قومی اسمبلی کا اجلاس ، وزیر داخلہ سے توتکار، اپوزیشن کا بائیکاٹ ، وزیر اعظم مناکر واپس لے آئے

قومی اسمبلی کا اجلاس ، وزیر داخلہ سے توتکار، اپوزیشن کا بائیکاٹ ، وزیر اعظم ...

  

 سلام آباد( اے این این) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سیدخورشیدنے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ آخر ہم کب تک لاشیں اٹھاتے اور محض دعائیں کرتے رہیں گے، نیشنل ایکشن پلان کیا صرف ایک صوبے کیلئے ہے؟، سیٹلائٹ سے زمین پر پڑی سوئی کی تصویر بن جاتی ہے تو دہشت گرد کیوں نظر نہیں آتے،سیکورٹی ذمہ داران کو پارلیمنٹ طلب کرکے جواب طلبی کی جائے، فی الفور پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی بنائی جائے ،پارلیمنٹ کو آج تک ضرب عضب پر اعتماد میں نہیں لیا گیا، دہشت گردی کیخلاف جنگ اسلام کیخلاف یہودی سازش ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر تین بجے سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا ۔ وقفہ سوالات کے بعد قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ 10 اگست قومی اسمبلی کا یوم تاسیس ہے جب 1947ء میں ا س کا وجود عمل میں آیا تھا ۔ قومی اسمبلی کا مقصد عوامی مسائل کا حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے سانحہ کوئٹہ پر کہا کہ آخر ہم کب تک لاشیں اٹھاتے اور محض دعائیں کرتے رہیں گے۔ ہم نے دہشت گردی کیخلاف ہر سطح پر حکومت سے تعاون کیا ۔ پارلیمنٹ سے فوجی عدالتیں منظورکرائی گئیں اور اپوزیشن نے تائید کی۔ ہم نے حکومت کو مشکل میں نہیں ڈالا محض کسی تنظیم یا ایجنسی کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی جان نہیں چھڑانی چاہیے ۔ اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ کوئٹہ حملہ سی پیک کو نقصان پہنچانے کیلئے ہے پارلیمنٹ کو آج تک ضرب عضب پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ حیرت ہے کہ دہشت گرد کیوں نہیں پکڑے جاتے۔ سہولت کاروں کو سیاست سے بالاتر ہوکر پکڑا جائے ۔ سندھ میں دہشت گردی کے واقعات کے تمام سہولت کار پکڑے گئے ہیں مگر باقی صوبوں میں دہشت گردی کے سہولت کار کیوں نہیں پکڑے جاتے۔ نیشنل ایکشن پلان کیا صرف ایک صوبے کیلئے ہے؟، امتیازی سیاست بند کی جائے۔ پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی فی الفور بنائی جائے۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایوان میں باتیں ہورہی ہیں حالانکہ اسٹیبلشمنٹ بھی اسی ملک کا حصہ ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں جوتقاریر ہوئیں وہ باعث افسوس ہیں۔ وزیراعظم آتے جاتے رہیں گے لیکن جو شہید ہوگئے وہ کبھی نہیں آئیں گے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ اسلام کیخلاف یہودی سازش ہے۔ منفی تقاریر سے دہشت گردوں کی مدد نہ کرو۔ سیٹلائٹ سے زمین پر پڑی سوئی کی تصویر بن جاتی ہے تو دہشت گرد کیوں نظر نہیں آتے۔ سیکورٹی ذمہ داران کو پارلیمنٹ طلب کرکے جواب طلبی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ آج سے 69 سال پہلے کراچی میں پاکستان کی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا تھا اور سندھ نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ بعدازاں وزیر قانون زاہد حامد نے قومی اسمبلی کے یوم تاسیس پر قرارداد پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طورپر منظور کرلیا۔

خورشید شاہ

اسلام آباد( اے این این ) وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ کوئٹہ دھماکہ کوئی معمول کا واقعہ نہیں تھا اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی اور یہ سائنسی طورپر منظم حملہ تھا، وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایاگیاہے کہ کچھ شواہد ملے ہیں چند روز میں حقائق سامنے آجائیں گے، حالات کی خرابی کی ذمہ دار کوئی ایک حکومت یا سیاسی جماعت نہیں یہ سالہا سال کا گند ہے، فوجی اور سیاسی قیادت کی کوششوں سے ملک میں امن کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی ، گزشتہ دورحکومت میں دھماکہ نہ ہوتو خبر بنتی تھی اب دھماکہ ہوتو خبر بنتی ہے ، حالات کو بہتر بنانے میں فوج کیساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں ، تمام صوبوں کی پولیس نے بھی اہم کردار ادا کیا، سیکورٹی اداروں سے متعلق ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جوان کیلئے تضحیک آمیز تھے ،ایسے بیانات فورسز کے مورال کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں ،سکیورٹی اداروں کیخلاف بیانات ناقابل قبول ہیں۔سول اور فوجی قیادت میں ہم آہنگی ہے ، تمام فیصلے مشاورت سے کیے ، ہم نے قومی اداروں کو سیاسی مخالفین کے نہیں دہشت گردوں کے پیچھے لگا رکھا ہے اور یہ پہلی بار ہوا ہے، قومی شناختی کارڈ زکی تصدیقی مہم کے دوران اور بہت سے خرابیاں نکلیں،29ہزار غیرملکیوں کے جعلی پاسپورٹ منسوخ کردیئے گئے ،عوام تصدیقی مہم میں خود بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں،کوئی افغان اگر کسی پاکستانی خاتون سے شادی کرے گا تو افغان ہی رہے گا اور اس کے بچے بھی افغانی کہلائے جائیں گے اور کسی افغانی کے بچوں کو شناختی کارڈز جاری نہیں کئے جائیں گے ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں سانحہ کوئٹہ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ آج کے وزیراعظم کے زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کئی مسائل پر بات چیت نہیں ہوئی اجلاس میں اس بات پر مکمل اتفاق تھا کہ اڑھائی سال میں سیکورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے پیر یا منگل کو ایک اور اجلاس ہوگا جس میں تمام وزرائے اعلیٰ کو بھی بلایا جائے گا اس اجلاس میں تفصیلی غورہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ سیکورٹی کا مسئلہ کئی سال پرانا ہے۔ 2013ء میں جب ہم نے اقتدار سنبھالا اس وقت ملک میں روزانہ 5 سے 6 دھماکے ہوا کرتے تھے ۔ 2009ء اور 2010 میں سالانہ2 ہزار دھماکے ہوئے میں پوائنٹ سکورنگ میں نہیں جانا چاہتا اس وقت اسلام آباد تک محفوظ نہیں تھا ریڈ زون میں حملے ہورہے تھے ایک گورنر مارا گیا ، جی ایچ کیو ، بحریہ اور فضائیہ کے بیسز پر حملے ہوئے۔ ا نہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی ریاست میں سالانہ 2ہزار متواتر حملے ہوں تو اس میں کیا باقی رہتا ہے آج تبدیلی سول ملٹری اتفاق اور سیاسی اتحاد سے آئی ہے آج دھماکہ ہو تو خبر نتی ہے تب دھماکہ نہ ہوتو خبر بنتی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں سول اور فوجی قیادت میں ہم آہنگی ہے ہم نے تمام فیصلے سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت کی مشاورت سے کیے ۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں چاہے مشرف کا دور ہو،شوکت عزیز یا جمالی کا دور ہودہشت گرد سول قیادت سے بات چیت کیلئے تیار نہیں ہوئے تھے انہوں نے فوج کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دی، پہلی بار ان لوگوں نے سول حکومت کے ساتھ بات پر آمادگی ظاہر کی وہ پہاڑوں سے نیچے آ ئے اور بات چیت کے تین ادوار ہوئے بات چیت تسلی بخش انداز سے آگے بڑھ رہی تھی لیکن اس دوران ہی ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم سے ڈبل گیم کھیلی جارہی ہے ایک طرف مذاکرات ہورہے ہیں اوردوسری طرف ہمارے محلے، گلیاں ، سکول اور ہوائی اڈے محفوظ نہیں تھے ایک طرف بات ہورہی تھی اور دوسری طرف ہمارے لوگوں کو یرغمال بناکہ دباؤ ڈلوایا جارہا تھا انٹیلی جنس اداروں نے ایسی کئی رپورٹس وزیراعظم کو دیں اسی دوران وزیراعظم نے خاموشی سے سے سول ملٹری بات چیت شروع کی جو اپریل 2014ء میں شروع ہوئی جون میں تین اہم اجلاس ہوئے تین ماہ بات چیت جاری رہی جس دن کراچی ایئربیس پر حملہ ہوا اس سے اگلے روز اجلاس میں وزیراعظم فیصلہ کرچکے تھے کہ بس بہت ہوگیا اب دوسرا آپشن استعمال کرنا ہے پھر افغان صدارتی الیکشن کے بعد 14جون کے آپریشن کافیصلہ کیا گیاسیاسی جماعتوں سے بھی بات کی گئی تحریک انصاف کو آپریشن پر تحفظات تھے تاہم سب جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آپریشن کی مخالفت نہیں کرینگے چنانچہ فوجی آپریشن تمام جماعتوں کے اتفاق سے ہوا عوام کی حمایت کے بغیر کوئی آپریشن مکمل نہیں ہوسکتا۔ چوہدری نثار نے کہاکہ فوجی اور سیاسی قیادت کی کوششوں سے ملک میں امن کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی ، دنیا کے عالمی ادارے پاکستان کے آپریشن کو کامیاب ترین قرار دے رہے ہیں۔ عالمی سروے میں تسلیم کیا گیا کہ حالات میں بہتری آئی ہے اس سال دہشت گرد کے کل 181 واقعات ہوئے ہیں اگر یہ اعدادوشمار 2ہزار سے نیچے آتے ہیں تو آوازیں کسنے کے بجائے مل کر کوشش کریں اور اسے صفر پر لائیں۔ انہوں نے کہاکہ حالات کو بہتر بنانے میں فوج کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں ، تمام صوبوں کی پولیس نے بھی اہم کردار ادا کیا پولیس نے اسلحے اور تربیت کے بغیر دہشت گردوں کا بہترین مقابلہ کیا ہے۔ سول آرمڈ فورسز نے بھی مجاہدانہ کردار ادا کیا قومی ایکشن پلان میں ان سب کا کردار ہے، ڈیڑھ سال میں قومی ایکشن پلان کے حوالے سے میں نے کبھی بھی کسی صوبائی حکومت پر تنقید نہیں کی ، کمزوریوں کی باضابطہ نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ واقعہ اندوہناک ہے لیکن وہ دن بھی یاد کریں جب ہر روز دھماکے ہوتے تھے اور لوگ مایوس ہوچکے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم تہیہ کرلیں کہ یہ آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والے بدترین لوگ ہمارے درمیان اختلافات نہیں ڈال سکیں گے اورہمیں خوفزدہ اور مایوس نہیں کرسکیں گے ہم ان کا مقابلہ کریں گے تو فتح یقینی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کل ایوان میں سیکورٹی صورتحال کے حوالے سے تقاریر ہوئیں ان پر بہت افسوس ہوا۔ ہمیں مشکل ترین وقت میں فوج ، پولیس اور دیگر فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہیے لیکن جو آواز یہاں سے آئی وہ کسی غیر ملک کی پارلیمنٹ سے آتی تو بھی قابل مذمت تھی کوئی حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں اپنی بات اور عمل کا خود ذمہ دار ہے اس پر بھی کسی کو بیان بازی یا آواز کسنے کی ضرورت نہیں ۔ ایوان میں ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو انٹیلی جنس اور سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے تضحیک آمیز تھے ایسے بیانات فورسز کے مورال کو کمزور کرنے کا عمل ہے ایوان سے متفقہ پیغام جانا چاہیے کہ یہاں بیٹھا ہررکن افواج پاکستان ، سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کاوشوں ، قربانیوں اور کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کوئی حکومت میں ہویا حکومت سے باہر میں ایسے بیانات کی مذمت کرتا ہوں ۔ ایسے موقع پر اس قسم کے بیانات قابل قبول نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ درست ہے کہ ہمارے دوست قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں ان کے اس کردار کا احترام کرتا ہوں اگر واقعی آپ کا کردار ظلم کے خلاف ہے تو کاش اس ایوان میں ان کی آواز’’را‘‘ کے خلاف بھی اٹھتی۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ کوئٹہ کوئی معمول کا حملہ نہیں تھا اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی اور یہ سائنسی طورپر منظم حملہ تھا۔ دہشت گردوں کو پتہ تھا کہ وکیل رہنما کے قتل کے بعد تمام وکلاء ہسپتال میں اکٹھے ہونگے اس لئے انہیں ہسپتال میں ٹارگٹ کیا گیا۔ اس حملے کے حوالے سے آج وزیراعظم کو بریفنگ میں کچھ شواہد ملے ہیں اس میں چند روز مزید لگیں گے اور حقائق سامنے آجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایس آئی اور آئی بی سمیت تمام خفیہ ادارے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل انٹیلی جنس شیئرنگ کررہے ہیں ، ہم نے قومی اداروں کو سیاسی مخالفین کے نہیں دہشت گردوں کے پیچھے لگا رکھا ہے اور یہ پہلی بار ہوا ہے، اگر ہم نے ایک ڈیڑھ سال تک اتحاد اور اتفاق برقرار رکھا تو دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچ جائے گی اور اس میں کامیابی ہماری ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ فوجی آپریشن کا مطالبہ اپوزیشن کا تھا لیکن فوجی عدالتوں کے قیام کی تمام جماعتوں نے حمایت نہیں کی یہ عدالتیں ہم نے مخالفین کو سزا دینے کیلئے نہیں دہشت گردوں کیلئے بنائی ہیں غیر معمولی حالات سے نمٹنے کیلئے غیر معمولی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبوں کے ساتھ اجلاس کے بعد میں ایوان کو تفصیلی طورپر اعتماد میں لوں گا، ہمیں وسیع النظری اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ فوجی عدالتیں چند ماہ کی مہمان ہیں سخت قانون لانا ہماری مجبوری ہے کیونکہ ہمارا مقابلہ جن لوگوں سے ہے وہ کسی قانون، مذہب اور انسانیت کو نہیں مانتے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ پاکستان کے اہم ترین محکموں میں اندھیر نگری مچائی گئی اور ڈرون حملے میں مارے جانے والے افراد کا شناختی کارڈ بھی پاکستان میں بنا جب کہ تصدیقی مہم کے دوران ڈیڑھ ماہ کے دوران ساڑھے تین کروڑ شناختی کارڈ کی تصدیق کی جاچکی ہے اور 29 ہزار غیرملکیوں کے جعلی پاسپورٹ منسوخ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی تصدیق قومی مہم ہے جس میں عوام اور میڈیا دونوں کا تعاون حاصل ہے، خاندانوں کی تصدیق کیلئے 35 لاکھ پیغامات موصول ہوئے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام تصدیقی مہم میں خود بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔وزیرداخلہ نے کہا کہ افغان اگر کسی پاکستانی خاتون سے شادی کرے گا تو افغان ہی رہے گا اور اس کے بچے بھی افغانی کہلائے جائیں گے اور کسی افغانی کے بچوں کو شناختی کارڈز جاری نہیں کئے جائیں گے، شناختی کارڈ کی تصدیق کے دوران اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو ریکارڈ کی درستگی کیلئے پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی جاسکتی ہے۔

چودھری نثار علی

اسلام آباد( اے این این ) وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے ہمیں کمزور نہیں کرسکتے،کوئٹہ دھماکا کرنے والے وہی عناصر ہیں جنہوں نے بینظیر بھٹو کو قتل کیا،سی پیک دشمن کو ہضم نہیں ہورہا ، دہشت گردی کا ہر واقعہ ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے، پہلے سے زیادہ قوت سے آگے بڑھیں گے اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا کر رہیں گے، قومی سلامتی کے ادارے درست کام کررہے ہیں ، کسی کو خوشحال پاکستان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے،کشمیر کے موجودہ حالات میں ہم خاموش نہیں رہ سکتے ۔بد ھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ میں انتہائی غم زدہ کیفیت میں اس ایوان سے مخاطب ہوں کوئٹہ میں ہونے واقعہ پوری قوم کو غم زدہ کرگیا ہے، اپنے پیاروں کی شہادت پر دکھ ہے ، دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے ہمیں کمزور نہیں کرسکتے، نیا غم ہمارے لیے نئی قوت کا باعث بنتا ہے، دہشت گردی کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے اوراس سلسلے میں پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر طبقہ دہشت گردی سے متاثر ہے کوئٹہ میں ہائی کورٹ بار کے صدر کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد ہسپتال میں وکلا اور صحافیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، یہ واقعہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا جس کے پیچھے کام کرنے والا ذہن انتہائی مکروہ عزائم کا حامل ہے کوئٹہ دھماکا کرنیوالے وہی عناصر ہیں جنہوں نے بینظیر بھٹو کو قتل کیا، آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا، صفورا گوٹھ میں معصوم شہریوں اور کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ مکروہ لوگ ا من کے دشمن ہیں ، ہم پاک چین اقتصادی راہداری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ سی پیک دشمن کو ہضم نہیں ہورہا ، دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد رہنا ضروری ہے۔ قوم کا اتحاد ہی شیطانی قوتوں کو منہ توڑ جواب دے سکتا ہے قومی سلامتی کے ادارے درست کام کررہے ہیں ۔ پاکستان کو محفوظ بنانا ہمارا مشن ہے۔ نیشنل ایکشن پلان ہر قیمت پر مکمل کریں گے ۔ انٹیلی جنس ادارے دن رات کام کررہے ہیں ۔ سینکڑوں ناپاک منصوبے ناکام بنائے گئے آج کا پاکستان پہلے سے محفوظ اور توانا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں متحد ہیں اور مربوط انداز میں کام کررہی ہیں، کسی کو خوشحال پاکستان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے ۔نواز شریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف پاکستان نے بھرپور انداز میں آواز اٹھائی اور ہم کشمیر کے موجودہ حالات میں ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ وزیراعظم کے خطاب کے بعد اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے دہشت گردی کیخلاف اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہاکہ حکومت اکیلے نہیں لڑ سکتی ، دہشت گردوں کے خلاف قومی جنگ ہونی چاہیے اور تمام پارٹیوں کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔دوسری طرف قومی اسمبلی میں وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کی تقریر کیخلاف حزب اختلاف کاایوان سے واک آؤٹ،وزیراعظم نوازشریف روایت سے ہٹ کر خودمنالائے ۔بدھ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر داخلہ کی تقریر کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں نے واک آؤٹ کیا تو وزیراعظم اپنے وزراء کے ہمراہ خود اپوزیشن کی لابی میں گئے اوراسے منا کر واپس لائے جس کا اراکین نے بھرپور خیر مقدم کیا۔بعدمیں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا‘ عام روایات سے بالکل ہٹ کر وزیراعظم خود منا کر اپوزیشن کو ایوان میں واپس لائے۔ وزیراعظم کے اس طرز عمل کی قدر کی جانی چاہیے۔ ایم کیو ایم کے سید آصف حسنین نے بھی وزیراعظم کی جانب سے خیر سگالی کے اس جذبے کو سراہا۔ ایوان میں موجودگی کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی بڑی تعداد نے وزیراعظم سے ان کی خیریت دریافت کی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم لندن میں اپنے علاج کے بعد پہلی بار قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

مزید :

صفحہ اول -