انگلینڈ میں ٹیم کی کارکردگی؟ آج کرکٹ سائنس بن چکی!

انگلینڈ میں ٹیم کی کارکردگی؟ آج کرکٹ سائنس بن چکی!
 انگلینڈ میں ٹیم کی کارکردگی؟ آج کرکٹ سائنس بن چکی!

  

برمنگھم کی ایجبسٹن گراؤنڈ میں ہونے والے پاک، انگلش تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز جب کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کی ٹیم کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تو ماہرین نے پہلے تو اس فیصلے کو غیر مناسب قرار دیا اور جب سہیل خان کے اچھے سپیل کی وجہ سے برطانوی بلے باز مشکل میں پڑ گئے، تو فوراً ہی مصباح الحق کے فیصلے کو سراہا جانے لگا اور اس کے ساتھ ہی سہیل خان کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے گئے۔ ہم کرکٹ کے ماہرین یا مبصرین میں نہیں ہیں، لیکن شائق ضرور ہیں اور کرکٹ دیکھتے اور ماہرین کے تبصرے سنتے چلے آئے ہیں، اِس لئے ہماری ذاتی رائے ہمیشہ اچھے کھیل کے حق میں ہوتی ہے اور ہم نے کھیل کو کھیل ہی جانا ہے، جس میں حریف کو کمزور نہیں جانا جاتا۔ اب یہی دیکھیں کہ جونہی اس میچ کا پانسہ پلٹا تو تمام تجزیئے اور تبصرے بھی تبدیل ہو گئے اور ہر اچھائی برائی میں تبدیل ہو گئی، مصباح الحق میں بھی کیڑے نکالے جانے لگے، حتیٰ کہ محمد عامر بھی آنکھوں میں کھٹکنے لگا جسے ٹور شروع ہونے سے پہلے آسمان پر بٹھا دیا گیا تھا۔ اس کے بارے میں اتنی زیادہ پبلسٹی ہوئی کہ اس کی درمیانی کارکردگی بُری لگنے لگی۔ اس میں گوروں کی حکمت عملی اور کوشش نظر انداز کر دی گئی، حالانکہ عملی طور پر موازنہ دونوں ٹیموں کی حکمتِ عملی، کوشش اور کارکردگی کے لحاظ سے کیا جانا چاہئے تھا۔

آیئے ہم بھی اپنی غیر ماہرانہ اور ایک شائق کی حیثیت سے رائے کا جائزہ لیتے ہیں، ایک بار پہلے بھی عرض کیا تھا کہ گوروں نے جدید ٹیکنالوجی کے سہارے محمد عامر پر بہت محنت کی، اس کی باؤلنگ کی ویڈیو بار بار دیکھ کر کھلاڑیوں کو تربیت دی گئی کہ اسے کھیلنے میں بہت محتاط ر ہیں زیادہ گیندوں کو چھوئے بغیر جانے دیں اور اندر آتی گیندوں کو روک لیں، بلاوجہ باؤنڈری کی کوشش نہ کریں تا وقتیکہ کوئی بہت ہی لوز بال نہ مل جائے، پہلے ٹیسٹ میں ان کی ساری توجہ محمد عامر اور وہاب ریاض کی طرف تھی اور یاسر شاہ کو بھول گئے تھے، نتیجہ ظاہر ہے کہ یاسر شاہ نے دھڑن تختہ کر دیا اور پاکستان یہ میچ جیت گیا۔ محمد عامر کو محتاط کھیلا گیا اس کی گیندوں پر سکور نہ کئے گئے تو اسے وکٹ سے بھی دور رکھا گیا، نتیجہ یہ کہ اس کا اعتماد بحال نہیں ہونے دیا گیا۔اب ذرا دوسرے ٹیسٹ پر نظر ڈال لیں تو صاف پتہ چلے گا کہ سپن پر توجہ دی گئی اور پھر یاسر شاہ ٹاپتے رہ گئے اور گوروں نے یہ میچ جیت لیا۔ حکمت عملی وہی تھی کہ محمد عامر کو سنبھل کر کھیلو، یاسر کو کھیلنے کے لئے فرنٹ فٹ استعمال کرو اور بلاوجہ شارٹ نہ مارو، اس کے لئے ذرا غور کریں تو معلوم ہو گا کہ سرفراز اور یونس خان سمیت سب نے محمد عامر کو مایوس کیا اور اس کی گیندوں پر کئی کیچ گرا دیئے۔ یوں بہتر حکمت عملی اور محنت سے گورے اپنی ہوم گراؤنڈ پر واپس آ گئے اور دوسرا میچ بھاری فرق سے جیت کر بلند حوصلوں کے ساتھ تیسرے میچ کی طرف بڑھے۔

اب تیسرے میچ کے لئے ہم اپنی شائق والی رائے دیں تو ٹاس جیت کر انگلینڈ کو پہلے کھیلنے کی دعوت دینا اچھا فیصلہ نہیں تھا، اسے غیر دانشمندانہ بہرحال نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ انگلش وکٹوں کا ریکارڈ پیش نظر نہیں رکھا گیا، ورنہ اگر یہی ٹاس انگلینڈ والے جیت جاتے تو پہلے بیٹنگ ہی کرتے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انگلینڈ کے میدانوں میں چوتھی اننگز مشکل ہوتی ہے۔ اب مصباح الحق کا یہ فیصلہ دانشمندانہ قرار پایا۔ اگر بلے باز خود اس کے اپنے سمیت وکٹ پر کھڑے ہو کر برطانوی فاسٹ باؤلروں کی سوئنگ اور ریورس سوئنگ کو سمجھتے، ان کو جو دو تین دن فاضل ملے ان کے دوران بار بار ویڈیو دکھائی جانا چاہئے تھی، کہ گیند کہاں سے کیسے آتی ہے اور اسے کیونکر کھیلا جائے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسا نہیں کیا گیا ہو گا۔اگر کیا گیا تو اس کا فائدہ نظر نہیں آیا اور بلے باز باؤلنگ کو نہیں سمجھ پائے۔ ٹی وی پر بیٹھ کر میچ دیکھنے والے کو یہ نظر آ رہا تھا کہ گورے باؤلر شارٹ پچ بال ضرور کرتے ہیں، لیکن وکٹ کو دیکھ کر اُن کا گیند اُٹھ کر بلے باز کی کمر تک آتا ہے اور یوں شارٹ کھیلنا اور روکنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اِسی طرح گڈ لینتھ سے جب بھی گیند اُٹھا اور سوئنگ ہوا تو پاکستان کے بلے باز نہ اسے چھوڑ سکے، نہ پوری طرح کھیل سکے اور سلپ میں پکڑے جاتے رہے۔

اب ذرا سہیل خان کی بات کریں تو وہ یہاں بھی ایک عام درجے کا باؤلر تھا وہاں بھی ویسا ہی ثابت ہوا کہ اس کے گیند گھومتے نہیں، سوئنگ نہیں کرتے، بہت ہی ساز گار وکٹ میں ایسا ہوتا ہے، چنانچہ پہلی اننگز میں یہی ہوا کہ انگلش بلے بازوں نے اس پر توجہ نہیں دی تھی اور وکٹ پر کچھ گھاس اور نمی کا فائدہ بھی اُسے ملا اور جب اسے عام باؤلر سمجھ کر کھیلا گیا تو وہ آؤٹ کرتا چلا گیا، نتیجہ پانچ وکٹوں کی صورت میں نکلا، لیکن دوسری اننگز میں ایسا نہ ہو سکا کہ گورے پھر سے اس کے ایکشن پر محنت کر کے آئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے عامر اور یاسر کے ساتھ ساتھ سہیل خان کے ساتھ بھی اچھی ڈیلنگ کی، اس کے باوجود کہ پاکستان ٹیم کو103رنز کی برتری مل گئی تھی، بلے باز فائدہ نہ اٹھا سکے، نہ ہی باؤلر کام آئے اور گورے تیسری اننگز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رنز کر گئے اور ملبہ ڈال دیا، اب چوتھی اننگز کا معاملہ تھا، پاکستان کے کھلاڑیوں کو بہت سنبھل کر کھیلنا تھا وہ نہ کھیل سکے اور وکٹیں گنواتے رہے، اس میں زیادہ قصور حفیظ، یونس خان اور مصباح الحق کا ہے کہ وہ خود کچھ نہیں کر سکے، جہاں تک سرفراز کا تعلق ہے تو اسے مُلک کے متعدد وکٹ کیپر بیٹسمینوں پر ترجیح دی گئی وہ تینوں فارمیٹ میں ہے اس کی کارکردگی کے لئے پھر سے ویڈیو دیکھ لیں تو پتہ چل جائے گا۔دُنیائے کرکٹ میں متبادل کھلاڑی ساتھ ساتھ تیار کئے جاتے ہیں۔ یہاں نوجوان، نوجوان کی پکار کر کے ایک دم کسی اُبھرتے کھلاڑی کو تجربہ کار ٹیم کے سامنے جھونک دیا جاتا ہے اور جب وہ بے چارہ ناتجربہ کاری کے باعث ناکام ہوتا ہے تو پھر اسے بھلا دیا جاتا ہے۔ یہ وطیرہ اچھا نہیں، کرکٹ اب کھیل نہیں، سائنس ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے سہارے کھیلی جاتی ہے۔ ہمیں یہ سب لوازمات پورا کرنا ہوں گے، ہم پھر بھی دُعا گو ہیں کہ ٹیم چوتھا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اگرچہ ایک روزہ سیریز سلیکشن سے ہم بھی مطمئن نہیں پھر بھی ہاتھ اُٹھا کر کامیابی کی دُعا کریں گے۔

مزید :

کالم -