قائد اعظمؒ کا پاکستان

قائد اعظمؒ کا پاکستان
 قائد اعظمؒ کا پاکستان

  

میں اکثر یہ عرض کرتا رہتا ہوں کہ آج تک ہمارے پاس تحریکِ پاکستان کی ایسی مستند تاریخ موجود نہیں جو بانی پاکستان کے رفقائے عظام میں سے کسی نے مدون کی ہو۔ المیہ بصد حیرت و افتایہ ہے کہ ہمارا مطالعہ پاکستان دراصل 47 19ء کے بعد شروع ہوتا ہے، جبکہ اس سے قبل کیا حالات تھے اور قیامِ پاکستان کے محرکین پر کیا بیت رہی تھی، اس کا تذکرہ ہمیں پاک سٹڈیز میں نہیں ملتا، ایسا کیوں ہوا یا کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب لکھنے کے لئے یہ مختصر سا کالم متحمل نہیں۔ یہاں پر قیامِ پاکستان کے ضمن میں چند معروضات پیش کرنی ہیں۔

سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کا مطالبہ کیوں کیا گیا تھا اور کن کی طرف سے کیا گیا تھا؟ یہ وہ سوال ہے جو پاکستان کی یک جہت اساسی صورت ہمارے سامنے لے آتا ہے، اس سوال کا جواب ایک تو وہ ہے جو بچپن سے ہم روایتی انداز سے سنتے آئے ہیں، جس کو یہاں دہرانا ضروری نہیں ، جبکہ اس سوال کا حقیقی جواب روایتی جواب سے بالکل مختلف ہے، جس تک پہنچنے کے لئے مجھے خود ایک زمانہ لگ گیا اور تب کہیں جا کے قیامِ پاکستان کی اساس کے معاملے میں میرا تمام تر اضطراب دور ہوا۔ بنیادی بات یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ پاکستان اور اسلام لازم و ملزوم ہیں۔ مطلب پاکستان اور اسلام کو کسی بھی صورت میں جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس نکتے کا دوسرا جزو یہ ہے کہ یہاں پر اسلام سے مراد روایتی اسلام ہرگز نہیں، بلکہ صدرِ اول کا اسلام ہے اور اس اَمر کی وضاحت انتہائی ضروری ہے، نہیں تو پھر اعتراضات کی بھرمار شروع ہو جاتی ہے۔

کہا یہ جاتا ہے کہ جب پاکستان اسلام کے لئے بن رہا تھا تو پھر علمائے ہند کیوں قیامِ پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے تو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہند کے مولویوں کے پیشِ نظر روایتی اسلام تھا جس کے تحت تحریکِ پاکستان فی نفسہ ایک گمراہ کن تحریک کے زمرے میں شمار ہوئی، چنانچہ مولوی اور جناحؒ کے اسلام میں جوہری فرق ہی دراصل قیامِ پاکستان کی مستند نظریاتی اساس ہے۔ یہاں پر میں ان معروف علمائے ہند کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں، جنہوں نے قیامِ پاکستان کی نہ صرف ڈٹ کر علی الاعلان مخالفت کی، بلکہ اسے ایک غیر شرعی اور گمراہ کن تحریک بھی قرار دیا۔ جمعیت علمائے ہند کے سربراہ مولانا حسین احمد مدنی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا احمد سعید خان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا مفتی محمود وغیرہم ، یہ وہ معروف و مقبول عوامی مذہبی پیشوا تھے ، جنہوں نے قیامِ پاکستان کی علی الاعلان مخالفت کی اور تحریک پاکستان کو ایک گمراہ کن تحریک قرار دیا۔ آج ان علماء کی روحانی اولاد کس طرح جناح کے پاکستان پر اپنا نظریاتی حق ثابت کرکے قیامِ پاکستان کی حقیقی اساس مبتدل کر چکی ۔ اس کا حال لکھنے کے لئے کسی دوسرے کالم کا سہارا لینا پڑے گا ، سرِ دست یہ بتلانا مقصود تھا کہ پاکستان کی حقیقی اساس کیا تھی اور کن مطالبات کے پیش نظر قیامِ پاکستان کی تحریک شروع کی گئی؟

اصول یہ ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان بنایا تھا، صرف وہی بنیادی معلومات کے ضمن میں سند کی حیثیت رکھتے ہیں، علاوہ ازیں کسی بھی خارجی ذریعے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا مطالبہ دراصل صدرِ اول کے اسلام کے نفاذ ہی کے لئے کیا گیا۔ اس سے مراد دراصل وہ اسلام ہے جو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں رائج تھا اور جس میں کسی بھی قسم کی عجمی آمیزش نہیں تھی ۔ یہ وہ اسلام تھا کہ جس پر ملوکیت کی چھاپ نہیں پڑی تھی ، بلکہ اپنی اصل شکل میں جاری تھا، چنانچہ بعد کے ادوار میں اصل اسلام ملوکیت کی زد میں آ کر دین سے مذہب بنا تو قرآن کی جگہ روایات نے لے لی،یوں اصل اسلام نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ دین سے مراد ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو حقیقی اسلام ہی کے پیشِ نظر ہے، جبکہ اس کے برعکس مذہب جو عجمی ملوکیت کا پروردہ ہے جس کی ابتداسب سے پہلے بنو امیہ نے کی اور عباسیوں نے اس کو عروج تک پہنچایا، اس کا اصل اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وہ بنیادی نظریاتی اساس تھی جس کے تحت تحریکِ پاکستان بپا کی گئی۔

قیامِ پاکستان میں جس قدر رکاوٹیں خود ہند کے روایتی مسلمانوں اور بالخصوص علمائے ہند نے پیدا کیں، ہندو یا دیگر اقوام کی مخالفت اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں، کیونکہ ہند کا مولوی عوام کے اندر کبھی اپنا مذہبی اثر رسوخ ختم کرنا نہیں چاہتا تھا، اس لئے اس نے ایک سیکولر سٹیٹ کی بات کی تاکہ سیاسی امور مقتدر طبقے کے پاس اور مذہبی امور مولوی کے پاس رہیں ،جبکہ اس کے برعکس اسلام میں ایسی ثنویت کا کوئی جواز موجود نہیں۔ پاکستان کی نظریاتی اساس کو سیکولر کہنے والے مبنی بر باطل ہیں کہ سیکولر سٹیٹ کے لئے ایک الگ مملکت کا تصور ہی ممکن نہیں، کیونکہ کوئی بھی سیکولر سٹیٹ ایک مخصوص نظریاتی اساس سے منہا ہوتی ہے، جبکہ پاکستان کا قیام ہی ایک مخصوص نظریاتی اساس پر واقع ہے۔ اسلام ایک مستقل نظامِ حیات ہے، جس کے تحت سیاست اور عبادت میں تفریق بے معنی ہے، بلکہ سرے سے ہے ہی نہیں، چنانچہ اسی امر کی وضاحت کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فروری1948ء میں امریکہ کے عوام کو ایک براڈ کاسٹنگ پیغام کے دوران کہا کہ "پاکستان کو ہم کسی بھی صورت میں ایک تھیاکریٹک سٹیٹ نہیں بنانا چاہتے جس میں مولوی بزعمِ خویش خدائی مشن پورا کرتے ہیں "۔۔۔ چنانچہ یہی وہ بنیادی نکتہ تھا جس کے سبب ہند کے علماء نے قیامِ پاکستان اور بانی پاکستان کی مخالفت کی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جس طرز کا پاکستان جناح قائم کرنا چاہتے ہیں، اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہو سکتا ، یہی وجہ ہے کہ مخالفت ہی ان کا واحد ہتھیار تھا اور اس ضمن میں وہ آخری حد تک گئے۔

مزید :

کالم -