عمران فاروق قتل کیس ،معظم علی کی درخواست ضمانت خارج

عمران فاروق قتل کیس ،معظم علی کی درخواست ضمانت خارج

  

اسلام آباد (آ ن لائن ) سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزم معظم علی کی درخواست ضمانت خارج کر دی اور قرار دیا ہے کہ شریک ملزمان کا معظم علی سے رابطہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے ، ریکارڈ کے مطابق 160شریک ملزمان کو معظم علی نے مالی معاونت فراہم کی اورملزمان قتل سے پہلے اور بعد رابطے میں تھے ،معظم علی کا عبوری چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کی جا چکا ہے اس لیے سپریم کورٹ کا معاملے میں مداخلت کرنا مناسب نہیں ہے ۔ بدھ کے روز کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سردار طارق مسعود پر مشتمل بنچ نے کی ۔ مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی تو ملزم معظم علی کے وکیل محمد شاہد کمال خان نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عمران فاروق کیس میں مقدمہ کے اندارج میں 5سال3ماہ تاخیر ہوئی،معظم علی نے شریک ملزمان کو لندن میں ایڈمیشن کے سلسلے میں معاونت فراہم کی ،معظم علی عمران فاروق قتل سازش کا حصہ نہیں وہ اس سے قبل بھی بے شمار طالب علموں کے داخلے میں مدد کر چکے ہیں ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ معظم علی عمران فاروق کو کیوں قتل کروانا چاہتے تھے ؟معظم علی قتل کی سازش میں ملوث تھے اس کے کیا شواہد ہیں ؟یہ کیسے ثابت ہوگا کہ معظم علی کا قتل کی سازش میں شریک ہیں ؟شریک ملزمان کے بیانات کے علاوہ معظم علی کی سازش میں شریک ہونے کیا ثبوت ہے ؟اس پر حکومتی وکیل سہیل محمود نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم محسن علی لندن سے معظم علی کو ٹیلی فون کرتا تھا،شریک ملزمان عمران فاروق کے قتل سے پہلے اور بعد میں ملزم معظم علی سے رابطے میں تھے ، معظم علی نے شریک ملزمان کو ایڈمیشن دلوانے میں پوری معاونت فراہم کی مالی معاونت بھی کرتا رہا، معظم علی ایم کیو ایم کے سرگرم کارکن ہیں اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دلیل کا مطلب ہے ملزمان پڑھائی کے لیے گئے اور وہاں جا کر قتل کر دیا ،کیا ویزے میں معاونت کرنے والے شخص کو قتل کے مقدمے میں ملوث کر دیا جائے گا ،پاکستان کے لاکھوں طالب علم بیرون ملک پڑھتے ہیں کئی والدین اپنی جمع پونجی لگا کر بچوں کو باہر بھیجتے ہیں اگر وہ قتل کر دیں تو انکے والدیں کو قتل کے مقدمے میں ملوث تو نہیں کیا جا سکتا ،اس پر ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ سکارٹ لینڈ یارڈ نے معظم علی کو ملزم قرار نہیں دیا ، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ لندن والے ساٹھ ساٹھ سال تک نہیں چھوڑتے ،اس پر وکیل ملزم کا کہا کہ میرے موکل پر کوئی الزام نہیں ہے الزام الطاف حسین اور انور پر ہے ، اس پر عدالت نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ ملزم عمران فاروق کو کیوں قتل کرنا چاہتا تھا ، اس پر حکومتی وکیل کا کہناتھا کہ ملزم ایک سیاسی تنظیم کا سرگرم کارکن ہے ، جبکہ وکیل ملزم کا کہناتھا کہ مقتول پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے باہر گیا ، کوئی اور بھی مار سکتا تھا ، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ جو بھی غیر قانونی طور پر جائے گا تو اسے مار دیا جائے گا ؟اس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ مقدمہ کی ایف آئی آر پانچ سال بعد درج کی گئی ، اس پر عدالت نے ایف آئی کے افسر سے استفسار کیا کہ ایسے شواہد بتائیں جو ملزم کو عمران فاروق قتل سے جوڑتے ہوں ،باہر بھیجنا ، تعلیمی ادارے میں داخلہ لے کر دینا ،یا سیاسی جماعت سے وابستگی کوئی جرم نہیں ہے ، اس پر ایف آئی اے افسر کا کہنا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل کے مقدمے ملوث دیگر شریک ملزمان اور معظم علی کے گہرے تعلقات ہیں ،محسن علی نے اعتراف کیا کہ اس نے عمران فاروق کو قتل کیا ،محسن علی بیرون ملک سے معظم علی کے فون پر کال کرتا تھا جس پر خالد شمیم بھی اس سے بات کر تا تھا ، اس کے بعد عدالت نے ملزم کے وکیل کو سننے کے بعد ملزم معظم علی کی درخواست ضمانت خارج کر دی ۔

عمران فاروق

مزید :

صفحہ اول -