محکمہ صحت اور فارما سوٹیکل کمپنیوں میں ادویات کے نمونوں کے تجزیوں کا تنازع، 6رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن بنا دیا گیا

محکمہ صحت اور فارما سوٹیکل کمپنیوں میں ادویات کے نمونوں کے تجزیوں کا تنازع، ...

  

لاہور(جاوید اقبال )محکمہ صحت اور فارما سوٹیکل کمپنیوں کے درمیان ادویات کے نمونہ جات کے تجزیہ کے لئے لندن بھجوانے کے مسئلہ پر پیدا ہونے والا تنازع حل ہو گیا ہے ۔جس کے لئے محکمہ صحت نے اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دے دیا ہے یہ کمیشن6 سینئر ارکان پر مشتمل ہو گا ۔کمیشن کا سربراہ پنجاب یونیورسٹی کے کالج آف فارمیسی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر خالد حسین کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر ممبران میں ملک کے ممتاز میڈیسن اور فارمیسی کے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے ۔ان ممبران میں علامہ اقبال میڈیکل کالج کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عارف محمود صدیقی ،پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فاما سوٹیکل کیمسٹری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اسلام کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس کے دو نمائندے اور ایک غیر متنازعہ ممبر کو شامل کیا گیا ہے ۔یہ کمیشن حال ہی میں لندن کی ایک پرائیویٹ لیبارٹری میں پاکستان کی بعض فارماسوٹیکل کمپنیوں کی طرف سے بھجوائے گئے نمونہ جات پر آنے والی رپورٹس اور پاکستان کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی رپورٹس کی صحت کا بغور جائزہ لے گا اور اس پر اپنی سفارشات وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کرے گا جس میں اس امر کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ وہ ادویات جن کے نمونہ جات ڈی ٹی ایل پنجاب کی لیبارٹریوں میں صحت مند قرار دیئے گئے اور جب ان ہی نمونہ جات کو لندن کی لیبارٹری میں بھیجا گیا تو یہ وہاں فیل قرار دے دیئے گئے لندن کی لیبارٹری نے فی نمونہ 150پاونڈ فیس حاصل کی ۔یہ دونوں لیبارٹریوں کے نمونہ جات کا ازسر نو جائزہ لیں گے اور اپنی نگرانی میں پاکستان کی مایہ ناز لیبارٹریوں میں چیک کروائیں گے اور آنے والی رپورٹس کو حکومت کو پیش کریں گے ۔اگر ان نمونہ جات کو از سر نو تجزیہ کر کے او کے قرار دیا گیا تو لندن سے کیا گیا معاہدہ منسوخ کر دیا جائے گا اور پھر سے ادویات کے نمونہ جات کا سلسلہ دوبارہ پاکستان کی ڈی ٹی ایل سے تجزیہ کروانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔حکومت نے یہ کمیشن پاکستان فارما سوٹیکل مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن کے چیئر مین حامد رضا ان کے دیگر عہدیداروں ،فارما سوٹیکل ایسوسی ایشن اور دیگر تنظیموں کی جانب سے امر پر احتجاج کی کال دینے کے بعد کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی ڈی ٹیا یلز کی رپورٹس میں پاکستانی ادویات کے نمونہ جات کو صحت مند قرار دیا ہے جبکہ جب ان کمپنیوں کے نمونہ جات تصدیق کے لئے لندن کی لیبارٹریوں میں بھجوائے گئے تو وہاں صرف اس لیبارٹری نے نمبر بنانے کے لئے پاکستانی ادویات کے نمونوں کو فیل کر دیا جو کہ سراسر زیادتی کے مترادف ہے چنانچہ اس پر ایک ایسا تحقیقاتی کمیشن یا کمیٹی تشکیل دی جائے جو پاکستانی ڈی ٹیا یل اور لندن کے ڈی ٹی ایل کے ادویات کو چیک کرنے کے طریقہ کار اور رپورٹس کا جائزہ لے اور اس کے بعد کمیشن کی تحقیقات سے کچھ سامنے آئے اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے جس پر حکومت نے ایسوسی ایشن کے چیئر مین حامد رضا اور دیگر ارکان کے مطالبات تسلیم کیئے اور ایک آزاد کمیشن تشکیل دے دیا ہے اس حوالے سے پاکستان فارما سوٹیکل مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن کے چیئر مین حامد رضا نے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی کمیشن خوش آئند ہے ۔پاکستانی ادویہ ساز کمپنیاں دنیا میں معیاری ادویات بنا رہی ہیں جو دنیا میں اپنے معیار کا لوہا منوا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایکسپرٹ کا کام کوئی ایکسپرٹ ہی کر سکتا ہے ہمیں اس کمیٹی پر پورا اعتماد ہے کہ یہ پوری ایمانداری سے کام کر کے رپورٹ حکومت کا پیش کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں شامل اراکین نہایت ایماندار اور پروفیشنل افراد ہیں وہ اپنی رپورٹ درست سمت میں پیش کریں گے جس سے پاکستانی فارما سوٹیکل کمپنیوں کی ساکھ بہتر ہو گی۔

مزید :

صفحہ آخر -