50 اعلیٰ ری پبلکن سکیورٹی حکام کی ٹرمپ کے خلاف بغاوت

50 اعلیٰ ری پبلکن سکیورٹی حکام کی ٹرمپ کے خلاف بغاوت

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن پارٹی کے دونوں بالترتیب صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ 8 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنی انتخابی مہم زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہیلری کو اس وقت اپنی پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور اہم عہدیداروں سمیت مکمل داخلی حمایت حاصل ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا معاملہ مختلف ہے۔ ری پبلکن پارٹی نے ٹرمپ کو صدارتی ٹکٹ ضروری جاری کیا ہے لیکن اس کی اہم شخصیتیں کھلے عام یا درپردہ اس کی تائید کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ کو ایک تازہ جھٹکا یہ لگا ہے کہ ری پبلکن پارٹی کی سابقہ حکومتوں سے متعلق 50 کے قریب اعلیٰ سکیورٹی حکام نے ایک دستاویز پر دستخط کرکے کھلے عام اعلان کر دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کی حمایت نہیں کریں۔ اس دستاویز کو سب سے پہلے ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ نے جاری کیا ہے جس کے بعد دوسرے میڈیا نے بھی رپورٹ کیا ہے۔ یہ دستاویزی عہد کرنے والے رچرڈ نکسن سے لے کر جارج ڈبلیو بش تک کی حکومتوں میں کام کرنے والے 50 اعلیٰ سکیورٹی حکام میں ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جان نیگرو پونٹے، سی آئی اے ڈائریکٹر مائیکل ہائیڈن کے علاوہ ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے وزراء مائیکل چرٹیف اور ٹام رج شامل ہیں۔

اس دستاویز کے ذریعے ان سابقہ اعلیٰ حکام نے صاف طور پر کہا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ہوگیا تو وہ امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ لاپرواہ اور غافل صدر ہوگا۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ٹرمپ نے مسلسل یہ ثابت کیا ہے کہ اسے امریکہ کے اہم قومی مفادات کی بہت کم انڈر سٹینڈنگ ہے اور اسے بالکل معلوم نہیں ہے کہ پیچیدہ سفارتی چیلنجوں کا کیسے مقابلہ کرنا ہے۔ دوسرے صدور کے برعکس ٹرمپ نے ان معاملات کے بارے میں کبھی آگاہی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یقیناً اس دستاویز سے ٹرمپ کی انتخابی مہم کو شدید جھٹکا لگے گا لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے ٹرمپ نے اپنے جوابی بیان میں کہا ہے کہ ان حکام کی وجہ سے عالمی معاملات اس وقت الجھے ہوئے ہیں۔ معاملہ صرف ان حکام کا نہیں مسلسل ری پبلکن پارٹی سے وابستہ کانگریس اور سینیٹ کے ارکان اور چیدہ چیدہ شخصیتیں ٹرمپ کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کر رہی ہے۔ اس وقت میڈیا سے وابستہ تقریباً 10 گروپ انتخابی جائزے پیش کر رہے ہیں جن پوائنٹس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے لیکن ان تمام میں ہیلری کو ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔ واضح رہے کہ 8 نومبر کو ہونے والے بالواسطہ صدارتی انتخابات ملک بھر میں قائم پولنگ سٹیشنوں میں عام ووٹر ووٹ ڈال کر الیکٹورل کالج کے 538 ارکان کا چناؤ کریں گے اور جو امیدوار 270 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا وہ صدر بن جائے گا۔ امریکہ کے رجسٹرڈ ووٹرز پر کوئی پابندی نہیں ہے وہ کسی پارٹی کے رکن ہیں نہیں وہ کسی پابندی سے بالاتر ہوکر آزادی سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں۔ پورے ملک میں ہونے والی آٹھ نومبر کو ہونے والی پولنگ چونکہ خفیہ ہوگی، اس لئے مبصرین کا اندازہ ہے کہ ری پبلکن سے باقاعدہ منسلک ارکان یا اس سے ہمدردی کرنے والے عام ووٹر میں سے جو ٹرمپ کی ناپسندیدہ پالیسیوں کے باعث اس سے نالاں ہیں، اس کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔ انتخابی جائزوں میں بھی یہ ظاہر ہو رہا ہے اور فی الحال ہیلری کلنٹن کے حق میں جا رہے ہیں، لیکن آئندہ 11 ہفتوں میں کیا ہوتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -