لندن سے خصوصی تجزیہ راجہ اسد علی خان

لندن سے خصوصی تجزیہ راجہ اسد علی خان

  

آج اوول میں پاکستان اور انگلینڈ کا چوتھا میچ ، کیا نتیجہ نکلے گا؟ پاکستان ٹیم نے انگلینڈ میں تین میچ کھیلے جن میں سے ایک جیتا اور دو ہار گئی، اگر سیریز کی شکست سے بچنا ہے تو اب آخری میچ جیتنا ہوگا اگر ایسا ہوگیا تو سیریز برابر رہ جائیگی۔ اس لئے ٹیم کی ساری توجہ یہ آخری میچ جیتنے پر مرکوز ہوگی۔ ٹیم میں تبدیلیاں متوقع ہیں اور ٹوور سلیکشن کمیٹی سوچ رہی ہے کہ افتخار احمد کو اظہر علی کے ساتھ اوپننگ کروائے، اوول کی وکٹ سے گھاس ختم کر دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ رنز بن سکیں اور پاکستان کے باؤلرز کو کوئی مدد نہ مل سکے۔ میچ سے ایک روز پہلے پاکستان کے کپتان مصباح الحق سے جب میڈیا نے سوال کیا کہ انگلستان کے بعض باؤلرز کے حوالے سے بال ٹمپرنگ کے الزامات ہیں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں جبکہ انگلینڈ کے کپتان الیسٹر کک نے ان خبروں کو بکواس قرار دیا۔ پاکستان کی ٹیم گزشتہ روز بارہ بجے اوول پہنچی اور معمول کے مطابق پریکٹس کی۔ یہاں پر پاکستان کے سینئر کرکٹر نے بتایا کہ پاکستان کے سیریز کو برابر کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یونس خان سمیت تمام بیٹسمین ناکام ہو رہے ہیں۔ مرکزی باؤلر محمد عامر بھی نہیں چلے۔ دوسری طرف میچ کی تمام ٹکٹیں فروخت ہوچکی ہیں۔ پاکستانیوں کا میچ کی طرف رجحان اور دلچسپی قدرے کم ہے۔ لندن کا درجہ حرارت دن کے وقت 19 ڈگری ہوگا جو کرکٹ کے لئے انتہائی سازگار ہے۔ بارش کا واضح امکان نہیں جبکہ جزوی طور پر بادل چھائے رہیں گے۔ پاکستان کی اس سیریز میں کارکردگی ماسوائے پہلے ٹیسٹ کے انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ یہاں انگلستان میں مقامی تماشائی گزشتہ دو ٹیسٹ میچوں میں اپنی ٹیم کی شاندار کامیابی پر بہت خوش ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ انگلینڈ اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ اوول انگلستان کی واحد کرکٹ گراؤنڈ ہے جہاں پاکستان کا جیت کا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ 2010ء میں پاکستان نے اس میدان میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن 2006ء میں انضمام الحق نے اس میدان میں انگلینڈ کے خلاف میچ کے دوران ٹیم میدان سے باہر بلوا لی تھی۔ تاریخی اعتبار سے عبدالقادر اور مشتاق احمد اپنی لیگ بریک کا شاندار جادو اسی میدان میں چلا چکے ہیں۔ اب یاسر شاہ کیا کریں گے یہ شروع ہونے والے میچ میں دیکھنا ہوگا۔

اوول میچ

مزید :

صفحہ اول -