پاکستانی تاجر کیمپوں میں بیٹھے اپنے بیروزگار بھائیوں کو روزگار دلائیں: قونصل جنرل شہریار اکبر

پاکستانی تاجر کیمپوں میں بیٹھے اپنے بیروزگار بھائیوں کو روزگار دلائیں: ...

  

جدہ (محمد اکرم اسد)قونصل جنرل پاکستان شہریار اکبر خان نے پاکستانی تاجروں اور ایگزیکٹوز پر زور دیا ہے کہ وہ مختلف کمپنیوں کے کیمپوں میں بیٹھے بے روزگار اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے آگے آئیں اور انہیں روزگار دینے دلانے میں مدد کریں۔ یہ پاکستانی یہاں کی مختلف کمپنیوں میں کام بند ہوجانے اور کافی مہینوں کی تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے کیمپوں میں بیٹھے ہیں جن کی ایسے وقت میں مد کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی قونصلیٹ میں پاکستانی کمیونٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے بھی خصوصی رعایت کا اعلان کیا ہے جس مین ورکرز کی دوسری کمپنی میں جاب ملنے کی صورت میں ان کی اقامہ ٹرانسفر فیس معاف کردی گئی ہے اور اقامہ فری ٹرانسفر کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے ان کو جاب دینے والی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا۔ شہریار اکبر نے کہا کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے راشن پہنچایا جبکہ ان افراد کی رجسٹریشن بھی کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے بھی ان اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی فنڈز مختص کئے ہیں اور ہر متاثرہ فرد کے اہلخانہ کو پچاس پچاس ہزار روپیہ ان کے گھروں میں پہنچایا جارہا ہے تاکہ جن کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں مل سکی ان کی کچھ داد رسی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان تمام اوورسیز پاکستانیوں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ قونصل جنرل نے بتایا کہ سفیر پاکستان منظور الحق بھی بڑی تندہی سے کام کررہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی سعودی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں اور کمپنیوں کے دورے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی حکومت نے بھی احکامات جاری کئے ہیں، ان کمپنیوں کو ادائیگی کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ انہوں نے اپنے تمام ملازمین کی تنخواہیں اور واجبات ادا کردئیے ہیں۔ پاکستانی قونصلیٹ اس سلسلہ میں متواتر رابطے میں ہے۔ اس سے پہلے قونصل جنرل ویلفیئر عبدالباس عباسی نے کمیونٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ کیمپوں کے دوروں سے پاکستانیوں کے بارے میں معلومات ملی ہیں جن کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ قونصل جنرل شہریار اکبر نے کیمپوں میں بیٹھے بے روزگار پاکستانیوں سے کہا کہ وہ سعودی عرب کے قانون کو کسی صورت میں بھی اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور کسی قسم کی جارہانہ کارروائیوں سے اجتناب برتیں کیونکہ یہاں گھیراؤ جلاؤ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -