جمعرات کی ہڑتال سے عدلیہ بحال نہ ہوتی ؛ اعتزاز احسن

جمعرات کی ہڑتال سے عدلیہ بحال نہ ہوتی ؛ اعتزاز احسن

  

 روزنامہ ’’پاکستان‘‘ نے ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ میں شائع ہونے والے انٹرویوز کی اشاعت کا سلسلہ7 اگست2016ء سے شروع کیا ہے۔ اِن انٹرویوز کی تاریخی اہمیت ہے اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے قارئین کے لئے خاصے کی شے بھی۔ امید ہے قارئین کو یہ سلسلہ پسند آئے گا۔

(ایڈیٹر قومی ڈائجسٹ)

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چودھری اعتزاز احسن پاکستانی سیاست کا ایک بہت بڑا نام ہیں۔ ٹائم میگزین نے 2015ء میں ان کا شمار ان بیس لوگوں میں کیا جن سے زیادہ سیاسی اثرورسوخ کسی کا نہ ہو۔ انہوں نے عزت، شہرت اور عظمت کی بلندیوں کو چھوا ہے۔ ان کی کتاب "Indus Saga and Making of Pakistan" کا اردو ترجمہ ’’سندھ ساگر اور قیام پاکستان‘‘ کے نام سے بھی ہوا ہے ، پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ بھی ان کا ایک اور اعزاز ہے۔ اس کتاب نے ہند اور سندھ کی تہذیب کے حوالے سے اپنے پڑھنے والوں کو ایک نئی سوچ عطا کی ہے۔ اسی طرح انہوں نے ایک اور کتاب لارڈ میگنن ڈیسائی کے ساتھ مل کر Divided by Democracyتحریر کی۔ وہ لوگ جو اس بات کا کھوج لگانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط بنیادوں پر استوار کیوں نہیں ہوتی تو اعتزاز احسن کی کتاب کا وہ حصہ جو انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کے حوالے سے تحریر کیا ہے، ضرور مطالعہ کریں۔ ان کا طرز استدلال قاری کو بڑی حد تک ان کے نقطہ ء نظر سے ہم آہنگ کر دیتا ہے۔

مطالعہ کتب کے کسی بھی شائق کے لئے ان کی لائبریری کو وزٹ کرنا ایک خوشگوار تجربہ ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ وہ ایک صاحب مطالعہ شخصیت ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے ہیں اور وکلاء برادری کی آئینی اور قانونی جدوجہد کے محاذ پر ایک اور طرح کی تاریخ رقم کی ہے۔ صفِ اول کے وکیل ہیں، بلا کے مقرر اور کمال کے لکھاری ہیں۔ حال ہی میں دل کے عارضے میں مبتلا ہو کر ہسپتال جاپہنچے تھے۔ انٹرویو کے دوران ان سے ملنے کے لئے آنے والے ایک صاحب نے پوچھا کہ اعتزاز صاحب مجھے اخبارات سے پتا چلا ، خیریت تھی؟ کمال بے نیازی کے ساتھ سامنے پڑے ہوئے صفحہ پر نظریں جماتے ہوئے انہوں نے جواب دیا: ’’کوئی خاص بات نہیں تھی، بس دل میں ذرا میل آگئی تھی۔۔۔ نکلوادی!‘‘

آئیے ان سے گفتگو کا مزا لیتے ہیں۔

سوال:چودھری صاحب ، آپ کے عین پیچھے آویزاں تصویر جس میں ڈنڈوں سے لیس پولیس نے آپ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے ،کس لمحے کی ہے؟

جواب:یہ 28ستمبر 2007کی ہے، جب اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی برائے صدر پاکستان جمع کروانے آئے تھے۔ اس وقت الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں نے دھرنا دیا ہوا تھا کیونکہ کمیشن کے اندر داخل ہونے پر ان کی کافی پٹائی ہوئی تھی ۔ اس وقت ہم وکلاء سپریم کورٹ کے باہر مشرف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے جہاں پولیس نے مجھے سنگل آؤٹ کرکے میرے پیٹ میں اینٹ کا ٹکڑا مارا تھا اور مجھے گھیر کر لاٹھی چارج بھی کیاتھا۔ یہ اسی لمحے کی تصویر ہے۔ پولیس نے مجھ پر بڑا تشدد کیااور اگرزمرد خان نے میرے سر پر اپنے بازو کی ڈھال نہ بنا رکھی ہوتی تو میرا بچنا محال تھا۔ لاٹھی چارج اس قدر شدید تھا کہ زمرد کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ اس کا بازو نہ ہوتا تو وہ تمام لاٹھیاں میرے سر پر پڑتیں۔

سوال:یعنی وہ ریاست جسے آپ ’ماں کے جیسی‘ سے تعبیر کرتے ہیں ، آپ کے خلاف جبر پر آمادہ تھی۔

جواب:(ہنستے ہوئے )میرے ساتھ تو بڑا بڑا جبر ہوا ہے۔

سوال:چودھری صاحب! آپ کی جدوجہد ریاستی مشینری کے خلاف تھی یا ریاست پر قابض ہو جانے والے آمر کے خلاف تھی؟

جواب:ریاستی مشینری کے خلاف تو ہم نے کوئی جدوجہد نہیں کی۔ ریاستی جبر اور ریاست پر جو آمر براجمان ہو کر غاصبانہ قبضہ کرتے ہیں ان کے خلاف تھی۔

سوال:لیکن آپ کی جدوجہد کے مطلوبہ نتائج نہیں نکلے۔خاص طور پر اب جب کہ وہی آمر آرٹیکل 6 کی کارروائی کے باوجود ملک سے چلا گیا ہے تو گویا کہ وہ طاقتیں اور وہ عناصر آج بھی آپ کی اس جدوجہد کے مقابلے میں طاقتور ہیں جن کے خلاف آپ سوسائٹی اور اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے تھے؟

جواب:ہم نے دو سال تک جو خواب دیکھے تھے اور لوگوں کو دکھائے تھے ،پورے نہیں ہوئے۔ 9 مارچ 2007ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معزول کیاگیااور وہ حتمی طور پر مارچ 2009ء کو بحال ہوگئے تھے ۔ یہ جدوجہد تقریباً دو سال تسلسل سے چلی ، بیچ میں 20جولائی 2007ء کو 13ججوں نے میری دلائل سن کر انہیں بحال کیاتھا،میں نے عدالت میں ان کی وکالت کی تھی لیکن 3 نومبر 2007ء کو دوبارہ سے مشرف نے ایمرجنسی کے نفاذ سے مارشل لاء لگادیاتھا۔ اس تحریک کے دوران ساری دنیا نے دیکھا کہ افتخار محمد چودھری نے کوئی بیان نہیں دیا، کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی اور کوئی ٹاک شو اٹینڈ نہیں کیا۔ انہوں نے معزولی کے بعد جب پہلی مرتبہ مجھ سے رابطہ کیا اور سپریم جوڈیشل کونسل کے مقدمے میں وکیل کیا تو میں نے کہا کہ میں آپ کا وکیل ہو جاؤں گالیکن میری شرط ہوگی کہ اس کے بعد آپ کوئی سیاسی بیان یا انٹرویو نہیں دیں گے، آپ کا کوئی interactionمیڈیا سے نہیں ہو گا۔ انہوں نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے تو میں نے کہا کہ آپ چیف جسٹس آف پاکستان ہیں۔ میں آپ کوسیاسی میدان سے گزاروں گا، بہت دفعہ گزاروں گا، مجھے بڑی تحریک چلانا پڑے گی ، لیکن آپ صریحاً سیاسی میدان اور پلیٹ فارم پر آئیں گے تو بھی خاموش رہیں گے۔ اگر آپ نے تقریر کرنا ہوگی تو بار ایسوسی ایشنز میں کریں گے اور وکلاء سے صرف آئینی اور قانونی معاملات پر بطور چیف جسٹس خطاب کریں گے ، لیکن سیاسی صورت حال یا اپنے کیس سے متعلق کوئی بات نہیں کریں گے۔

سوال:اس کا کیا سبب تھا؟

جواب: انہوں نے بھی یہی پوچھا تھا۔انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ وہ تو حامد میر اور کاشف عباسی سے وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ ان کے پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ میں نے ان پر قدغن لگائی کہ آپ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ اگر آپ نے سیاسی بیانات جاری کرنا شروع کئے تو متنازع ہو جائیں گے۔ پھر آپ کے خلاف بھی بیانات آئیں گے اور سیاسی بحث میں الجھ کر آپ بھی سیاسی ہو جائیں گے جس سے آپ کا چیف جسٹس کے طور پر بحال ہونا مشکل ہو جائے گااورجج آپ کو بحال نہیں کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ آپ تو سیاستدان ہوگئے ہیں۔ اس لئے آپ کوئی بات نہیں کریں گے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دو سال تک میری تقریروں اور میری نظموں کے ذریعے موومنٹ کے بنیادی مقاصد اجاگر ہوتے رہے، میرے ساتھ علی احمد کرد اور منیر ملک صاحب بھی تقریریں کرتے تھے۔

سوال:چودھری صاحب! کیا یہ جدوجہد اور موومنٹ سیاسی تھی؟

جواب:بالکل سیاسی تھی۔

سوال:تو وکلاء اس میں کیا کر رہے تھے؟

جواب:وکلاء!....دیکھئے سیاسی تو اس لئے تھی کہ وہ سیدھی سادی ایک ڈکٹیٹر کے خلاف موومنٹ تھی، جو ریاست پر براجمان تھا۔ اس کے خلاف موومنٹ ہونی ہی سیاسی تھی۔ اس میں ایشو آئینی تھا لیکن عوام کی شمولیت کی وجہ سے وہ آئینی ایشو بھی عوام کے پلیٹ فارم پر چلا گیا۔

سوال:عوام کو آپ نے ارادتاً شامل کیایا وہ خودبخود ہو گئے؟

جواب:ہم نے عدلیہ بچاؤ تحریک میں عوام کو ارادتاً شامل کیاکیونکہ ہم نے ایک آمر کو بھگانا تھا، اسے نکال باہر کرنا تھا۔ تحریک اگر خالی وکلاء پر انحصار کرتی تو وہ دس بارہ سال بھی ہر جمعرات کو ہڑتال کرتے رہتے تو تحریک کامیاب نہ ہوتی۔ عدالتوں کو فرق پڑتا ، نہ آمر کو پڑتا جب تک کہ لوگ اس میں شامل نہ ہوتے۔ میں نے ، منیر ملک اور علی کُرد نے لوگوں کو خواب دکھائے تھے۔ہم تینوں بنیادی طور پر خواب دکھاتے تھے، عہدوپیمان کرتے تھے اور میں اپنی تقریروں میں بارہا کہتا تھا کہ ہم ایسا نظام لائیں گے جس میں ماتحت عدلیہ صحیح معنوں میں آزاد، غیر جانبدار اور خودمختار ہو گی۔ یہ خواب ہم نے ، وکلاء کی قیادت نے دکھائے تھے ، افتخار محمد چودھری نے نہیں دکھائے تھے۔ وہ تو تحریک کے دوران بولتے ہی نہیں تھے۔

سوال:وہ تو آپ کی ہدایت پر ایسا کر رہے تھے۔

جواب:جی، وہ میری ہی ہدائت پر خاموش رہتے تھے۔ میں ان کے ہمراہ ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتا تھا۔ میڈیا اگران کی طرف مائیک کرتا تو وہ میری طرف اشارہ کرکے کہتے کہ اعتزاز کی طرف جاؤ۔ اسی طرح جہاں کہیں بھی تقریرکرناہوتی ، میں ہی کرتا تھا، خواہ لالہ موسیٰ ہو، کھاریاں ہو، مندرہ ہو، گوجرانوالہ ہو، کامونکی ہویا پھر کراچی میں ،سیاسی تقریر میں کرتا تھا یا پھر علی احمد کرد اورمنیر ملک۔افتخار محمد چودھری بحال ہوئے تو بدقسمتی سے وہ عوام سے کئے گئے ہمارے وعدوں کو بھول گئے جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا کیونکہ وعدے تو ہم نے کئے ہوئے تھے جن کو پورا کرنے کی صلاحیت افتخار محمد چودھری بطور پاورفل چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس تھی اور جو تحریک میں ہمارے کولیگ تھے۔

سوال:چودھری صاحب کیا آپ بھی ان وعدوں پر عمل درآمد میں سنجیدہ تھے؟

جواب:ہم بالکل سنجیدہ تھے اور عوام کو دکھائے گئے خوابوں کی تعبیر بالکل ممکن تھی ۔ ایک چیف جسٹس کا کام ہی عدلیہ میں بہتری لانا ہوتا ہے، خاص طور پر ماتحت عدلیہ میں جہاں90 فیصد عوام کا قانون سے واسطہ پڑتا ہے،ورنہ تو ہائی کورٹ میں بہت کم لوگ آتے ہیں اور سپریم کورٹ میں تو اس سے بھی کم آتے ہیں، ہم نے لوگوں کو ماتحت عدلیہ کو درست کرنے کا خواب دکھایا تھا اور اس طرح سے اس خواب کی تکمیل ہونا تھا کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی!

سوال:تو وہ محض ایک نعرہ نہیں تھا؟

جواب:نہیں، نہیں۔۔۔!

سوال:کیونکہ اگریہی خواب ہوتاتو آپ تو اب تک اس کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ، افتخار چودھری کے ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہ پڑتا!

جواب:میں تو ماتحت عدلیہ میں اصلاحات کے خواب کی تلاش میں سرگرداں رہاہوں۔

سوال:لیکن وہ تحریک ختم ہوگئی اور۔۔۔مٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی۔۔۔ کے مصداق وہ خواب بھی ہوا ہوگیا !

جواب:تحریک نے ایک دفعہ تو ختم ہونا ہی تھا!

سوال:مقاصد کے حصول کے بغیر؟

جواب:افتخار محمد چودھری کو بحال کروانے کا بڑا مقصد حاصل ہواتو لوگوں کا کتھارسس ہوگیا۔ مجھے یاد ہے 16مارچ 2009ء لانگ مارچ کے موقع پر ابھی ہم گوجرانوالہ نہیں پہنچے تھے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے افتخار محمد چودھری کی بحالی کا اعلان کر دیا۔ اعلان کے ساتھ ہی گوجرانوالہ میں ریلوے اسٹیشن کے قریب جلسہ گاہ میں جو ڈیڑھ لاکھ آدمی ہمارا منتظر تھا، منتشر ہو گیا۔۔۔ اعلان ہونے کے آدھے گھنٹے کے اندر اندر لوگ گھروں کو واپس چلے گئے۔ ہم وہاں پہنچے تو ڈیڑھ لاکھ میں سے دو تین سو آدمی جلسہ گاہ میں بچے تھے اور نواز شریف اور میں نے گاڑی میں بیٹھ کر مائیکرو فون سے خطاب کیا کہ ٹی وی فوٹیج سے یہ شائبہ نہ گزرے کہ ہمارے ساتھ تو لوگ ہی نہیں تھے۔ عدلیہ بچاؤ تحریک کے حوالے سے لوگوں کے ایک آدرش کی تکمیل ہوئی تو انہیں سکون مل گیا ۔ اس کے بعد افتخار محمد چودھری کا فرض تھا کہ ان کو جو اختیار اور پاور ملی تھی اسے اپنے پرسنل ایجنڈے کے لئے استعمال نہ کرتے ۔

سوال:لیکن ان کی بحالی کے بعد عدلیہ میں تبدیلی کی ایک لہر تو دوڑی تھی ۔ ماتحت عدلیہ میں سمجھا جاتا تھا کہ انہیں چیف جسٹس کی طرح ایکٹو ہونا ہے۔

جواب:ایک ہوتی ہے Illusion of reality جسے سراب اور مفروضہ کہتے ہیں۔ وہ خواب کی ایک ایسی تعبیر تھی جو حقیقت نہ تھی ، محض ایک دھوکہ تھی۔ایک شخص نے عدالت میں شاہانہ انداز میں بیٹھ کر ایسے فیصلے صادرکرنا شروع کردیئے جواس خواب کی غیر حقیقی تعبیر تھی۔ خواب کی اصل تعبیر تب ہوتی جب چیف جسٹس اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے پہلے دو سال فوکس کرکے ماتحت عدلیہ کو میں اصلاحات کردیتے جو ہم نے سوچ رکھی تھیں اور وہ تمام عین ممکن تھیں۔ صرف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہی ان کو نا فذکر سکتے تھے۔ ہم نے چیف جسٹس کو ان اصلاحات کا باقاعدہ نقشہ بنا کردیا تھا کیونکہ وہی اس انقلاب کا Instrument تھے، لیکن وہ اپنے پرسنل ایجنڈا کی تکمیل میں لگ گئے اورانہوں نے اپنا سارا زوراپنا جاہ و جلال اور دبدبہ دکھانے میں لگادیا ۔ ان کی زندگی بڑی گاڑی، آگے پیچھے موٹرسائیکل اور جیپوں تک تھی،ان کی عدالت میں چیف سیکرٹری اور آئی جی طلب ہو رہے تھے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری میں ایک مغلیہ ذہنیت تھی اور چاہتے تھے کہ سب ان کے حضور میں کھڑے ہوں۔ وہ سارا سارا دن ساری انتظامیہ کو بٹھا ئے رکھتے تھے۔چیف جسٹس افتخار چودھری کا دوسرا ایجنڈا پیپلز پارٹی کی حکومت نہ چلنے دینا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم کو ڈس کوالیفائی کیا اورحکومت کو چلنے ہی یا۔میں آج پوچھتا ہوں کہ میمو گیٹ سکینڈل کاکیا بنا، سوئٹزرلینڈ حکومت کو خط لکھنے کاکیا بنا۔۔۔!میں کہتا رہا کہ ایسے خط پر عمل درآمد نہیں ہوگاماسوائے اس کے کہ آپ اپنے صدر کو ایک غیر ملکی مجسٹریٹ کے آگے سرنگوں کرنے کی خواہش پوری کرلیں گے ۔ پھر وہ بھی نہ ہو سکی ۔ سوئٹزرلینڈ والے بھی ایسا نہ ہونے دیتے۔ صدر اچھا ہو یا برا، خواہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جو اپنے صدر کو غیر ملکی مجسٹریٹ کے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور کرے۔ یہ اعزاز افتخار محمد چودھری کی سپریم کورٹ ہی کو حاصل ہوا۔

سوال:اس اعتبار سے تو زرداری صاحب کا آپ سے شکوہ درست تھا؟

جواب:زرداری صاحب اب بھی شکوہ کرتے ہیں۔ ان کا شکوہ تو بنتا ہے ۔

سوال:نوڈیرو میں تو جلسہ عام میں شکوہ کیا تھا؟

جواب:وہ تو کہتے تھے کہ یہ شخص ہی ٹھیک ہی نہیں ہے۔

سوال:آپ کو یہ باتیں کیوں سمجھ نہیں آئیں؟

جواب:عدلیہ بچاؤ تحریک کے دو سالوں کے دوران افتخار محمد چودھری نے حد سے زیادہ انکسار اور نرمی دکھائی اور وکلاء قیادت کی تابعداری کی ۔ لیکن بحال ہوتے ہی انہوں نے متکبرانہ انداز اپنا لیا۔

سوال:تو پھرجو تحریک آپ نے چلائی اس سے کیا حاصل ہوا؟

جواب:عدلیہ بچاؤ تحریک کے نتیجے میں عوام فتحیاب ،وکلاء متشدد اور جج متکبرہوگئے ۔عوام جب ایک دفعہ تحریک میں شامل ہوگئے تو مجھے افتخار چودھری کا قافلہ لے کر جی ٹی روڈ پر اسلام آباد سے لاہور کا سفر ساڑھے چھبیس گھنٹوں میں طے کرنا پڑا۔ ہم وکلاء دن سے رات اور رات سے پھر دن چڑھتا ہوا دیکھ کر حیران ہو گئے تھے۔ ہماری گاڑی جہاں کہیں سے گزرتی کوئی مرد ، کوئی عورت گھر بیٹھے ہی نہیں رہتے تھے۔ ہر کوئی سڑک پر ہوتا اور گاڑی کی سپیڈ توڑ دیتے تھے۔ عوام کی یہ فتح ایک مثبت چیز تھی۔ اگر ہم اس تحریک کو دھوکہ دیتے اور میں پرویز مشرف کی آٖفر قبول کرکے وزیر اعظم بن جاتا جس کے لئے انہوں نے مجھے باقاعدہ پیغامات بھیجے اوراس وقت میں ایم این اے بھی تھاتو عوام کے حوصلے پست ہو جاتے۔ اس سے قطع نظر اس تحریک کا براہ راست فائدہ کسی صحیح شخص کو ہو رہا تھا یا غلط شخص کو ہو رہا تھا، چاہے بعد میں افتخار محمد چودھری فرعون صفت ہی کیوں نہ نظرآیا۔۔۔ ان سب سے قطع نظر عوام کی فتح بڑی ضروری تھی۔ عدلیہ بچاؤ تحریک کے دوسرے دونوں ماحصل، یعنی متشدد وکلاء اور متکبر جج منفی نتیجے ہیں۔ آج وکیل اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ وہ عدالتوں کو تالے لگا دیتے ہیں ۔ یہ تو ہماری تحریک کا مقصد یا ہمارا خواب نہیں تھا۔اسی طرح ماسوائے چند ایک کے سارے جج متکبر ہوگئے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتااور کوئی ان کا احتساب نہیں کر سکتا۔ ان کو بھی طاقت مل گئی اور وہ بااختیار ہوگئے ۔ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ یہی آئین تھا، یہی قانون تھا مگر ججوں کے پاس اختیار نہیں تھا۔ میں کہا کرتا ہوں کہ 1988ء میں پیپلز پارٹی حکومت میں تو آئی ، اقتدار میں نہیں آئی تھی۔ اسی طرح عدلیہ بچاؤ تحریک کے بعد وہ جج صاحبان آئین اور قانون کے باوجود بے اختیار تھے، اچانک با اختیار اور پاورفل ہو گئے ہیں۔ ان میں سے بہت سارے بڑے متکبر ، بڑے زود پشیماں اور زود رنج ہوگئے ہیں اور ایسی عادتوں سے انصاف کی قدروں کی نفی ہوتی ہے۔

سوال: توگویا کہ ایک آمر کے خلاف بار کے کندھوں پر رکھ کر چلائی جانے والی بندوق سے خود بار کا اپنا کندھا چھلنی ہوگیا؟

جواب:بار میں بھی کچھ ایسے عناصر پیدا ہو گئے جو بااختیا ر ہوئے جو تشدد کا راستہ اپنانے کو ترجیح دے رہے تھے۔

سوال:کیا وہ قیادت کے کہنے میں بھی نہیں تھے، آپ کے کہنے میں بھی نہیں تھے؟

جواب:میں تو تحریک کے دوران ایک سال سپریم کورٹ کا صدر تھا۔ جب میری معیاد ختم ہوئی تو تحریک چلانے کے لئے وکلاء نے مجھے کلیدی پوزیشن میں رکھنے کے لئے ایک نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی اور مجھے اس کا چیئرمین تعینات کر دیا۔ یہ کمیٹی ججوں کی بحالی تک تک قائم رہی ۔ اس کمیٹی کے پلیٹ فارم سے میں پاکستان بھر کی بار ایسوسی ایشنوں کی نمائندگی کرتا، یوں تحریک کو لیڈکرتا رہا۔

سوال: انہی دنوں آپ نے اس وقت کے وزیر قانون کو وکلاء کے چنگل سے بچالیا تھا لیکن آپ بار کو نہ بچاسکے۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ بار کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا اور جب مطلب نکل گیا تو جان پہچان ختم ہوگئی؟

جواب:ایسا نہیں ہے ۔ بار نے تحریک میں ہراول دستے کا کام کیا تھا اور قوم کی خدمت کی تھی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب کسی اور طالع آزماکے لئے کسی جج کو ڈسمس کرنا آسان کام نہیں ہے۔ ماضی میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے مرضی کے جج رکھے تھے، جنرل یحییٰ خان نے بھی ایسا ہی کیا ،جنرل ضیاء الحق نے پی سی او نافذ کرکے آتے ہی ناپسند جج نکال دیئے تھے۔ انہوں نے چیف جسٹس یعقوب علی کو نکال کر مارشل لاء آرڈر کے تحت انوارالحق کو چیف جسٹس تعینات کردیا تھا ۔ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کو نکال کر ارشاد حسن خان کو چیف جسٹس لگادیا۔ 2007ء میں مشرف نے دوبارہ چیف جسٹس کو ہٹانے کی کوشش کی تو وکلاء نے بڑھ کر اس کے بازو مروٖڑ کر اسے عہدے سے فارغ کردیا اور پھر ایک جمہوری حکومت کو بھی مجبور کیا کہ چیف جسٹس کو بحال کرے ، اس اعتبار سے یہ وکلاء کا ایک بڑا کارنامہ ہے اور پاکستان کے عوام بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جنھوں نے وکلاء کا ساتھ دیا تھا۔

سوال:بلاشبہ، عوام نکل آئے تھے جو دھرنے کے دوران نہیں نکلے تھے۔ جب آپ نے تحریک کا آغاز کیا تو بے نظیر بھٹو صاحبہ حیات تھیں، ان سے بھی آپ کی بات چیت ہوتی ہوگی ۔ ان کا ردعمل کیسا ہوتا تھا ؟

جواب:بی بی شہید عدلیہ بچاؤ تو تحریک کے حق میں تھیں۔ اس تحریک کے تین حصے تھے:پہلا حصہ تھا 9 مارچ 2007ء سے 20 جولائی 2007ء تک کے عرصے پر مشتمل تھا۔9 مارچ کو افتخار محمد چودھری بطور چیف جسٹس معزول ہوئے اور 20جولائی 2007ء کو سپریم کورٹ نے ان کو بحال کیا ۔ ان کے مقدمے کی پیرو ی میں نے کی تھی۔ چیف جسٹس کے بحال ہونے کے بعد 3 نومبر 2007ء کو مشرف نے ایمرجنسی لگادی کیونکہ ان کو فکر لاحق ہوگئی تھی کہ سپریم کوٹ کہیں وردی اور ان کے بطور صدر ایک اور معیاد کے لئے الیکشن کو کالعدم نہ قرار دے دے۔ اس لئے انہوں نے 3 نومبر کو ایمرجنسی کی شکل میں مارشل لاء لگایا اور ججوں کو دوبارہ فارغ کرکے گرفتار کرلیا ۔ مجھے بھی 3نومبر کو ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔یہ تحریک کا دوسرا مرحلہ تھا ۔بی بی ابھی حیات تھیں۔ میں نے جیل سے بی بی کو پیغام بھیجا تو10نومبر 2007ء کو وہ چیف جسٹس کے گھر کی طرف گئیں جہاں انہیں رکاوٹوں اور خاردار تاروں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی افتخار محمد چودھری کو بحال کرائے گی اور اس کے گھر پر دوبارہ چیف جسٹس کا جھنڈا لہرائے گی۔ تو بی بی اس تحریک کے حوالے سے بڑی کلیئر تھیں ۔

پہلے مرحلے میں بھی ایک دفعہ میں نے بی بی سے شکائت کی کہ پنڈی بار تک کے سفر میں مجھے پیپلز پارٹی کے جھنڈے بہت کم نظر آئے ہیں۔ ہم نے اگلے مرحلے پر ایبٹ آباد بار سے خطاب کے لئے جانا تھا۔ بی بی نے ناہید خان اور صفدر عباسی کو ہدایات دیں کہ چیف جسٹس کے ایبٹ آباد جلسے میں جانے سے ایک دن پہلے ہر جگہ جھنڈوں ،بینرز اور پارٹی ورکرز کا انتظام کیا جائے اور تحریک میں بھرپور حصہ لیاجائے ۔ ہم ایبٹ آباد بار کو خطاب کرنے کے لئے نکلے تو 70منٹ کا سفر 12گھنٹے میں طے ہوا۔ راستے میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد تھی۔ پھر جب عام انتخابات کا اعلان ہوا تو وکلاء نے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا ۔ میں حقیقتاً بائیکاٹ کے حق میں نہیں تھالیکن چونکہ مجھے نظربند کیا ہوا تھا اس لئے میرے لئے اپنا پیغام بھیجنا ممکن نہ تھا۔ میری خواہش تھی کہ چالیس پچاس وکلاء جن میں علی احمد کرد ہوں ، منیر ملک ہوں اور باقی لوگ بھی ہوں الیکشن لڑ یں۔ ان کو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ بھی مل جائیں گے، مسلم لیگ(ن) کے بھی مل جائیں گے اور اس طرح یہ لوگ پارلیمنٹ میں آجائیں گے۔ لیکن باہر وکلاء نے بائیکاٹ کر دیا۔ اس اثنا میں بی بی نے مجھے این اے 124 ٹکٹ دے دیا۔ اسی دن نواز شریف میرے گھر پہنچ گئے اور انہوں نے میری بیوی بشریٰ اعتزاز کو ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنس میں اعلان کیاکہ اعتزاز کے پاس صرف پیپلز پارٹی کا ہی ٹکٹ نہیں ہے ، وہ نون لیگ کا بھی امیدوار ہے ۔ یوں میں دونوں پارٹیوں کا مشترکہ امیدوار بن گیا، لیکن میں نے صفدر عباسی کے ذریعے بی بی کو پیغام بھیجا کہ میں وکلاء کے ساتھ الیکشن کا بائیکاٹ کروں گا۔ بی بی نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ لڑیں۔ میں نے انکار کیا اور بائیکاٹ کی اجازت مانگی۔ بالآخر انہوں نے مجھے اجازت دے دی لیکن ساتھ ہی کہا کہ میری جگہ بشریٰ اعتزاز الیکشن لڑیں، چونکہ وہ دونوں بڑی جماعتوں کی مشترکہ امیدوار ہوں گی، اس لئے جیت بھی یقینی ہوگی۔ اس پر ہم میاں بیوی نے سوچا کہ یہ بڑا معیوب لگے گا کہ میاں الیکش کا بائیکاٹ کر رہا ہے اور بیوی لڑ رہی ہے۔ لوگ اسے منافقت سے تعبیر کریں گے۔ میں نے بی بی سے کہا کہ وہ بھی نہیں لڑسکتی۔ بی بی نے ہماری دلائل سے اتفاق کیا اور پھر میرے مشورے پر ٹکٹ دیا۔ اس لئے میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بی بی عدلیہ کی بحالی کے حق میں تھیں۔

سوال:اس وقت تک ایک آمر پورے طمطراق سے اقتدار پر براجمان تھا۔ بی بی کے ذہن میں ہوگا کہ عدلیہ بچاؤ تحریک ایک عوامی تحریک بن گئی تو آمر سے چھٹکارا مل جائے گا۔ جب کہ زرداری صاحب آئے تو اس وقت تک وہ آمر ایک عضو معطل ہو چکا تھا۔ چنانچہ آپ کو ان کی اس طرح سپورٹ نہیں رہی اور آپ کا کردار ایک پارٹی ہیڈ کے لئے جتنا اہم تھا، دوسرے کے لئے اتنا ہی غیر اہم ہوگیا۔

جواب: نہیں۔ میرا دونوں کے سامنے یہی موقف تھا کہ میں تحریک کا ساتھ دوں گا اور پیپلز پارٹی کو تحریک کا ساتھ دینا چاہئے۔ میرے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ زرداری صاحب کا موقف بی بی کے موقف سے ہٹ کر تھا۔ان کا خیال تھا کہ عبدالحمید ڈوگر ایک مناسب چیف جسٹس ہیں اور غیر جانبدار رہیں گے، جبکہ افتخار محمد چودھری کے بارے میں ان کی ذاتی رائے یہ تھی وہ غیر جانبدار نہیں رہیں گے ۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں ہے کہ افتخار محمد چودھری کے بارے میں زرداری صاحب کی رائے درست ثابت ہوئی ۔

سوال:اپنے عہدے سے معزولی سے قبل افتخار محمد چودھری کوامریکہ میں ایک ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ عدلیہ بچاؤ تحریک کے زمانے میں آپ کو امریکی سفیر سے ملاقاتوں میں کیا تاثر ملتا تھا، وہ کیسے سوچ رہے تھے؟

جواب:اس زمانے میں این پیٹرسن امریکی سفیر تھیں۔ وہ اکثر مجھے ملنے آتی تھیں۔ تحریک کے دوران کئی دفعہ آکر ملیں۔ ان کا ایک واضح اور غیر مبہم موقف تھا کہ امریکہ کی خواہش تھی کہ پرویز مشرف کی مخالفت نہ کی جائے۔ امریکی چاہتے تھے کہ مشرف اقتدار میں رہیں۔ امریکہ چاہتا تھا کہ میں عدلیہ بچاؤ تحریک میں نرمی پیدا کروں اور مائنس ون ، یعنی افتخار محمد چودھری کے بغیر باقی ججوں کی بحالی کا فارمولہ مان لوں۔ امریکی سفیر کی یہ رائے بہت صاف اور واضح تھی اور ان کی یہ رائے عدلیہ بچاؤ تحریک کی کامیابی تک قائم رہی، حتیٰ کہ جب عدلیہ بچاؤ تحریک کے حق میں پاکستانی عوام بھی نکل آئے تب بھی امریکہ کی یہی رائے رہی۔ جب پرویز مشرف کی اقتدار سے رخصتی یقینی ہوگئی تو اس وقت یعنی اگست 2008ء میں آکر امریکہ نے اپنی رائے تبدیل کی اور تسلیم کرلیا کہ مشرف کے لئے صدر برقرار رہنا ممکن نہیں ہے ۔

سوال:گویا کہ آپ نے بین الاقوامی ناظرین کو بھی یقین دلانا تھا کہ پاکستان میں صورت حال تبدیل ہوگئی ہے؟

جواب:جی۔

سوال:ایسا نہیں تھا کہ بین الاقوامی برادری آپ کے ساتھ کھڑی تھی اور سمجھتی تھی کہ آپ صحیح بات کر رہے ہیں ، بلکہ وہ آپ کو روک رہے تھے؟

جواب:جی۔ امریکیوں کی واضح رائے تھی۔ حتیٰ کہ امریکہ کا اگر کوئی سینیٹر یا کانگریس کا ممبر آتا تو وہ بھی ضرورمجھ سے ملنے کی خواہش رکھتے اور مائل کرنے کی کوشش کرتے کہ پرویز مشرف کے حوالے سے نرمی اختیار کی جائے۔

سوال:جب تک معاملہ وکلاء کی حد تک تھا تو کیا تب بھی آپ ، بی بی اور دیگر سیاسی جماعتیں سمجھتی تھیں عدلیہ بچاؤ تحریک عوامی تحریک میں بدل جائے گی ؟کیا آپ کو ایسا potentialنظر آرہا تھا؟

جواب:مجھے تو کامل یقین تھاکہ عدلیہ بچاؤ تحریک عوامی تحریک میں بدل جائے گی ۔ 9مارچ 2007ء کو چیف جسٹس معزول ہوئے۔ 28 مارچ 2007ء کو، یعنی 20دن بعد ہم وکلا ء نے فیصلہ کیا کہ وہ راولپنڈی بار سے خطاب کریں گے۔ البتہ اس حوالے سے بڑی بحث ہوئی۔ مجھ اکیلے کی رائے تھی کہ عوام کو بھی اس میں شامل کیا جائے اور میں نے تو مری روڈکی تاجرانجمنوں کے ساتھ بات کرلی تھی کہ چیف جسٹس مری روڈ سے گزریں گے توان کا والہانہ استقبال کیا جائے گا، لیکن میرے باقی کے وکلاء ساتھی نہیں مانے وگرنہ میں تو اسی دن دکھانا چاہتا تھا کہ ہمیں بار ایسوسی ایشن تک پہنچتے پہنچتے مری روڈ پر ہی14 سے15گھنٹے لگ جائیں۔اس پر بہت بحث ہوئی۔ حامد خان صاحب کی رائے تھی کہ ہمیں بروقت کنونشن پر پہنچنا چاہئے جبکہ میری رائے تھی کہ بروقت پہنچنے کی بجائے ہمیں اسے ایک ایونٹ بنانا چاہئے جو عوامی سطح پر پاپولر لگے ۔ تاہم میری بات نہیں مانی گئی۔ اسی طرح ہم نے 11اپریل کو پشاور جانا تھاتو بھی بہت بحث ہوئی۔ میری رائے تھی کہ ہم پشاور تک کا سفر جی ٹی روڈ پر کریں اور واہ اور ٹیکسلا وغیرہ سے گزرتے ہوئے پشاور پہنچیں تو راستے میں لوگ گھروں سے باہر نکلے ہوئے ہوں،جبکہ میرے ساتھی وکلاء کا خیال تھا کہ ہم بذریعہ ہوائی جہاز پشاور جائیں ، پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں ٹھہریں اور اگلی صبح سڑک پار کرکے پشاور بار میں منعقدہ کنونشن میں پہنچ جائیں۔ خاصی بحث و تمحیص کے بعد اس بات پر اتفاق ہوا کہ ہم برہان تک موٹر وے پر جائیں گے تاکہ زیادہ تاخیر نہ ہو۔ اس وقت تک برہان تک موٹر وے بن چکا تھا۔ اس سے آگے جی ٹی روڈ پر سفر کرنا تھا اور یوں میری صرف اتنی مانی گئی کہ کچھ راستہ تو بذریعہ جی ٹی روڈ طے ہونا چاہئے۔ چنانچہ برہان تک تو ہم آدھے گھنٹے میں پہنچ گئے، لیکن اس وجہ سے ہمیں واہ اور ٹیکسلا جیسے مردم خیز علاقے چھوڑنا پڑے جہاں بہت پبلک اکٹھی ہو سکتی تھی کیونکہ ان علاقوں میں مزدور بھی بے بہا تھے۔ اس کے باوجود برہان سے پشاور کے درمیان باقی پچاس میل کا سفر گیارہ گھنٹے میں طے ہوا اور یوں اس دن میرا پوائنٹ ثابت ہوگیاکہ عدلیہ بچاؤ تحریک کو عوامی تحریک میں بدلا جاسکتا ہے ۔ چنانچہ اس دن کے بعد سے طے ہو گیا کہ آئندہ ملک کے کسی بھی حصے کا سفر بذریعہ سٹرک ہی کیا جائے گا۔

سوال:باقی کی وکلاء قیادت بھی مان گئی؟

جواب:جی ۔۔۔ کیونکہ ان کو سمجھ آگئی تھی کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ چنانچہ 5مئی 2007ء کو جب لاہور کے لئے چلنا تھاتواس سے پہلے 2مئی کو میرے پاس پرویز مشرف کے پیغامبر آنا شروع ہو گئے کہ آپ تحریک کا ساتھ چھوڑدیں، چیف جسٹس کی ڈرائیوری چھوڑدیں اور وزیراعظم بن جائیں !

سوال:یہ باتیں بی بی کے علم میں بھی تھیں؟

جواب:مشرف کی جانب سے وزارت عظمیٰ کی پیشکش نہ صرف بی بی کے علم میں تھی،بلکہ افتخار محمد چودھری کے علم میں تھی ۔ میں نے اس بات کوکسی سے پوشیدہ نہیں رکھا تھا۔

سوال:مشرف کی جانب سے پیغامبرطارق عزیز تھے؟

جواب:وہ بھی تھے اور ان کے علاوہ دو اصحاب اور بھی تھے جوپرویز مشرف کے وزراء میں شامل تھے۔

سوال:کون کون سے وزراء تھے ؟

جواب:ان کے نام ابھی نہیں بتاؤں گا۔۔۔ وقت آنے پر بتادوں گا ۔

سوال:زاہد حامد تو نہیں تھے؟

جواب:میں مناسب موقع پر ہی بتاؤں گا۔ زاہد حامد تو میرا خیال ہے اس وقت وزیر نہیں تھے۔ البتہ یہ طے ہے کہ بیغامبروں میں وہ شامل نہیں تھے۔ جب 5مئی کے لئے سفر کرنا تھا تو آفروں کے بعد دھمکیاں بھی آنا شروع ہوگئیں کہ کوئی حملہ ہو جائے گا۔ بعد میں پرویز الٰہی بطور چیف منسٹر نے اعتراف بھی کیا تھا اور انکشاف کیا تھا کہ ان کو بتایا گیا تھا کہ پبی کے مقام پر جلوس پر حملہ کردیا جائے گااور یہ بھی کہ انہوں نے اس کی مخالفت بھی کی تھی۔ آخری حربے کے طور پر جب ہم عازم سفر ہونے والے تھے تو حکومت کی جانب سے تجویز آگئی وہ ہمارے لئے دو 737 بوئنگ جہاز چارٹر کر چکی ہے جس میں ہم تین ساڑھے تین سو وکلاء اسلام آباد سے لاہور جا سکتے ہیں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ محمد علی کی جانب سے یہ تجویز تحریری شکل میں آئی جس پر ہمارے وکلاء ساتھیوں نے اصرار کیا کہ جہاز پر ہی چلتے ہیں۔میں نے اس بات کی بھی مخالفت کی۔ اس پر وکلاء نے پوچھ اکہ ہم اس کی مخالفت کیسے کرسکتے ہیں۔ میں نے کہا طریقہ یہ نکالا کہ ڈسٹرکٹ بار جہلم شیخ افضل صاحب، ڈسٹرکٹ بار گجرات بدر دین صاحب اور ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ کے رانا شوکت صاحب کو فون کرکے کہا کہ وہ فوراً دعوت نامے فیکس کریں کہ چیف جسٹس اس مارچ کے دوران ان کی باروں سے بھی خطاب کریں۔ اگلے پندہ منٹ میں دعوت نامے آگئے تو میں نے محمد علی سے کہا کہ ہمیں ایسا جہاز چاہئے جو جہلم بھی رکے ، گجرات بھی اترے اور گوجرانوالہ بھی اترے تبھی ہم بائی ایئر جا سکتے ہیں ورنہ ہم بائی روڈ جائیں گے۔ چنانچہ حکومت نے اپنی کوشش ترک کردی اور ہم نے فقیدالمثال بائی روڈ سفر کیا جو اب پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔

پرویز مشرف کو بھگانے میں میرا ایک چھوٹا سا کردار ہے ۔ وکلاء کی لانگ مارچ تھی۔ جب جنرل کیانی کا فون آیا تو میاں نواز شریف میرے ساتھ گاڑی میں تھے۔ میں نے کیانی کے کہنے پر کال آف نہیں کی بلکہ جب اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ججوں کی بحالی کا اعلان کیا تو علی کرد اور منیر ملک کے مشورے سے کال آف کی۔

سوال:جب ججوں کی بحالی ہو گئی تو آپ کے کلائنٹوں کا بہت اصرار ہوگا کہ ان کے مقدموں کی جسٹس افتخار چودھری کے سامنے وکالت کریں؟

جواب:بالکل، سائل پیسوں کے سوٹ کیس بھر کر لانے لگے تھے کہ ان کے سامنے پیش ہو جاؤ۔ 24 مارچ کو وہ بحال ہوئے اور اسی روز میرے پاس کراچی کی پارٹیاں کیش رقمیں اور بلینک چیک لے کر آنا شروع ہوگئیں کہ ہمارا کیس اس کے سامنے لگا ہوا ہے۔ہمارا وکیل شریف الدین پیزادہ ہے لیکن اب آپ کو کرنا ہے ۔ ایس ایم ظفر وکیل ہیں، لیکن اب آپ کو کرنا ہے۔ خالد انور وکیل ہیں لیکن اب آپ کو کرنا ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کے سامنے پیش ہوں گا۔ میرے کئی دوست ناراض ہوئے کہ تمہیں فیس دیتے ہیں تو لیتے کیوں نہیں ، ہمارا حصہ بھی بن جائے گا، لیکن میں نے کہا کہ میں ان کا وکیل رہا ہوں، میں نے ان کو دو مرتبہ بحال کروایا ہے،میں ان کے سامنے پیش نہیں ہو سکتا۔ میں ارب ہا روپے بنا سکتا تھا اور کئی کولیگز نے بنائے بھی اور وہ ارب پتی ہو گئے ۔

***

مزید :

ایڈیشن 2 -