جنابِ وزیراعظم! فوجی افسروں کو سیک کر دیں!

جنابِ وزیراعظم! فوجی افسروں کو سیک کر دیں!
 جنابِ وزیراعظم! فوجی افسروں کو سیک کر دیں!

  

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیف جناب محمود خان اچکزئی نے کل پاکستان کی قومی اسمبلی میں کوئٹہ کے حالیہ سانحے پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایک نہائت ’’صائب اور عاقلانہ‘‘ مشورہ اپنے وزیراعظم کو پیش کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ ان سیکیورٹی اور انٹیلی جنس افسروں کو سیک کر دیں جو کوئٹہ کے اس خودکش حملے میں ملوث دہشت گردوں کی نشاندہی نہیں کر سکے۔۔۔۔ سیکیورٹی فورسز میں تو پولیس، سکاؤٹس، ملیشیا اور انٹیلی جنس کے وہ تمام آفیسرز شامل ہوتے ہیں جو وردی پوش ہوتے ہیں اور وہ بھی جو وردی پوش نہیں ہوتے بلکہ شیروانی، شلوار قمیض یا سفاری سوٹ پوش ہوتے ہیں اور ان کو سویلین گزٹیڈ آفیسر (CGOs) کہا جاتا ہے اور جو ملک کے انٹیلی جنس اداروں میں کام کرتے ہیں۔ یعنی حضرت اچکزئی کا روئے سخن انٹیلی جنس بیورو (IB) اور فیڈرل انٹیلی جنس ایجنسی (FIA) کے تمام آفیسرز کی طرف بھی تھا۔

ماشاء اللہ، محمود خان صاحب نے بہت مدلل مشورہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کو دیا ہے ۔ اورجہاں تک میں سمجھ پایا ہوں، نہایت سوچ بچار اور بین الاقوامی اقدار و روایات کا گہرا مطالعہ اور مشاہدہ کرنے کے بعد ہی دیا ہو گا! اب دیکھیں ناں دنیا میں جتنے ممالک بھی ہیں ان میں مسلح افواج اور انٹیلی جنس کے ادارے بھی پائے جاتے ہیں اور وہ یہی کچھ تو کرتے ہیں اور کامیاب و کامران رہتے ہیں۔ یعنی جو مشن ناکام ہو جائے اس کو لانچ کرنے والوں کو فی الفور سیک کر دیا جاتا ہے۔نام لینے کی کیا ضرورت ہے بہت سے بڑے بڑے ممالک جو ایک زمانے تک سپرپاور بنے رہے اور قیامِ امن و امان میں ان کا تجربہ ایک عالمگیر شہرت رکھتا ہے وہ تمام یہی کچھ تو کرتے تھے کہ ان کے مُلک میں جہاں کوئی دھماکہ ہوا یا کسی دہشت گرد نے کوئی خودکش حملہ کیا، فوراً ہی وہاں کے فوجیوں، پولیس اور جاسوسی اداروں کے افسروں نے پوری ایک فہرست بنا کر اپنے صدر (یا وزیراعظم) کی خدمت میں پیش کر دی کہ حضور! یہ نام ہیں ان حملہ آوروں کے جنہوں نے ایک قیامت صغریٰ کا سا عالم پیدا کررکھا ہے، ان کو فوراً گرفتار کر لیجئے اور وہ صدر(یا وزیراعظم) اسی روز ان بدمعاشوں کو پکڑ کر کیفر کردار کو پہنچا دیا کرتے تھے ۔اور اگر ایسا نہیں ہوتا تھا تو پھر متعلقہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس افسروں کو نوکری سے جواب دے دیا جاتا تھا۔ ماضی قریب میں ساری دنیا نے دیکھا کہ برطانیہ، جرمنی، فرانس اور امریکہ میں جہاں جہاں کوئی خودکش حملہ ہوا یا کوئی دہشت گردانہ کارروائی ہوئی اور دہشت گرد پکڑائی نہ دیئے تو فوج اور انٹیلی جنس کے ذمہ داروں کو بیک بینی و دوگوش سیک کر دیا گیا۔ اگر کسی کو فہرست مرتب کرنے کی ضرورت ہو تو فرانس کے ہالینڈے، جرمن کی انجیلا مارکر،برطانیہ کے کیمرون اور امریکہ کے اوباما کا ریکارڈ دیکھ لیں۔ وہ اب تک اپنی آدھی فوج اور جاسوسی اداروں کے تمام بڑے بڑے افسروں کو سیک کر چکے ہیں۔۔۔ اس لئے تو حضرتِ اچکزئی کا مطالبہ ہے کہ جناب نوازشریف کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے!

قبلہ محمود خان اچکزئی نے مزید فرمایا کہ کوئٹہ کی طرح کے حملوں کا صاف اور صریح مطلب یہ ہے کہ پاکستانی فوج اور جاسوسی ادارے ناکام ہو چکے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے ملک کے چیف ایگزیکٹو سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ اس ناکامی کے ذمہ داروں کی فہرستیں تیار کی جائیں اور سب کو نوکری سے برخاست کر دیا جائے۔ بلکہ انہوں نے ایک ایسا اشارہ بھی اپنی تقریرِ دلپذیر میں دیا جو وزیراعظم کے ماضی کے مجہول اور سست گام اقدامات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کا فرمانا تھا: ’’وزیراعظم کو شیر بننا چاہیے، حقیقی چیف ایگزیکٹو بن کر دنیا کے سامنے مثال پیش کرنی چاہیے اور بولڈ فیصلے کرنے چاہئیں‘‘ ۔۔۔ دوسرے لفظوں میں خان صاحب فرما رہے تھے کہ نواز شریف کے ماضی کے وہ سارے اقدامات جو انہوں نے اب تک دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے ضمن میں اٹھائے ہیں وہ سب بزدلانہ تھے اور ان سے حقیقی چیف ایگزیکٹو ہونے کی شیری دلیری کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ انہوں نے لفظ ’’بولڈ‘‘ کہہ کر وزیراعظم کو یاد دلایا ہے کہ وہ اب تک بولڈ نہیں بنے اور حقیقی چیف ایگزیکٹو کی جگہ نقلی اور جعلی قسم کے چیف ایگزیکٹو بنے رہے ہیں۔ اس لئے وقت آگیا ہے کہ اب وہ بزدل کی بجائے بولڈ اور جعلی کی بجائے حقیقی چیف ایگزیکٹو کا رول ادا کریں!

کل کے روزنامہ ڈان میں ان کے اس بیان کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے بعض دوسرے اراکین نے بھی اسی حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ چونکہ دہشت گرد پورے ملک میں قتل و غارت گری کی وارداتیں کر رہے ہیں اس لئے یہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنے منصبی فرائض کی بجا آوری میں ناکام ہو چکی ہیں۔

محترم اچکزئی صاحب کا ایک دور رس خیال یہ بھی تھا کہ ہمیں دوسروں کی بجائے اپنے انٹیلی جنس اداروں کی خبر لینی چاہیے اور ان کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ بھارت کی ’’بے چاری‘‘ را (RAW) کو الزام نہ دیں۔ کہ ’’را‘‘ بھلا ان جیسے خودکش حملوں میں ملوث ہو سکتی ہے؟۔۔۔ خان صاحب کوئٹہ کے اس سانحہ پربڑے غصے میں تھے اور ایسی صورت حال میں صبر اور مصلحت کا دامن چھوٹ ہی جایا کرتا ہے اور انسان دل کی بات زبان پر لانے پر مجبور ہو ہی جایا کرتا ہے۔ اسی لئے تو سیانے کہہ گئے ہیں کہ اگر کسی شخص کے اصل کردار کا اندازہ لگانا ہو تو اس کو برہمی اور غصے کے عالم میں دیکھنا چاہیے کہ اس کیفیت میں دل کی چھپی بات بھی زبان پرآ جاتی ہے۔ خان صاحب کی کھلی زبان ویسے تو سارے پاکستانیوں کے علم میں ہے۔ وہ گاہے بگاہے قومی اسمبلی میں بصد ناز و احترام اُٹھ کر کھڑے ہوتے رہتے ہیں، چادرکو تو بار بار سنبھال لیتے ہیں لیکن زبان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی صدق مقالی اور حقائق کی پردہ دری ماشااللہ سارے ہی قومی سیاسی حلقوں میں اپنی خاص شہرت رکھتی ہے۔ یہ وہی تو تھے جنہوں نے چند روز پہلے یہ بیان دے کر پوری پاکستانی قوم کو مسرور اور نہال کر دیا تھاکہ خیبرپختونخوا دراصل افغانوں کا ہے پاکستانیوں کا نہیں!۔۔۔ اسے افغانستان کے حوالے کر دینا چاہیے۔ کل بھی خان صاحب نے اپنی اسی روائتی حب الوطنی اور قوم پرستی کا ثبوت دیا۔ (میری مراد اچکزئی صاحب کی اپنی قوم سے نہیں، پاکستانی قوم سے ہے) ۔۔۔ انہوں نے فرمایا کہ دوسرے ملکوں کی پراکسی جنگ اپنی سرزمین پر نہیں لڑی جانی چاہیے۔۔۔ ویسے تو ان کے سارے ہی ارشادات عالیہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہوتے ہیں لیکن یہ بات کہ غیروں کی جنگ اپنی سرزمین پر نہ لڑی جائے تواس کے لکھنے کے لئے آب زر کی بجائے آب زم زم استعمال کرنا چاہیے۔

پہلے روز کوئٹہ کے اس خودکش حملے کی ذمہ داری ’’جماعت الاحرار‘‘ نے قبول کی تھی جو ٹی ٹی پی کی ایک شاخ ہے لیکن اگلے روز داعش (ISIS) نے بھی اعلان فرما دیا کہ دیکھو بھئی! ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں ۔۔۔ پاکستان میں یہ وطیرہ عام ہو چکا ہے کہ جہاں کہیں بھی اس قسم کی قیامت کا منظر سامنے آتا ہے بعض پاکستان دوست تنظیمیں اس کی ذمہ داری اس سج دھج سے قبول کرتی ہیں جیسے یہ اعلان کیا جا رہا ہوکہ نبی نوع انسان کی عمومی بھلائی اور خلق خدا کی وسیع تر بہبود کے لئے یہ نوبل انعام اس دفعہ ہمارے حصے میں آیا ہے اور ہمارے نامور اور نامی گرامی اراکینِ مجلس اس اعزاز کے سزاوار ہیں!۔۔۔ ان کا یہ اعتراف دیکھنے سننے والوں کو بھی سرشار کر دیتاہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ:

ایں کار از تو آیڈ و مرداں چنیں کنند

اور یہ جو ہمارے آرمی چیف، جنرل راحیل شریف صاحب ہیں، یہ جب دیکھو کور کمانڈروں کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہوتے ہیں۔ سوموار کو کوئٹہ میں یہ حملہ ہوا اور منگل وار کو کورکمانڈروں کی کانفرنس بھی ’’ہو‘‘ گئی۔ اس کانفرنس میں ہمارے آرمی چیف نے جو یہ کہا ہے کہ اس طرح کے خودکش دھماکے ہمارے ایک ہمسایہ ملک کی سرزمین میں بیٹھ کر پلان کئے جاتے ہیں اور دوسرے ہمسائے کی سرزمین سے اٹھ کر پاکستان کو محشرستان بنا دیتے ہیں تو حضرت اچکزئی اس بیان سے کافی بیزار ہوئے ہیں۔ آرمی چیف کے مخاطبین بھی تو کانفرنس کے یہی فوجی آفیسر ہیں جن میں آئی ایس آئی کے ایک جنرل صاحب بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بغیر تحقیق اور بغیر کسی ثبوت کے روزانہ یہ بیان دے دیتے ہیں کہ اس قسم کی دہشت گردی بھارت کی ’’را‘‘ اور افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کرواتی ہے۔ خان صاحب کے دل کی آواز اور ان کا موقف تو یہی ہے ناں کہ بھارت اور افغانستان کا نام لے لے کر ہمارے فوجی ادارے اپنی ناکامیاں چھپاتے ہیں۔ ان کا موقف یہی تو ہے کہ اب اس کھیل کو بند ہونا چاہیے، وزیراعظم کو اس کانوٹس لینا چاہیے اور احمد کی پگڑی ’’محمود‘‘ کے سر نہیں باندھنی چاہیے۔ محمود صاحب تو اپنی ساری سیاسی عمر میں یہی حقیقت بیان کرتے آ رہے ہیں کہ : خارِ وطن از سنبل و ریحاں خوشتر۔۔۔ یعنی ان کے وطن (افغانستان) کا ہر کانٹا، سنبل و ریحاں سے خوشتر ہے!

آج صبح صبح ایک دوست کا فون آیا۔ انہوں نے کہا: ’’جیلانی صاحب! کل رات کے ڈان میں محمود خان اچکزئی کے بارے میں جو خبر آئی تھی کیا وہ آپ نے نیٹ پر دیکھی تھی؟۔۔۔ میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولے: ’’لیکن آج 10اگست کے ڈان میں صرف انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ذکر ہے، سیکیورٹی فورسز کا کیوں نہیں‘‘؟ میں نے ان کو سمجھایا کہ صحافیانہ مصلحتیں بڑی نازک الطبع ہوتی ہیں۔ ایک لفظ اِدھر اُدھر ہو جائے تو بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے، اس لئے اخبار والوں نے فیصلہ کیا ہوگا کہ جب یہ خبر سوشل میڈیا سے پرنٹ میڈیا میں آئے تو اس میں سے ’’سیکیورٹی فورسز‘‘ کا ڈنک نکال دیا جائے۔۔۔ میرے دوست نے ایک اور بات بھی بڑے پتے کی کہی۔ کہنے لگے: ’’یہ جو محمود خان اچکزئی نے سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کے افسروں کو سیک کرنے کا مشورہ وزیراعظم کو دیا ہے تو ان کو اس میں تھوڑی سی ترمیم کر لینی چاہیے۔۔۔۔یعنی وزیراعظم کو چاہیے کہ اپنے فوجی افسروں کو سیک کرنے کی بجائے ان عوامی نمائندوں کو سیک کریں جن کے حلقہ ہائے نیابت میں یہ دھماکے اور یہ سانحے رونما ہوتے ہیں۔ دھماکوں کی پلاننگ بے شک ہمارے ہمسائے میں ہوتی ہوگی لیکن ان حملوں کو سپورٹ کرنے والے (Facilitrators) تو پاکستان میں ہوتے ہیں اور پاکستانی کہلاتے ہیں۔ ان کو پکڑنے میں ناکامی کی ذمہ داری بے شک سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں پر ڈال دیں لیکن ان قانون سازوں اور عوامی نمائندوں پر بھی تو کچھ ڈالیں ناں جو ان حلقوں سے منتخب ہوتے ہیں، ان کے ترجمان بنتے ہیں، ان کے ارادوں، ان کی خواہشات اور ان کی آرزوؤں کی تکمیل کی ذمہ داری کے دعوے کرتے ہیں اور منتخب ہو کر اسمبلیوں میں آتے ہیں اور پھر سارا ملبہ فوجیوں پر ڈال کر چادریں سینوں پر لپیٹتے ہیں اور عوامی نمائندگی کا حق ادا کر کے رزق حلال تناول فرماتے ہیں!۔۔۔ وقت آن پہنچا ہے کہ ان عوامی نمائندوں کو بھی سیک کرکے پارلیمان بلڈنگ سے باہر نکال دیا جائے!‘‘

مزید :

کالم -