روبوٹس سے متعلق وہ شرمناک ترین دعویٰ جس پر آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

روبوٹس سے متعلق وہ شرمناک ترین دعویٰ جس پر آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

  

برن(نیوزڈیسک)سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں نت نئی ایجادات اور مشینیں سامنے آرہی ہیںجسے انسان اپنے فائدے اور کام کی آسانی کیلئے استعمال کررہاہے لیکن اب ماہرین نے دعویٰ کیاہے کہ آئندہ 50سالوں میں انسان اور روبوٹس میں جنسی تعلقات عام ہوجائیں گے ۔دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان ٹیکنالوجی کو اپنی آسائش اور اطمینان کیلئے استعمال کرنے کیلئے نت نئے انداز میں ڈھال رہاہے ۔

یونیورسٹی آف سند رلینڈ کی ”جنسی تعلقات کی نفسیات “کی مشہور ڈاکٹرہیلن ڈریسکول نے اپنی نئی تحقیقات میں کہاہے کہ ماڈرن ٹیکنالوجی کا مطلب انسان کی بجائے مشینوں سے تعلق اور بھروسہ بڑھ جاناہے ،آنیوالے دور میںانسان اپنی جنسی خواہشات کیلئے بھی انسانوں کی بجائے روبوٹس پر زیادہ بھروسہ کرنے لگے گا،ڈاکٹر ہیلن ڈریسکول نے کہاکہ ”سیکس ٹیکنالوجی“بہت ترقی کررہی ہے اور 2070ءتک انسانوں کی بجائے ”روبوٹس “کیساتھ جنسی خواہشات پوری کرنے کارجحان بڑھ جائے گا۔حرکات کومحسوس کرنے کی ٹیکنالوجی سے لیس روبوٹس زندگی کا حصہ بن جائیں گے اورانسان آن لائن”پتلوں “کا آرڈر بھی کرسکیں گے۔

ڈاکٹر ہیلن ڈریسکول کا کہنا ہے کہ ہم موجودہ حالات میںدنیاوی (مجازی )حقائق اور روبوٹس کیساتھ جنسی خواہشات پوری کرنے سے متعلق سوچنا شروع کر رہے ہیں لیکن اگر ہم گزشتہ سو سال کے ”جنسی خواہشات “کے سماجی معیار پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو یکسر بدل دیا ہے۔انہوں نے کہاکہRobophilia ابھی اجنبی ہو سکتا ہے ، لیکن مستقبل میں یہ باتیں عام ہوجائیں گی کیونکہ انسانی رویے اب ٹیکنالوجی کے ساتھ گھل مل رہے ہیں۔

ڈاکٹر ڈریسکول کا مزید کہنا ہے کہ روبوٹس کیساتھ جنسی خواہشات کی یہ ”مجازی حقیقت“ اورزیادہ حقیقی اور عمیق بن جاتی ہے اور ایک انسان کےساتھ جنسی تعلقات کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے قابل ہے اس لئے کچھ لوگ اس ٹیکنالوجی کو انسان کیساتھ جنسی تعلقات پر ترجیح دیکر اس کا انتخاب کریں گے ۔ ڈاکٹرڈریسکول نے کہا کہ ”لوگ ان مجازی حقیقی شراکت داروں ”روبوٹس“کیساتھ محبت بھی شروع کر سکتے ہیں“۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -