قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ ‘ ادویہ ساز کمپنیاں عوام کا خون چوسنے لگیں

قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ ‘ ادویہ ساز کمپنیاں عوام کا خون چوسنے لگیں

  

کوٹ ادو (تحصیل رپورٹر) عوام اور صارف کے مفادات کا تحفظ کرنیوالی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی وزارت صحت کی ملی بھگت سے ادویات ساز کمپنیو ں نے 70ہزار سے زائد رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں میں 3فی صد کی بجائے 00فی صد اضافہ کرکے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ، وزارت صحت (بقیہ نمبر60صفحہ12پر )

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور ادویات ساز کمپنیوں کے مابین طے پانیوالے معاہدے کے مطابق خام مال کی خریداری کا انوائس پر اب ادویات کی قیمتیں ہر سال بڑھا کریں گی، ادویات ساز کمپنیاں خام مال کمپنیاں خرید کرتی ہیں ، وہ اوور انوائس کرکے خام مال کی قیمتیں زیادہ دکھا کر حکومت سے من مانے ریٹس مقرر کرا لیتی ہیں اس لئے یہاں ادویات بہت زیادہ مہنگی ہو رہی ہیں ، جن 70ہزار سے زائد ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں ان میں کافی عرصہ سے بند رہنے ولا ٹیکہ ہنود و بیان 315روپے سے 525روپے یعنی 12روپے کا ٹیکہ 21روپے کا، گولیاں 2.50روپے کی گولی 5.25روپے فی گولی ۔ ونٹیو جینو بام 37روپے سے 60روپے کا، باسکو پان جس کی قیمت دسمبر 2015ء میں بھی 90روپے اضافہ ہوا تھا اب دوبارہ 100روپے کا اضافہ کرکے ڈبے کی قیمت 200روپے سے 390روپے کر دی گئی ہے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے صرف 3فی صد کی اجازت دی مگر کمپنیوں نے اوور انوائسنگ کرکے قیمت میں 200فی صد اضافہ کرکے اتھارٹی کے احکامات کو چیلنج کیا ہے، روزانہ ادویات استعمال کرنیوالے لاکھوں مریض اس ہو شربا اضافہ کی وجہ سے سخت ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں ، انہوں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور چیف جسٹس آف پاکستان جٹسس انور ظہر جمالی سے اس بے رحمانہ اضافہ پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -