سائنسی موضوعات

سائنسی موضوعات
 سائنسی موضوعات

  

سائنس اور ٹیکنالوجی اوربالخصوص عسکری موضوعات پر کئی عشروں سے مسلسل لکھنے والے محترم لیفٹنٹ کرنل غلام جیلانی خان نے ٹیکنالوجی پر میرے لکھے گئے گزشتہ چند کالموں کے سلسلے میں میری حوصلہ افزائی فرمائی ہے، ان کا بہت شکریہ ۔ میں نے ان کالموں میں زیادہ تر انگریزی تحریروں سے ترجمہ اور اکتساب کیا جس بناء پر ترجمے کے سلسلے میں کرنل صاحب نے بہت سے مفید مشوروں سے نوازا ہے جن پر عمل کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔ کرنل صاحب کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوعات اور انگریزی اردو فارسی عربی اور بہت سی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ اس کام میں ان جیسا عبور حاصل کرلینا تو بہت دور کی بات ہے، تاہم انسان کوشش کرے تو کسی وقت ان کے اچھے مشوروں پر پورا عمل کرکے دکھا بھی سکتا ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کے بعد تو یہ کام اور بھی آسان معلو م دیتا ہے۔ کرنل صاحب نے پورے خلوص دل کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کاذوق قوم کی نئی نسلوں میں پیدا کرنے کے لئے سائنسی موضوعات پر سلیس انداز میں لکھنے والوں کے اس میدان میں آنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اس سلسلے میں کرنل صاحب کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے میں قارئین کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری اردو صحافت میں سائنسی موضوعات پر جن لوگوں نے سب سے بڑھ کر لکھا ان لوگوں کا تعلق پاکستان کی مسلح افواج ہی سے رہا ہے۔ کر نل صاحب سمیت اردو صحافت کے ماضی سے شناسا لوگوں کو معلوم ہے کہ قوم کے جوانوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا ذوق پیدا کرنے کے جذبہ سے سائنسی موضوعات پر گراں قدر مضامین اور فیچرز لکھنے والے محمد سعید، علی ناصر زیدی، نذیر احمد خان، بشیر حسین جعفری ،،کیپٹن ممتاز ملک اور بابا رفیق جاوید جسیی قابل قدر ہستیوں کا تعلق پاک آرمی یا پاک فضائیہ سے تھا۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے نام ہیں،لیکن میں یہاں پاکستان کی مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے صرف ان چند لوگوں کا ذکر کر رہا ہوں جن کا نام اردو صحافت کی تاریخ میں چاند ستاروں کی طرح روشن ہے اور جن کے جذبہ ، خلوص اور گراں قدر کام کے لئے قوم یقیناًان کی شکر گذار رہے گی۔

نذیر احمد خان رائل ائیر فورس میں بھرتی ہوئے اور 1947ء میں انہوں نے پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کرلی۔1959ء میں ائیر فورس سے ریٹائر ہونے کے بعد پریس انفرمیشن ڈیپارٹمنٹ کے جریدہ ’’پاک جمہوریت‘‘کے ادارتی عملے سے وابستہ ہو گئے۔ پھر 1966ء سے جولائی 1977ء تک روزنامہ ’’امروز‘‘ سے وابستہ رہے۔ انہوں نے ان جرائد کے علاوہ پاکستان کے بہت سے دوسرے جرائد کے لئے بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوعات پر مضامین اور ان گنت شگفتہ فیچرز لکھے جس بناء پر اپنے دور میں ان کا نام نمایاں رہا۔ کیپٹن ممتاز ملک جو آزادی سے قبل کئی ممالک میں فوجی افسر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہے انہوں نے زمیندار ، نوائے وقت اور ندائے ملت میں ادارتی ذمہ داریاں سرانجام دیں اور سائنسی موضوعات پر مضامین لکھ کر شہرت حاصل کی۔1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے متعلق روزنامہ ندائے ملت لاہور میں شائع ہونے والا ا ن کا فیچر :ً اسرائیل کی تازہ جارحیت کیوں کامیاب ہوئی ؟ اردواور عربی کے علاوہ دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر درجنوں ملکوں میں شائع ہوا۔اس میں انہوں نے عربوں کی فنی اور پیشہ وارانہ دفاعی کمزوریوں کے علاوہ سماجی کمزوریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ سوہاوا ، پونچھ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے جناب بشیر حسین جعفری 1947ء میں کشمیر کی جنگ آزادی میں ایک فوجی کی حیثیت سے حصہ لے چکے تھے۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے علاوہ سائنس فاؤنڈیشن میں بھی افسر تعلقات عامہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ جعفری صاحب نے اپنی زندگی میں مضامین نویسی کے سینکڑوں مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ سائنس کے موضوعات پر دلکش انداز تحریر اور پرکشش تصاویر کے ساتھ ان کے سینکڑوں فیچرز پاکستان کے تقریبا تمام اہم اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے۔ جناب محمد سعید کا تعلق پاک فضائیہ سے تھا جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد سائنسی موضوعات پر لکھنا شروع کیا اور اس میدان میں بہت عزت کمائی۔ انہوں نے ادارہ فرینکلن کے لئے سائنسی موضوعات پر بہت سی کتب بھی ترجمہ کیں۔ روزنامہ ’’مشرق‘‘ کے میگزین سکیشن سے وابستہ رہے۔ خلائی تسخیراور ایٹمی توانائی جیسے موضوعات ان کی نوک قلم پر رہے۔

اسی طرح جناب علی ناصر زیدی کا نام اور سائنسی موضوعات پر فکر افروز تحریروں کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے سینکڑوں سائنسی مضامین پاکستان کے تقریباً تمام اردو اخبارات اور جرائد میں شائع کرائے۔ علی ناصر زیدی صاحب آرمی سے کمیشنڈ آفیسر کی حیثیت سے ریٹائر منٹ کے بعد وفات تک اٹامک انرجی کمیشن سے وابستہ رہے۔1950ء سے اواخر1970ء تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوعات پر ان کے مضامین اور فیچرز مسلسل اردو اخبارات و جرائد کی زینت بنتے رہے۔

قارئین یہ ہستیاں اور وہ تمام لوگ بھی جن کا تعلق ہماری مسلح افواج سے نہیں تھا، لیکن وہ قوم میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا ذوق پیدا کرنے کیلئے مسلسل لکھتے رہے اور سائنس کو نوجوانوں میں مقبول بنانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتے رہے، جن کی تحریروں کے پیچھے ان کا خلوص اور قومی حمیت تھی ان کو ہم آج یاد کر رہے ہیں اور ان کو تہہ دل سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ،ہر طرح کے مفادات کو پس پشت ڈال کر پوری زندگی انہماک اور تندہی سے قومی مفاد کے لئے وقف کردینے والے یہ لوگ اسی طرح یاد رکھے جانے کے قابل ہیں جس طرح کہ قوم کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سپاہی۔! اللہ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، تاہم اپنی حوصلہ افزائی کرنے کے اس موقع پرمیں محترم کرنل صاحب کے کام اور اس کی اہمیت کے متعلق کچھ کہنا مناسب خیال نہیں کرتا، اللہ ان کی خواہش کے مطابق مجھ سمیت اوربھی بہت سے لوگوں کو ان کی طرح اور مذکورہ ہستیوں کی طرح یہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

مزید :

کالم -