بچوں کو تعلیم مل رہی ہے تربیت نہیں

بچوں کو تعلیم مل رہی ہے تربیت نہیں

  

بچوں کی زندگی ماں باپ کے گرد گھومتی ہے۔ بچہ ہر معاملے میں ان کا محتاج نظر آتا ہے۔ اپنی زندگی کا ہر مشورہ اور فیصلہ بچے اپنے ماں باپ کی مرضی سے کرتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ تعلیم کے بغیر دنیا میں بہت سی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ یہ تعلیم ہے جو انسان کو نکھارتی اور سنوارتی ہے۔

جوں ہی بچہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا ہے ماں باپ اُسے دنیا وی تعلیم میں مصروف کر دیتے ہیں۔ جیسے بچہ سمجھ دار ہونے لگتا ہے ماں باپ اُس پر زور دینا شروع کر دیتے ہیں۔ کہ وہ ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بن کر ان کا نام روشن کرے۔

سوال پید ہوتا ہے کہ ماں باپ کا اصل مقصد بچوں کو دنیاوی تعلیم دینا ہی ہوتا ہے؟ کیا تعلیم اور تربیت کے موازنے میں تعلیم کو برتری حاصل ہے؟ ان سوالوں کا جواب یہ ملتا ہے کہ ماں باپ بچوں کی تربیت نہیں کر رہے بلکہ صرف تعلیم حاصل کرنے پر ہی زور دے رہے ہیں۔

کتابیں رٹنے سے بچہ امتحان میں اول تو آسکتا ہے لیکن اخلاقی طور پر وہ اُس وقت ہی اول آئے گا جب اُس کے ماں باپ اس کی اچھی تربیت کریں گے۔ ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں۔ ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

اگر ماں باپ کا رویہ سب کے ساتھ اچھا ہو گا تو بچوں کا بھی رویہ سب کے ساتھ اچھا ہو گا۔ اگر ماں باپ کسی کے ساتھ بُرا سلوک کریں گے تو بچہ بھی سب کے ساتھ بُرا سلوک کرے گا۔ بزگوں کی اہمیت کیا ہے، بڑوں کے ساتھ حسن سلوک کیسے کرنا ہے سب کچھ ماں باپ ہی بچوں کو سکھاتے ہیں۔

آج کے دور میں ماں باپ بچوں کو موبائل فون، انڑنیٹ، سوشل میڈیا کا فرد بنا دیتے ہیں۔ اُن پر نظر رکھنے کی بجائے انہیں کھلی چھوٹ دے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچے اخلاقیات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

ماں باپ بچوں کی غلطیوں پر ان کو روکنے کی بجائے ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ماں باپ بچوں کی غلطیوں پر ان کو روکیں گے تب ہی بچہ اچھی تربیت پا سکے گا۔

حقوق العباد کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت کرنا، سب انسانوں سے محبت کرنا۔ ان کے درد کو اپنا درد سمجھنا، ان کی خوشی میں شریک ہونا ہے۔ بچہ حقوق العباد صرف اس وقت سیکھ سکتا ہے جب ماں باپ اس کو سکھائیں گے۔

ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی اچھی تربیت بھی کریں تاکہ وہ معاشرے میں ایک اچھا انسان بن سکیں اور علم وادب کے تقاضوں سے اچھی طرح واقف ہو جائیں۔

اولاد کی تعلیم وتربیت میں والدین کا اہم کردار ہے۔ والدین چاہیں تو اپنی اولاد کی اچھی یا بُری تربیت کریں لیکن انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو بہتر انسان بنائیں۔ انہیں اچھے بڑے کی تمیز سکھائیں۔ آج کے دور میں اولاد کی اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی پرورش کی بھی بہت ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی اچھی تربیت بھی کریں تاکہ ہمارے معاشرے سے بڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -