سسرال والوں نے اپنی بہو کا ایسا حال کردیا، وجہ ایسی شرمناک کہ جان کر آپ کے غصے کی بھی انتہا نہ رہے گی

سسرال والوں نے اپنی بہو کا ایسا حال کردیا، وجہ ایسی شرمناک کہ جان کر آپ کے غصے ...
سسرال والوں نے اپنی بہو کا ایسا حال کردیا، وجہ ایسی شرمناک کہ جان کر آپ کے غصے کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک) جہیز کی لعنت برصغیر میں بہت پرانی ہے ۔ اس لعنت کی وجہ سے لاکھوں ہنستے بستے گھر اجڑ چکے ہیں اور آئے روز نئی سہانی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے دوسرے گھر آنے والی بیٹیوں کو موت کے گھاٹ اتاراجا رہا ہے۔ کبھی کچن میں چولہا پھٹ جاتا ہے تو کبھی پنکھے سے لٹکا کر اس بدنصیب کی خودکشی کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔

گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ایسی ہی ایک بدنصیب دلہن کو ساس اور سسر نے زبردستی تیزاب پلا دیا۔ 23سالہ ریپا رانی پنڈت کے باپ سے اس کے سسرالیوں نے بھاری جہیز طلب کیا تھا۔ اس کے باپ نے آدھا جہیز شادی کے وقت دے دیا اورباقی آدھے جہیز کا وعدہ کر لیا کہ بعد میں دے دے گا لیکن وہ اس کے لیے رقم کا بندوبست نہ کر سکا جس پر ریپا کا سسر اسے گھسیٹتے ہوئے ایک کمرے میں لے گیاجہاں اس کا منہ زور سے کھول دیا اور اپنی بیوی کو اس کے منہ میں تیزاب ڈالنے کو کہا۔ اس کے بعد اسے تھپڑ مارے اور تیزاب نگلنے پر مجبور کرتا رہا۔

تیزاب سے ریپا کامنہ، گلہ اور خوراک کی نالی بری طرح متاثر ہو چکی ہے جسے اب ڈھاکہ میں ایک ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس کے والدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں ہماری بیٹی کی شادی ہوئی، شروع سے ہی سسرالی اس کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھے ہوئے تھے اور اس پر تشدد کرتے تھے، اسے کہتے تھے کہ اپنے باپ سے کہو پورا جہیز لا کر دے۔ گزشتہ روز ان کا ظلم حد کو چھو گیا اور انہوں نے ہماری بیٹی کو تیزاب پلا دیا جو اب ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ’’ہم ریپا کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بچ پائے گی یا نہیں، کیونکہ اس کے تمام زخم اندرونی ہیں اور ان کا علاج تقریباً ناممکن ہے۔ ڈھاکہ میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے خلاف کام کرنے والی این جی اوز اور شہریوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا جارہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ پولیس نے ریپا کے سسر کو گرفتار کر لیا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

آئی فون ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

مزید :

بین الاقوامی -