اپوزیشن جماعتوں نے سائبر کرائم بل کو کالا قانون قرار دیدیا

اپوزیشن جماعتوں نے سائبر کرائم بل کو کالا قانون قرار دیدیا
اپوزیشن جماعتوں نے سائبر کرائم بل کو کالا قانون قرار دیدیا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن نے سائبر کرائم بل کو مسترد کر دیا ۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے سائبر کرائم بل کو کالا قانون قرارد یتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی مین وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کیلئے الیکٹرانک جرائم کا تدارک بل 2016ایوان میں منظوری کیلئے پیش کیا جس پر پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اراکین نے بل کی مخالفت کی۔

والز نے 14اگست کے موقع پر بچوں کے ساتھ جشن آزادی کامزہ دوبالا کرنے کا طریقہ متعارف کروادیا، مکمل خبر جاننے کیلئے یہاں کلک کریں 

بل پر بحث کا آغا ز کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے نوید قمر ے کہا کہ اس بل کو پہلے قومی اسمبلی کی کمیٹی میں پیش کیا گیا تو کہا گیا تھا کہ اس میں بہتری کی گنجائش ہے ۔ اس پر دوبارہ ایک کمیٹی بنائی گئی اوراس پر شق بہ شق بات کی گئی جبکہ سینٹ میں بھی اس مسئلے پر بات ہوئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل بنیادی انسانی حقوق کے متصاد م ہے اور اس بل کے ذریعے آزادی رائے اور اظہار رائے پر پابندی لگائی جا رہی ہے ۔ہمارا آئین اس قسم کے قوانین کی اجازت نہیں دیتا ، یہ ایک وسیع بل ہے جس میں ایسی چیزیں ہیں جو دنیا کے کسی قانون میں نہیںآتیں ۔

یہ بھی پڑھیں، میانوالی کے علاقے سے ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات دریافت ہو گئے

نوید قمر نے مزید کہا کہ اس بل میں خواتین کی سزا 10سال ہے ، 10سال کا بچہ خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے دس سال کی سزا ہو گی ۔ ایک طرف آپ بچوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب اس قسم کے قوانین نافذ کر رہے ہیں ۔

ایم کیو ایم علی رضا عابدی نے کہا کہ سائبر کرائم بل کی 8شقوں پر ہمیں اعتراضات ہیں اور ہم نے اس میں ترامیم بھی دی ہیں تاکہ بل کا غلط استعمال نہ ہو ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن علی محمد خان نے کہا کہ آئین میں آزادی اظہار اور جزبات پر کوئی قدغن نہیں ہے مگر سائبر کرائم بل کے تحت ان پر پابندی لگائی جارہی ہے ۔ سکول اور کالج کے نوجوان انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور اگر ان کے خلاف مقدمات درج کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو ہمارے نوجوان متاثر ہونگے ۔

مزید :

قومی -