس معاملے کو ریٹنگ یا شہ سرخی کی حد تک نہ لیں بلکہ سنجیدگی سے اس پر آواز اٹھائیں یہ مسئلہ صر ف قصور کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے ایسے واقعات پاکستان کے ہر شہر میں ہو رہے امیر اور غریب ہر شخص کے بچے جنسی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں ،میڈیا اس معاملہ پر توجہ دیتی رہے میڈیا نے توجہ ہٹائی تو یہ معاملہ ختم ہوجائے گا اورمظلوموں کو کبھی بھی انصاف نہیں ملے گا،میڈیا اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات کرے اور جتنے پروگرام کر سکتے ہیں کریں ،مجھے جس پروگرام میں بلایا جائیگا اس کے لئے وقت نکالوں گی،انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات صرف قصور نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ اور سندھ کے مختلف شہروں میں ہو رہے ہیں،افسوس کی بات یہ ہے 4 سال قبل پیش آنیوالا واقعات پراب تک کارروائی ہورہی ہے۔

مزید :

قصور -