قصور سکینڈل :ہائی کورٹ نے ہوم سیکرٹری ،آئی جی سمیت متعلقہ حکام کوطلب کرلیا

قصور سکینڈل :ہائی کورٹ نے ہوم سیکرٹری ،آئی جی سمیت متعلقہ حکام کوطلب کرلیا
قصور سکینڈل :ہائی کورٹ نے ہوم سیکرٹری ،آئی جی سمیت متعلقہ حکام کوطلب کرلیا

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قصور ویڈیوسکینڈل کے مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے اور اسے ٹرائل کے لئے فوجی عدالت میں بھجوانے کے لئے دائر درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری داخلہ، آئی جی پنجاب سمیت دیگر متعلقہ حکام کو آج12 اگست کوپیش ہونے کا حکم دے دیا ہے ۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے یہ حکم قصور کی رہائشی ثناءمراد سمیت متعدد افراد کی طرف سے دائر درخواست پر جاری کئے ، درخواست گزار کے وکیل آفتاب باجوہ نے موقف اختیار کیا کہ درندہ صفت گروہ گزشتہ 10برس سے معصوم بچوں کی زندگیاں برباد کرتے رہے اوربھتہ وصول کرتے رہے، میڈیا میں خبریں آنے کے بعد قصور جنسی سکینڈل کا پردہ فاش ہوا ۔ قصور کے رہائشیوں نے اپنے بچوں کو سکول بھیجنا بند کر دیا ہے، مذکورہ واقعہ کے 7 مقدمات تعزیرات پاکستان کی دفعات 377، 386، 387 اور 293 کے تحت درج کئے گئے ہیںجبکہ ملزمان متاثرہ بچوں کے والدین سے بھتہ وصول کرتے رہے اور پولیس نے درج کئے گئے مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی کوئی بھی دفعات شامل نہیں کی ہیں، جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6(K) کے تحت بھتہ خوروں کے خلاف مقدمہ کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ قانون میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت درج کئے گئے مقدمات کے ٹرائل بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں چلائے جا سکتے ہیں جبکہ پولیس نے تاحال گرفتار کئے گئے ملزموں کا ریمانڈ علاقہ مجسٹریٹ سے لیا ہے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے اور ایسے سنگین مقدمات میں عام ٹرائل کورٹ کو ٹرائل کا اختیار نہیں ہے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آرمی ایکٹ 1952 کی دفعہ 2 میں کی گئی ترمیم میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی دہشت گردی اور شہریوں کے عدم تحفظ کی سرگرمیاں پائی جائیں تو ان کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جائیں جبکہ مقامی پولیس ملزموں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس وجہ سے ملزموں کو انسداد دہشت گردی عدالت یا فوجی عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا بلکہ ان کا ریمانڈ علاقہ مجسٹریٹ سے حاصل کر لیا گیا ہے۔

قصور جنسی سکینڈل کا مقدمہ فوجی عدالت میںچلانے کا حکم دیا جائے اور سیکرٹری داخلہ پنجاب کو حکم دیا جائے کہ مقدمہ کی تفتیش کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائے اور چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ مقدمہ فوجی عدالت کو بھجوایا جاسکے ۔ انہوں نے مزید استدعا کی کہ علاقہ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کے روبرو قصور واقعہ کے مقدمات کی کارروائی روکنے کا حکم دیا جائے۔

مزید :

لاہور -