ترکی میں کیا ہو رہا ہے؟

ترکی میں کیا ہو رہا ہے؟
ترکی میں کیا ہو رہا ہے؟

  

ترکی پر پاکستان میں بہت بحث ہو رہی ہے۔ترکی میں جو کچھ ہوا اس پر اس وقت پاکستان میں دو قسم کی رائے عامہ نظر آرہی ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے حامی ترکی میں بغاوت کے بعد کے طیب اردوان کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف جمہوریت کے حامی ترکی کے حالات کو پاکستان کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ترکی میں جمہوریت کی بقا کی جنگ کو پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی جنگ سے ملانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ناکام بغاوت کے بعد ترکی میں بڑے پیمانے پر کی جانیوالی گرفتاریوں پر بھی شدید رد عمل سامنے آرہا ہے ۔ مغرب اس پر شور مچا رہا ہے۔ لیکن پاکستان میں بھی سیکولر اور لبرل جمہوریت کے حامی دانشو ر اس پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ ججوں کی معطلیوں پر تنقید اساتذہ کو نوکریوں سے نکالنے پر تنقیدسامنے آرہی ہے۔ ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ طیب اردوان اور فتح اللہ گولن کی لڑائی کوئی جمہوریت کی لڑائی نہیں۔ بلکہ یہ دو ملاؤں کی لڑائی ہے۔ اس وقت ترکی کی سیکولر قوتیں دونوں ملاؤں کی لڑائی میں ایک ملاکا ساتھ دینے کے لئے اس لئے مجبور ہیں کہ طیب اردوان کم تر برائی ہیں۔ اور کم ازکم جمہوریت پر تو یقین رکھتے ہیں۔

اس وقت ترکی میں کیا ہو رہا ہے۔ اس پر ہر جگہ بحث ہے۔ لیکن محترم امیر العظیم نے بتا یا کہ برادرم عبدالغفار عزیز ترکی کا ایک تفصیلی دورہ کر کے آئے ہیں۔ اس لئے عبد الغفار عزیز حب کے ساتھ ترکی کے موجودہ حالات پر ایک تفصیلی گپ شپ ہوئی۔ محترم اسد اللہ غالب بھی شریک گفتگو تھے۔ عبد الغفار عزیز نے بتایا کہ وہ نا کام بغاوت کے بعد حالات کو سمجھنے کے لئے ترکی گئے اور اس دورہ کے دوران ان کی ترکی کے سینئر عہدیداران سے بھی ملاقاتیں ہو ئی ہیں۔ عبد الغفار عزیز کی آنکھیں اور دماغ ترکی کا جو نقشہ کھینچتے ہیں وہ نہایت دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ترکی متحد ہے۔ ترکی کی سڑکوں پر لوگ ترکی کا پرچم لیکر چلنے میں فخر محسوس کر رہے ہیں ۔ جس کے پاس ترکی کا جھنڈا ہے سمجھیں وہ جمہوریت کا حامی اور بغاوت کا مخالف ہے۔ فتح اللہ گولن کی تحریک چونکہ جمہوریت مخالف ہے۔ وہ انتخابات میں حصہ لینے پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ ووٹ کی طاقت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس لئے سیکولر اور لبرل قوتیں ان سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔ لہٰذا ترکی کی سیکولر و لبرل جماعتیں جو ترکی میں ایک بڑا ووٹ بنک رکھتی ہیں۔ جو طیب اردوان کے مقابلے میں الیکشن لڑتی ہیں۔ وہ بھی گولن کے مقابلے میں طیب اردوان کے ساتھ ہیں۔ اس لئے جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس بغاوت کے بعد ترکی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ترکی تقسیم ہو رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ ترکی پہلے کی نسبت زیادہ متحد ہو گیا ہے۔

عبد الغفار عزیز کا موقف ہے کہ یہ بغاوت طیب اردگان کے لئے کوئی سرپرائز نہیں تھا۔ اس کا سب کو اندازہ تھا۔ یہ کشمکش بہت کھلی تھی۔ اس بغاوت میں ترکی کے آرمی چیف ملوث نہیں تھے۔ اسی لئے ان کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ البتہ ائیر چیف ملوث تھے۔ اور فوج کے جونیئر جنرل ملوث تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ طیب اردوان کو اس بغاوت کا پہلے علم ہو گیا تھا۔ اور اسی لئے اس کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے جس کی وجہ سے بغاوت کرنیو الوں کو اپنا پلان تبدیل کرنا پڑا۔ اور اس طرح پلان ناکام ہوا۔

جہاں تک طیب اردوان کے دورہ روس کا تعلق ہے تو محترم عبدالغفار عزیز کا موقف ہے کہ یہ دورہ بغاوت سے پہلے شیڈیول تھا۔ اور یہ ترکی کے نئے وزیر عظم کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس میں zero conflict کی بات کی گئی تھی۔ اسرائیل سے دوبارہ تعلقات قائم کئے گئے۔ جنرل الیسی سے بھی مراسم کھولے گئے اور روس سے بھی تنازعات حل کئے جا رہے ہیں کیونکہ ترکی کے نئے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ترکی دنیا میں zero conflict کی پالیسی لیکر چلے گا۔ یعنی کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہو گی۔اسی پالیسی کے تحت شام میں اسد کو قبول کرنے کا بھی بالواسطہ بیان دیا گیا لیکن عوامی رد عمل اور شدید تنقید پر اس کو واپس لیا گیا۔ لیکن اب یہ بات ہے کہ یہ تنقید اور رد عمل گولن کے حامیوں کی جانب سے زیادہ تھا۔ عبد الغفار عزیز کو ترکی میں ایسا کوئی تاثر نہیں ملا جس میں یہ کہا گیا ہو کہ یہ بغاوت روس کے صد ر پوٹن کی بر وقت اطلاع کی وجہ سے ناکام ہوئی۔ حالانکہ بین الاقوامی میڈیا میں ایسی باتیں آئی ہیں۔ لیکن ترکی میڈیا میں ایسی کوئی بات نہیں آئی۔

ترکی میں گولن کے سکول ایک خاص نصاب پڑھا رہے ہیں۔ جس میں بچوں کو ایک خاص ذہن اور فلسفہ کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ بچے آگے چل کر اپنی عملی زندگی میں بھی اس فلسفہ اور سوچ کو جاری رکھتے ہیں۔ یہ فلسفہ اور سوچ ترکی کے موجودہ نظام کے خلاف ہے۔ اس لئے اب ان سکولوں اور اس فلسفہ کے حامیوں کو نظام سے نکالا جا رہا ہے۔

مزید :

کالم -