ضلعی انتظامیہ نے کسانوں کو 2012سے فرضی زرعی ٹیکس کے نوٹس بھجوادیئے

ضلعی انتظامیہ نے کسانوں کو 2012سے فرضی زرعی ٹیکس کے نوٹس بھجوادیئے

  

 لاہور(محمد نواز سنگرا)صوبے بھر کے متعدد اضلاع و تحصیلوں کی انتظامیہ نے عدلیہ کے واضح احکامات کے برعکس کسانوں کو 2012سے 1016تک کا فرضی زرعی ٹیکس کے نوٹسز بھجوا کر کسانوں کو پیشہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے ۔وفاقی حکومت کی طرف سے خصوصی سبسڈی پر مبنی زرعی پیکج کو ہوا میں اڑاتے ہوئے انتظامیہ نے زمینداروں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے ۔ماہ جولائی کے وسط سے اگست تک کئی اضلاع میں ٹیکس نوٹسز بھجوا دیئے ہیں ۔جس پر کسانوں نے بھر احتجاج کرتے ہوا کہا ہے کہ ایک طرف گندم،چاول،کپاس اور گنا سمیت تمام اشیاء کی قیمتوں میں خطر ناک حد تک کمی تو دوسری طرف ضلعی حکومت کی طرف سے بھجوائے گئے زرعی انکم ٹیکس نوٹسز نے کسانوں کا جینا محال کر دیا ہے ۔ جوکسان کئی کئی سالوں سے ایک مخصوص ٹیکس رقم ادا کرتے تھے ان کو کئی گنا زیادہ ٹیکس نوٹسز بھجوا دئیے گئے ہیں جس سے کسان طبقہ بے حد پریشان نظر آتا ہے۔دوسری طرف اہم اجناس جن میں گندم، چاول،کپاس اور گنا کی قیمتیں بھی انتہائی کم ہو نے کی وجہ سے کسان گزشہ تین سالو ں سے مسلسل خسارے میں جا رہا ہے اور فصلوں کی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں ہوتی ۔جس کے باعث کسان نے اپنا پیشہ بھی ترک کرنے پر غور شروع کر دیا ہے اور فصلیں اگانے کی بجائے کسان کی زیادہ توجہ مویشی پروری پر ہے جس سے وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔موجودہ حکومت نے جہاں فصلوں کی قیمتیں انتہائی کم کر دی وہاں سبسڈ ی کا جھانسہ دے کر کسان کا دل جیتنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن حکمران کسان کی محنت کے بل بوتے بوتے پر اگائی جانیوالے اجناس کی قمتیں دینے سے عاری ہیں جس وجہ سے گزشتہ تین سالوں سے کسان پس گیا ہے اور پیشہ چھوڑنے پر لگ گیا ہے ۔اس حوالے سے ضلع شیخوپورہ کے رہائشی رضوان تصور اور خالد تصور نے بتایا کہ وہ آباؤ اجداد سے اپنی زمینوں پر چاول کی فصل اگا رہے ہیں جس پر وہ سالانہ 33سو روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور اب ان کو 9ہزار کے ٹیکس نوٹسز بھجوا دیئے گئے ہیں جبکہ آمدنی کا تخمینہ لگوائے بغیر نوٹس بھجوائے گئے ہیں اور ضلعی انتظامیہ نے عدالتی احکامات کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔ان کے علاوہ بھی درجنوں کسانوں نے ’’روز نامہ پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکمرانوں نے کسان کا کچومر نکال دیا ہے اور ملکی آمدنی میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے شعبہ زراعت کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔حکومت بغیر تخمینہ ٹیکس نوٹسز کا سلسلہ فی الفور بند کرے۔اس حوالے سے صوبائی وزیر زراعت کے ترجمان نے بتایا توصیف صبیح نے بتایا کہ مرحلہ وار کسانوں کو مکمل طور پر ریلیف دیا جا رہا ہے ٹیکس نوٹسز بورڈ آف ریونیو کی طرف سے بھجوائے جا رہے ہیں جس پر کسانوں کی آواز کو آگے پہنچائیں گے۔یوریاکھاد پر ٹیکس 17فیصد دے کم کر کے5فیصد ،امپورٹڈ مشینری پر43سے 9فیصد اور زرعی ادویات پر ٹیکس بالکل نہیں ہے۔

تیکس نوتسز

مزید :

صفحہ اول -