لوہاری گیٹ،نوجوان کے اغواکو11روزگزرگئے،مقدمہ درج نہ ہوسکا

لوہاری گیٹ،نوجوان کے اغواکو11روزگزرگئے،مقدمہ درج نہ ہوسکا

  

لاہور(وقائع نگار)لوہاری گیٹ میں 11 روز قبل اغواہونے والے 15سالہ نوجوان کاپولیس مقدمہ تو دور کی بات رپورٹ تک درج کرنے سے انکاری ،لواحقین انصاف کی فراہمی کے لئے دفتر پاکستان پہنچ گئے۔نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے مغوی 15سالہ سنیل کی والدہ آسیہ بی بی ،نانی زبیدہ بی بی اور چھوٹے بھائی نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ لوہاری کے علاقہ سید مٹھا بازار کے رہائشی ہیں ۔مغوی سنیل کے والد کا کئی ماہ قبل کرنٹ لگنے سے انتقال ہو گیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ اب سنیل ہی گھر کا واحد کفیل تھا اور وہ سنیارے کا کام کرتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ 11روز قبل سنیل گھر سے کسی کام کے سلسلے میں باہر گیا تھا کہ اس کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ۔گھر واپس نہ آنے پر ان کو تشویش ہوئی جس پر انہوں نے سنیل کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا ۔انہوں نے بتایا کہ وہ تھانہ لوہاری گیٹ ،داتا دربار اور بھاٹی گیٹ کے متعدد چکر لگا چکے ہیں پولیس اہلکار انہیں کبھی یہ کہہ کر ٹرخا دیتے ہیں کہ یہ ان کا علاقہ نہیں اور کبھی یہ کہ دیتے ہیں کہ جب سنیل ملے گا تو وہ ان کو آگاہ کر دیں گے لیکن پولیس کی جانب سے واقعہ کی رپورٹ درج نہیں کی جا رہی نہ ہی مقدمہ درج کیا جا رہا ہے ۔پولیس حکام نوٹس لیں اور ان کی دادرسی کی جائے ۔اس حوالے سے تھانہ لوہاری گیٹ اور بھاٹی گیٹ میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی درخواست ان کے پاس نہیں آئی جس پر کارروائی کی جائے البتہ آسیہ بی بی تھانہ میں آئی تھی جس نے اندراج رپورٹ یا مقدمہ کے لئے کوئی درخواست نہیں دی ۔

مزید :

علاقائی -