حکم امتناعی نظر انداز،احمد پور شرقیہ کے پارک میں غیر قانونی تعمیرات شروع

حکم امتناعی نظر انداز،احمد پور شرقیہ کے پارک میں غیر قانونی تعمیرات شروع

  

احمدپورشرقیہ (نامہ نگار)احمدپورشرقیہ کے سب سے قیمتی پوش علاقہ سیٹلایٹ ٹاؤن کے زیڈ بلاک میں واٹر سپلائی کی ٹینکی کیلئے ایک ایکڑ پندرہ مرلے پر جگہ مختص کی گئی اور محکمہ ہاؤسنگ نے سیٹلائٹ ٹاؤن کے رہائشیوں کیلئے پانی کی سہولت میسر کرنا تھی۔ مگر ہاؤسنگ نے یہ سکیم ٹی ایم اے کے (بقیہ نمبر61صفحہ12پر )

سپرد کردی اور ٹی ایم اے کی بدانتظامی کے باعث کروڑوں روپے کی سکیم نا چل سکی اور قبل ازیں قبضہ گروپوں سے بچانے کیلئے ٹینکی والے پلاٹ کی چار دیواری کراکے چلڈرن پارک بنا دیا لیکن محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ احمدپورشرقیہ کے مقامی رہائشی سب انجینئر سکنہ زیڈ بلاک سیٹلائٹ ٹاؤن نے اربوں روپے کے پلاٹ پر قبضہ کی خاطر سٹاف کوارٹر بنوانے کیلئے غیر قانونی بغیر NOCکے تعمیرات شروع کرادیں۔ حالانکہ محکمہ پبلک ہیلتھ کے ایکسیئن اور ایس ڈی او کے دفاتر بہاولپور میں موجودہیں اور یہاں بھی ان کا ایک عارضی دفتر کام کررہا ہے۔اس قیمتی پارک کو بچانے کیلئے بلدیہ کے لاکھوں روپے کے فنڈ سے چار دیواری اور دو آہنی گیٹ بھی نصب کئے گئے جسے محکمہ پبلک ہیلتھ کے ٹھیکیدار چوہدری محمد اکرم سکنہ ہارون آباد جو کہ سب انجینئر کا قریبی رشتہ دارہے نے چار دیواری بھی توڑ ڈالی اور دونوں آہنی گیٹ بھی غائب کردئیے ہیں۔ متاثرین نے بتایا کہ اس پلاٹ پر متعدد بار قبضہ کی کوششیں کی گئیں مگر ہر بار اہلیان علاقہ نے ناکام بنائیں لیکن اب سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے چلڈرن پارک پر قبضہ کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس پر سینئر سول جج نے مورخہ8اگست 2016 کو حکم امتناعی جاری فرمایا جس پر بلدیہ اہلکاروں نے اگلے روز تعمیرات کو رکوانے کی کوشش کی مگر پبلک ہیلتھ کے عملہ نے رکاوٹ ڈال کر اپنی غیر قانونی تعمیرات کو جاری رکھا ہے معلوم ہوا ہے کہ اس سازش میں محکمہ پبلک ہیلتھ کے مقامی عملہ کے علاوہ ایک اہم سیاسی شخصیت کا بھی عمل دخل ہے۔ جو کروڑوں روپے کی پراپرٹی کو ٹیکنیکل طریقے سے ہتھیانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں بلال رندھاوا انجینئر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جگہ ہماری ہے اور ہم اس پر سرکاری سٹاف کوارٹر بنا رہے ہیں جو کہ ہماری ذاتی ضرورت ہے۔ اس نے مزید کہا کہ عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا ہے ۔ اس پر سٹے نہیں دیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹی ایم اے حکام سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ قیمتی جگہ محکمہ ہاؤسنگ کی جانب سے لو انکم ہاؤسنگ سکیم کے تحت ٹی ایم اے کے حوالے کی گئی تھی جس کا مالک ٹی ایم اے اور ہم عدالت کے حکم پر کام رکوانے کی پوری کوشش کررہے ہیں مگر ہمیں بھرپور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

غیر قانونی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -