اسامہ بن لادن کی یاد تازہ کرنے کے لیے خوفناک منصوبہ بنالیا، ہوائی جہاز کے مسافروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

اسامہ بن لادن کی یاد تازہ کرنے کے لیے خوفناک منصوبہ بنالیا، ہوائی جہاز کے ...
اسامہ بن لادن کی یاد تازہ کرنے کے لیے خوفناک منصوبہ بنالیا، ہوائی جہاز کے مسافروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں داعش کی طاقت بڑھنے سے القاعدہ بھی دوبارہ سر اٹھانے لگی ہے جس سے مغربی ممالک پر لرزہ طاری ہے کیونکہ القاعدہ نائن الیون کی طرح مغربی ممالک کے بڑے شہروں میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

برطانوی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک اطلاع دی ہے کہ شام میں جا کر شدت پسند گروپوں کے ساتھ لڑنے والے برطانوی باشندوں کو دھماکہ خیز مواد لے کر مغربی ایئرلائنز کے طیاروں میں سوار ہونے اور جہاز میں خودکش دھماکے کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ایجنسیوں کی اطلاع کے مطابق شدت پسند گروہ خورسان گروپ، جس نے القاعدہ سے الحاق کر رکھا ہے،اپنے شدت پسندوں کو شام بھیج رہا ہے تاکہ وہاں کے شدت پسند گروپوں میں لڑنے والے برطانوی، امریکی و دیگر یورپی شہریوں کی نشاندہی کر سکیں جو بم لے کر جہاز میں سوار ہو سکتے ہوں۔

برطانوی خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق یمن میں موجود خورسان گروپ کے اتحادی پہلے ہی ایسا بم تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو نظر نہ آ سکے اور اس کا سراغ لگانا مشکل ہو۔ یہ بم انسانی جسم کے اندر نصب کیا جا سکے گا تاکہ شدت پسند آسانی سے ایئرپورٹ سکیورٹی کی نظروں میں آئے بغیر جہاز میں سوار ہو سکے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں موجود خفیہ ادارے کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں کا حکم القاعدہ کے لیڈر ایمن الظواہری نے دیا ہے اور ان کا پہلا نشانہ امریکہ کے بڑے شہر ہوں گے، اس کے بعد لندن، پیرس اور دیگر بڑے یورپی شہر ان کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔

انٹیلی جنس حکام نے بتایا کہ ان حملوں کا مقصد اسامہ بن لادن کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جن کی سربراہی میں 11ستمبر 2001ء میں مبینہ طور پر القاعدہ نے امریکہ کے جڑواں ٹاورز پر حملے کیے تھے۔ خورسان گروپ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ گروپ افغانستان سے تعلق رکھنے والے 50سے 60بڑے شدت پسندوں نے مل کر قائم کیا ہے جو اب شام میں مغربی ممالک کے شہروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

آئی فون ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

مزید :

بین الاقوامی -