میانوالی میں” ڈائنوسار “کے قدموں کے نشانات دریافت، غیر ملکی سائنسدانوں نے بھی تصدیق کر دی

میانوالی میں” ڈائنوسار “کے قدموں کے نشانات دریافت، غیر ملکی سائنسدانوں نے ...
میانوالی میں” ڈائنوسار “کے قدموں کے نشانات دریافت، غیر ملکی سائنسدانوں نے بھی تصدیق کر دی

  

میانوالی(مانیٹرنگ ڈیسک)مالا خیل کے علاقے میں ”ڈائنو سار “کے قدموں کے نشانات ملنے کا انکشاف ہو ا ہے ۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق مالاخیل کے پاس بروچ نالے کے مقام پر” ڈائنوسار“ کے قدموں کے نشانات ملے ہیں جو نہایت واضح ہیں مگر اب ان کے مٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ چین اور امریکا کے سائنسدانوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات ہیں۔

جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر صادق ملکانی نے 2006 میں اس جگہ پر ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات دریافت کیے ۔ان نشانات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخز کیا گیا تھا کہ یہ جانور یہاںسے کسی سمت ضرور گزرا ہو گا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ علاقہ کسی زمانے میں اس عظیم جانور کا پسندیدہ مقام بھی رہا ہو ۔ اس تحقیق کے بعد یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ 16 کروڑ سال قبل میانوالی کے علاقے میں ڈائنوسار کا راج تھا۔

والز نے 14اگست کے موقع پر بچوں کے ساتھ جشن آزادی کامزہ دوبالا کرنے کا طریقہ متعارف کروادیا، مکمل خبر پڑھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں

جس جگہ ڈائنوسار کے پیروں کے نشانات ثبت ہیں وہ کبھی ہموار ہوا کرتی تھی مگر کروڑوں سال کے عرصے میں یہ علاقہ ڈھلوانی دیوار کی طرح ہوگیا ہے۔ یہاں کی زمین وسط جیوراسک دور سے تعلق رکھتی ہے۔ صادق ملکانی نے بتایا ہے کہ یہاں ایک سبزہ خور سوروپوڈس اور گوشت خور تھیروپوڈ جانورکے پیروں کے نشانات ملے تھے۔ ان نشانات کو دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ گوشت خور جانور سوروپوڈ پر حملہ آور ہوا تھا۔

لیکن افسوس کہ اب ٹریکٹروں اور دیگر مشینوں کی وجہ سے تھیروپوڈ کے نشانات مٹ چکے ہیں کیونکہ یہاں سے کوئلہ نکالا جارہا ہے اور اسی سرگرمی سے کروڑوں سال سے محفوظ ایک عظیم خزانہ تباہ ہوچکا ہے۔ مگر دوسرے ڈائنوسار کے درجن بھر نشانات قدرے بلندی پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

صادق ملکانی نے اس مقام پر ڈائنوسار کے قدموں کے 15 نشانات دریافت کیے تھے جو 1500 مربع فٹ پر بکھرے ہوئے تھے۔ ملکانی کے مطابق دونوں اقسام کے ڈائنوسار ایک ہی جگہ موجود تھے اور شاید بھوکے اور خونخوار تھیروپوڈ نے گھاس پھوس کھانے والے ٹائٹانوسورین سوروپوڈس پر حملہ کیا اور ان کے پیروں کے نشانات وقت کی مٹی میں نقش ہوکر رہ گئے تھے۔

قدموں کے یہ نشانات پوری دنیا میں سب سے گہرے ہیں۔ سوروپوڈ کا پیر 7 سینٹی میٹر اور تھیروپوڈ کا پاو¿ں 10 سینٹی میٹر گہرائی تک ہے۔

اسی مقام پر قدیم سمندری جانور ایمونائٹس اور بیلمنائٹس کے فاسلز بھی بکثرت ملتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کروڑوں سال قبل میانوالی سمندر کے قریب موجود تھا۔قدموں کے نشانات کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ شکاری تھیروپوڈ تیز دانتوں والا جانور تھا جس کی اونچائی 10 سے 12 فٹ اور وزن 8 سے 10 ٹن تک تھاجبکہ سوروپوڈ بڑے جسم اور چھوٹے سر کا مالک تھا۔ سر سے پیر تک اس کی لمبائی 30 فٹ اور وزن 30 ٹن تک تھا۔

مزید :

میانوالی -