337رنزاور16گھنٹے کی طویل اننگز کھیلنے پر حنیف محمد کو لٹل ماسٹرقرار دیدیا گیا

337رنزاور16گھنٹے کی طویل اننگز کھیلنے پر حنیف محمد کو لٹل ماسٹرقرار دیدیا گیا
337رنزاور16گھنٹے کی طویل اننگز کھیلنے پر حنیف محمد کو لٹل ماسٹرقرار دیدیا گیا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)حنیف محمد کا شمار پاکستان کے ان بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی بنیاد رکھی، اپنی شاندار بیٹنگ اور بہترین صلاحیت نے انہیں کرکٹ کے درخشاں ستاروں میں نمایاں نام دیا۔

ریاست جوناگڑھ میں پیدا ہونیوالے حنیف محمد کی پاکستان کرکٹ میں خدمات بے مثال ہیں، دونوں ہاتھ سے گیند کرنے کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپنگ کی اضافی خوبی نے انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کیا، تقریباً 17 سال تک ان کے نام کا پاکستان کی ٹیم میں طوطی بولتا تھا، دنیا کا کوئی بھی میدان ہو، حنیف محمد مخالف ٹیم کیلئے لوہے کی دیوار ثابت ہوتے تھے، ان کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے انہیں لٹل ماسٹر بھی کہا جاتا ہے۔

حنیف محمد نے پاکستان کا نام کرکٹ کے کھیل میں اس وقت روشن کیا جب سہولیات کی فراہمی دشوار تھی، کھیلوں کا سامان بھی مناسب نہ ہونے کے باوجود انہوں نے کئی بار تن تنہا پاکستان کو فتح سے ہمکنار کرایا، پاکستان کیلئے ان کے محبت کے قصے زبان زد عام ہیں۔

پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے پہلے عالمی شہرت یافتہ ہیرو بلاشبہ حنیف محمد تھے۔ریکارڈ ساز،ریکارڈشکن اورناقابل یقین صلاحیتوں کے حامل حنیف محمد 21 دسمبر 1934ءکو ریاست جوناگڑھ میں پیدا ہوئے تھے جو تقسیم ہند کے موقع پر بھارت میں شامل کر دی گئی تھی۔ وہ 1952ءمیں دہلی میں کھیلے گئے پہلے پاک بھارت ٹیسٹ میں موجود تھے یوں پاکستان کی کرکٹ کے اولین کھلاڑیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔

محمد برادران کے معروف خاندان سے تعلق رکھنے والے حنیف محمد کے بھائی وزیر محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد بھی پاکستان کی اعلیٰ سطح پر نمائندگی کر چکے تھے بلکہ ٹیم کا جزوِ لا ینفک سمجھے جاتے تھے۔ ان کے علاوہ 80ءاور 90ءکی دہائی میں ٹیسٹ اور ایک روزہ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے بلے باز شعیب محمد آپ کے صاحبزادے تھے۔حنیف محمد بلے بازی میں اپنے جوہر دکھانے کے علاوہ قائدانہ صلاحیتوں کے بھی حامل تھے، وکٹ کیپنگ بھی کر لیا کرتے تھے اور سب سے حیران کن بات یہ کہ دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے باو¿لنگ کرا لینے کی حیران کن خوبی بھی رکھتے تھے۔ انہیں ریورس سویپ شاٹ خالق سمجھا جاتا ہے۔

کل 55 ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حنیف محمد نے 97 اننگز میں 43.98 کے اوسط سے 3915 رنز بنائے لیکن جن دو اننگز نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا وہ 1958ءمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاو¿ن ٹیسٹ میں کھیلی گئی 337 رنز کی اننگزتھی جس کی بدولت پاکستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور 473 رنز کے خسارے میں جانے کے بعد فالو آن کے دوران 16 گھنٹے 10منٹ کی طویل اننگز کھیلتے ہوئے میچ کو ڈرا کی جانب لے گئے۔جس کے بعد انہیں لٹل ماسٹر کا خطاب دیا گیا۔

دوسری اننگز، جس نے عالمی مقبولیت حاصل کی، وہ طویل ترین فرسٹ کلاس اننگز کا ریکارڈ تھا۔ حنیف محمد نے 499 رنز بنا کر دنیائے کرکٹ کے بے تاج بادشاہ آسٹریلیا کے سر ڈان بریڈ مین کا 30 سال پرانا ریکارڈ توڑا۔ یہ ریکارڈ تین دہائیوں تک قائم رہا اور بالآخر شہرہ آفاق ویسٹ انڈیز بلے باز برائن لارا نے 1994ءمیں ناقابل شکست 501 رن بنا کر توڑا۔

وکٹ پر چمٹے رہنے اور شاذ و نادر ہی ہوا میں اچھال کر شاٹ کھیلنے کے لیے مشہور حنیف محمد کی 12 ٹیسٹ سنچریوں میں کئی یادگار اننگز شامل تھیں جن میں 1967ءکے لارڈز ٹیسٹ کی 187 رنز کی ناقابل شکست اننگز بھی شامل ہے۔

مزید :

کھیل -