ارکان اسمبلی کی تفتیشی نظام کی درستی پر توجہ نہیں ہے،ہائی کورٹ

ارکان اسمبلی کی تفتیشی نظام کی درستی پر توجہ نہیں ہے،ہائی کورٹ
ارکان اسمبلی کی تفتیشی نظام کی درستی پر توجہ نہیں ہے،ہائی کورٹ

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے 67 سالہ مجرم کی پھانسی پر حکم امتناعی میں ایک روزکی توسیع کرتے ہوئے آج 12اگست کوایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ کو معاونت کے لئے طلب کر لیاہے ، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہمارا تفتیش کا نظام ناقص ہے اور دفعہ161 کے تحت گواہوں کے بیانات لکھتے ہوئے پولیس کی جان جاتی ہے ، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سزائے موت کے قیدی مقبول حسین کی پھانسی پر عمل درآمد کے خلاف درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے موقف اختیار کیا کہ سرائے سدھو پولیس نے مجرم مقبول حسین کو 1996 ءمیں6 افراد کے قتل کے جرم میں گرفتار کر کے چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کیا اور انسداد دہشت گردی عدالت نے2000ءمیں اپیل کنندہ کو 6 مرتبہ پھانسی کا حکم سنایا جبکہ جون 2006ءمیں لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ اور جولائی 2006ءمیں سپریم کورٹ سے مجرم کی سزا کے خلاف اپیلیں خارج ہو چکی ہیں، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت ملتان نے 30جولائی کو اپیل کنندہ کے بلیک وارنٹ جاری کئے ، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کو گرفتاری کے فوری بعد وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے لیکن پاکستان میں چالان عدالت میں پیش کرانے کے بعد ملزم کو وکیل کرنے کا حق دیا جاتا ہے جو کہ عالمی سطح پر رائج قوانین اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 10(1) کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اپیل کنندہ مقبول حسین کو گرفتاری کے بعد وکیل کرنے کا حق نہیں ملا ،اس کی سزا پر عمل درآمد روکا جائے۔ سٹینڈنگ کونسل طاہر محمود احمد نے عدالت میںموقف اختیار کیا کہ مجرم نے دوران ٹرائل آئین کے آرٹیکل 10(1) کے تحت وکیل نہ کئے جانے کا نکتہ نہیں اٹھایا، اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے ہاں ملزم کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ اسے کیوں گرفتار کیا گیا بلکہ اسے دوران تفتیش تشدد کا نشانہ بنا کر اقبال جرم کروایا جاتا ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس والے تو ملزم کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں اس لئے اسے گرفتار کیا گیا ہے، اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے جسٹس محمد منیر کے فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مقدمہ میں گرفتار ملزم کو فوری طور پر وکیل کرنے کا حق دینے کی بات کی گئی ہے، آئین کے مطابق کسی بھی مقدمہ میں تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے کے دوران ملزم کے وکیل کا پولیس کے ساتھ ہونا لازمی ہے اور اسی سے شفاف ٹرائل ممکن ہو سکتا ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کیوں نہیں پولیس آرڈر میں ترمیم کے لئے سفارشات دیتے ، اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں ایم پی اے یا ایم این اے نہیں ہوں میں تو ایک وکیل ہوں مجھے ترامیم کی سفارشات دینے کا اختیار نہیں یہ تو عوامی نمائندوں کا اختیار ہے جس پر مسٹر جسٹس مظہر اقبال سدھو نے ریمارکس دیئے کہ ممبران صوبائی و قومی اسمبلی کی توجہ پتہ نہیں کہاں ہے وہ تو یہ کام نہیں کریں گے، تفتیشی نظام کی درستی پر نظر نہیں ہے ،عدالت نے مزید قرار دیا کہ ہمارا تفتیش کا نظام ناقص ہے اور 161 کا بیان تحریر کرتے ہوئے پولیس کی جان جاتی ہے، عدالت نے 67 سالہ مجرم کی پھانسی پر حکم امتناعی میں ایک روزکی توسیع کرتے ہوئے آج ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ کو معاونت کے لئے طلب کر لیاہے۔

مزید :

لاہور -