پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کی کمی اور بد عنوانی رہاہے،ممنون حسین

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کی کمی اور بد عنوانی رہاہے،ممنون حسین
 پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کی کمی اور بد عنوانی رہاہے،ممنون حسین

  

لاہور(فلم رپورٹر)اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدرِ مملکت مامون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کی کمی اور بد عنوانی رہاہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام "کھوئے ہووٗں کی جستجو"میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔پروگرام میں صدرِ مملکت اور خاتونِ اوّل بیگم محمودہ ممنون حسین کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا ۔معروف ادیب ،شاعر اور کالم نگار عطاا لحق قاسمی شریک گفتگو تھے۔صدر مملکت اور پاکستان کی خاتونِ اوّل نے بڑے دلچسپ انداز میں اپنی زندگی کے مختلف پہلو وں پر روشنی ڈالی اور گزرے دور کی بہترین روایات اور اقدار کا تذکرہ کیا ۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ موجودہ حکومت پاکستان کی ترقی کے راستے پر گامزن ہے ،بین الاقوامی سروے بتا رہے ہیں کہ پاکستان کی سمت درست ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں اگر ملکی وسائل کو اتنی بے دردی سے لوٹا نہ گیا ہوتا تو ہماری ترقی کی رفتار اس سے بھی زیادہ تیز ہوتی ۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو جتنا خراب ہونا تھا ہو چکا اب اسے ترقی کی راہ پر آگے بڑھنا ہے اور اس کی تعمیر و ترقی میں ہر محب وطن کو اپنا حصہ ڈالنا ہے۔خاتون اوّل بیگم محمودہ ممنون حسین نے کہا کہ بہترین معاشرے کی تشکیل کیلئے ہمیں دوسروں کو سنوارنے اور ان کی اصلاح سے پہلے خود کو سنوارنا اوراپنی اصلاح کرنا ہو گی ۔صدرِمملکت اورخاتونِ اوّل نے ماضی سے متعلق اپنی بھولی بسری یادوں اور روایات کا بڑے شگفتہ انداز میں تذکرہ کیا ۔صدرِمملکت نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کی اور ساتھ ساتھ گھر پر مختلف مضامین کے اساتذہ سے میٹرک تک سکول ایجوکیشن حاصل کی اور پرائیویٹ امتحان پاس کرکے کامرس کالج میں داخلہ لیا، ریاضی اور تاریخ پسندیدہ مضمون تھے ۔ایک سوال کے جواب میں صدر نے بتایا کہ وہ کرکٹر بننا چاہتے تھے۔اور سیاست میں آنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا والد صاحب کی خواہش پر ایک فیملی فرینڈ کی الیکشن مہم میں بھر پور حصہ لیا اور وہ کراچی میں سب سے زیادہ ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے اوراس کے بعد عملی سیاست میں سفر کا آغاز ہوگیا ۔اور1967-68 میں مجھے پاکستان مسلم لیگ کراچی کا جوائنٹ سیکریٹری بنا دیا گیا ۔کراچی میں پارٹی دفاترکو آرگنائز کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر سیاست میں دلچسپی نا ہونے کی وجہ سے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔

1993میں جب محمدنواز شریف کی جمہوری حکومت کو ہٹایا گیا تووہ کراچی آئے اوران کی خواہش پر میں اپنے دوست کے ساتھ ان سے ملنے گیا ،انہوں نے چیمبر آف کامرس میں ہڑتال کروانے پر میرا شکریہ ادا کیا۔پارٹی کیلئے میری گزشتہ خدمات جاننے کے بعداگلے دن پھرمیاں صاحب نے بلایا اور پارٹی کیلئے پھر سے سر گرم ہونے کیلئے کہا اور اس طرح ایک بار پھر عملی سیاست کا آغاز کر دیا ۔ پروگرام "کھوئے ہووٗں کی جستجو" میں بنیادی طور پر ہماری کھوئی ہوئی اقدار،روایات اورثقافت کی تلاش اور انہیں نئی نسل سے روشناس کروانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اس پروگرام کی میزبانی کے فرائض فائزہ بخاری نے ادا کئے جبکہ سکرپٹ رائٹر ابرار ندیم اور پروڈیوسر عمر خان ہیں ۔

مزید :

کلچر -