امورِ صحت کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت

امورِ صحت کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت
 امورِ صحت کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت

  

تعلیم اور صحت دو ایسے شعبے ہیں، جو دُنیا کے بیشتر ممالک میں حکومت کی ذمہ داری سمجھے جاتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم اور صحتِ عامہ پر سب سے زیادہ بجٹ بھی اِسی لئے مختص اور خرچ کیا جاتا ہے کہ یہی دونوں شعبے ہر حکومت کی اولین ترجیح ہوتے ہیں۔بادشاہت ہو یا جمہوریت، آمریت ہو یا فسطائیت، غرضیکہ ہر اندازِ حکومت میں صحت اور تعلیم پر پوری توجہ مرکوز کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہ دونوں شعبے پہلی ترجیح کے طور پر رکھے جاتے رہے ہیں، ہر بجٹ میں ایک خطیر رقم دونوں شعبوں کے لئے مختص کی جاتی ہے ،یہ الگ بات کہ ہم نے دفاعی امور کو خاصی اہمیت دے رکھی ہے،لیکن ہماری طرح کے دوسرے ترقی پذیر ممالک میں معاملہ اِس سے ذرا مختلف ہے۔ اگرچہ ہر دور میں آنے والے حکمرانوں نے تعلیم و صحت کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے کئے اور ہنگامی اقدامات کے اعلانات بھی ہوئے، لیکن دونوں شعبے ابھی تک اُس حقیقی توجہ سے محروم ہیں، جن کے وہ متقاضی ہیں۔صحت کا معاملہ تو بہت ہی سنجیدہ اور نہایت توجہ کا طالب ہے، کیونکہ اس کا تعلق انسانی زندگی اور صحتِ عامہ سے ہے۔ بڑے شہر تو اپنی جگہ، چھوٹے چھوٹے گاؤں میں بھی صحت سے متعلقہ سہولتوں کی فراوانی نہایت ضروری ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

بڑے بڑے شہروں کے ہسپتال بھی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ بعض ڈسپنسریوں اور ہسپتالوں کی عماراتیں تو بہت خوبصورت ہیں، لیکن علاجِ معالجے کی ناپید ہیں۔ کہیں ڈاکٹر نہیں تو کہیں پیرا میڈیکل سٹاف عنقا۔ پروفیسر یا سینئر سرجن فیزیشن تو بڑی دور کی بات ہے، جونیئر ڈاکٹر، جنہیں آج کل ’’ینگ ڈاکٹرز‘‘ کا نام دیا گیا ہے، اُنہیں تلاش کرنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے۔ اکثر ہسپتالوں میں تو وارڈ بوائے سے ملنے کے لئے باقاعد سرچ آپریشن کرنا پڑتا ہے۔ ایک بیڈ پر تین تین، چار چار مریض پڑے دیکھنا ہمارے ہاں معمول کی بات ہے۔ کارڈیک(دِل کے) ہسپتالوں میں ویل چیئر پر بیٹھے کئی مریض خود ڈرپ ہاتھ میں پکڑے دکھائی دیتے ہیں، وہ ایک ہاتھ سے دِل تھامتے ہیں اور دوسرے سے ڈرپ۔ اکثر ہسپتال تو ایسے بھی ہیں جہاں ایمرجنسی کا شعبہ ہی سرے سے موجود نہیں۔ ان میں لاہور کا بڑا ہسپتال گردانے جانے والا شوکت خانم بھی شامل ہے، اِسی طرح کے کئی دیگر طبی مراکز شعبہ حادثات سے محروم ہیں، کئی ہسپتال والے تو حادثات میں زخمی ہونے والوں کا علاج کرنے ہی سے انکار کر دیتے ہیں۔ ایم ایل سی مریض لینے سے اس طرح کتراتے ہیں ، جیسے وہ کیس ان کے گلے پڑ جائے گا۔پنجاب میں کئی بار یہ اعلان کیا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں کے پارکنگ سٹینڈ فری ہیں، لیکن عملاً ایسا نہیں، سٹینڈ کے ٹھیکیدار فیس ادا نہ کرنے والوں کی نہ صرف توہین کرتے ہیں، بلکہ اُنہیں تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی نہیں کتراتے۔

اس حوالے سے ایک خوش آئند امر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں صحت کو لازمی سروس قرار دے دیا گیا ہے اور آئے روز ہڑتال کی کال دینے والے ڈاکٹروں یا ماتحت عملے کی حوصلہ شکنی کے لئے بھی سخت ترین اقدامات کئے گئے ہیں۔ پنجاب میں بھی اس قسم کے فیصلے کئے جانے چاہئیں۔ اِس سلسلے میں تجویز یہ ہے کہ تمام ہسپتالوں کو ہر قسم کے زخمی یا مریض کو ابتدائی طبی امداد دینے کا پابند بنایا جائے، جس بھی طبی مرکز کے ساتھ ہسپتال کا لفظ تحریر ہو ، وہاں ایمرجنسی یونٹ کی تمام سہولتیں مفت کر دی جائیں، جس سے سرکاری ہسپتال میں رش کم پڑے اور صاحبِ حیثیت مریض فرسٹ ایڈ کے لئے اپنے قریبی سنٹر پر رجوع کرنا شروع کر دیں گے۔ امورِ صحت میں ریسکیو 1122 ایمرجنسی کا کردار بھی بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ عام شہریوں کے لئے بڑی معاون، مفید اور مدد گار ثابت ہو رہی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سروس کو بھی بعض مسائل کا سامنا ہے، ایمبولینس کے طور پر استعمال کی جانے والی گاڑیاں ’’کھٹارا‘‘ معلوم ہوتی ہیں، اکثر مقامات پر دھکا سٹارٹ ہوتے بھی دیکھا گیا ہے۔ افسروں و اہلکاروں کے سروس سٹرکچر اور مراعات وغیرہ کے معاملات بھی زیادہ بہتر نہیں، یہ سروس کئی اور مسائل سے بھی دوچار ہے، اس سروس کو ازسر نو منظم کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب امورِ صحت کے حوالے سے خاصے سنجیدہ اور متفکر ہیں اور چھاپوں سمیت ہنگامی اقدامات کے اعلانات کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ وہ صحت کے شعبے کو باقاعدہ پہلی ترجیح قرار دے کر اسے لازمی سروس میں شامل کرائیں اور مریضوں کو ہر قسم کی طبی سہولتوں کی فراہمی کا بندوبست سرکاری سطح پر کیا جائے۔ بنیادی مراکز صحت سے بڑے ہسپتالوں تک کے عملے کو عام شہریوں کے علاج کا پابند بنایا جائے اور جو بھی شخص اس سے چشم پوشی کرے یا مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہو، اُس کے خلاف سخت ترین اور فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مریضوں کو علاج کی تمام سہولتیں فراہم کرنے سے دانستہ چشم پوشی کرنے کے اقدام کو قابلِ دست اندازی پولیس جرم قرار دیا جائے، اِسی طرح نجی ہسپتالوں کے لئے بھی ٹھوس لائحہ عمل طے کیا جائے جس سے روگردانی کرنا بھی سنگین جرم قرار پائے، اِسی طرز پر فارما سیوٹیکل اداروں کے لئے بھی ایسی قانون سازی کی جائے، جس پر سو فیصد عمل درآمد کروایا جا سکے۔

مزید :

کالم -