بھارت سے ہجرت کا سفر ظلم کی داستانیں لکھتا ہے‘ عبداللہ خان

بھارت سے ہجرت کا سفر ظلم کی داستانیں لکھتا ہے‘ عبداللہ خان

  

ملتان(کامرس رپورٹر) سلسلہ آزادی کے چراغ کے حوالے سے ملتان کے رہائشی 86 سالہ بزرگ عبداللہ خان نے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 14 اگست کو جب میرے والد کو پاکستان کے بننے کی خبر ملی تو انہوں نے ہمیں بھارت سے ہجرت کرنے کو کہا اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کہاں جانا ہے ہم نے اپنے نئے کپڑے اور زیورات یہ سمجھ کر زمین میں دبا دیے کہ کچھ دنوں بعد واپس آجائیں گے بس وہاں سے نکلتے ہوئے گندم کے دانے بھون کر ساتھ لے آئے ایسے حالات میں وہاں لڑائی جھگڑے اور فسادات (بقیہ نمبر4صفحہ12پر )

پھوٹ پڑے تو والد کے کہنے پر خواتین کو الگ قافلے کے ساتھ روانہ کر دیا جس کے بعد والد اور میں الگ الگ قافلے کے ساتھ روانہ ہوئے 8دن کے پیدل سفر کے بعد ملتان پہنچے انہوں نے بتایا کہ ان 8 دنوں میں ایک پل بھی سکون سے نہیں گزرا ہجرت کا یہ سفر ظلم کی داستانیں لکھتا گیا کئی ماؤں نے اپنے بچے ذبح ہوتے ہوئے دیکھے کئی بہنوں کی عزتیں پامال کی گئیں پاکستان پہنچے تو معلوم نہیں تھا کہ گھر والے کہاں ہیں آخر کار گھر بھی ملا اور گھر والے بھی اور آج اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملک شہداء کی امانت ہے اور ہم سب کو چاہیے کہ مل کر اس کی حفاظت کریں ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -