نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو سانحہ کوئٹہ نہ ہوتا: انٹرنینشل لائرز کلب یوکے

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو سانحہ کوئٹہ نہ ہوتا: انٹرنینشل لائرز ...
نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو سانحہ کوئٹہ نہ ہوتا: انٹرنینشل لائرز کلب یوکے

  

لندن(عرفان الحق)کوئٹہ سانحہ حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وکلاء معاشرے کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا طبقہ ہے جس کو بے دردی سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔پاکستان میں قانون دکھانے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کیا جاتا تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ ان خیالات کا اظہار کوئٹہ میں وکلاء پر دہشت گردی کے واقعے کے خلاف اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والے وکلا ء کے لئے  کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرینس میں وکلاء نے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ تعزیتی ریفرینس کی صدارت انٹرنیشنل لائرز کلب کے چیئرمین معظم علی سندھو نے کی جبکہ اس میں ممبر پاکستان بار کونسل مقصود بُٹر 'ممبر پنجاب بار کونسل رانا انتظار کے علاوہ امتیاز رانجھا۔ صفدر اقبال ،رضوان سلہریا۔ شفاقت سندھو۔ ساجد حسین۔ جاوید اقبال وٹو سمیت بڑی تعداد میں وکلاء نے شرکت کی۔

اس موقع پر وکلاء نے کو ئٹہ سانحہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت وقت انسانی جانوں کی حفاطت کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء معاشرے کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا طبقہ ہوتا ئے جو کہ معاشرے کی راہنما ئی کرنے کے ساتھ ساتھ بے سہارا افراد کی مدد کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ججز اور وکلاء پہلے بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے آ رہے ئیں لیکن صد افسوس کہ حکومتی اور سکیورٹی اداروں نے کسی قسم کے سیکورٹی کے انتظامات نہیں کئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بٹر کا کہنا تھا کہ ملک میں کھبی بھی حقیقی جہوریت قائم نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت سمیت سابقہ ادوار میں بھی دہشتگردی کے ناسور سے نمنٹے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان بنا تو دیا گیا لیکن بدقسمتی سے ماسوائے فاٹا کے ملک کے کسی حصے میں اس پر عمل درامد نظر نہیں آیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انٹرنیشنل لائرز کلب کے چیئرمین معظم سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نہ تو مساجد محفوظ ہیں اور نہ ہی سکول۔ انہوں نے حکومتی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ دھرایا۔

اجلاس سے سابق چیئرمین رضوان سلہریا۔ شفاقت سندھو۔ جاوید وٹو۔ پنجاب بار کونسل کے ممبر رانا انتظار سمیت دیگر وکلا ء نے بھی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وکلاء بار سمیت تمام عوامی اداروں کے لئے فُول پروف سکیورٹی کے انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

انٹرنیشنل لائرز کلب کے تعزیتی اجلاس میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی جس کے تحت واقعہ کوئٹہ میں شہید وکلاء کے لواحقین کے لئے مالی امداد کا انتظام کیا جائےگا۔ تاکہ شہداء کی فیملز کی مشکلات میں کمی کی جا سکے۔

پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بُٹر کا کہنا تھا کہ ملک میں قائم موجودہ حکومت سمیت سابقہ ادوار میں بھی دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے کوئی اقدامات نہیں کے گے انہوں نے سیاسی راہنماوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دکھلاوے کے اقدامات کرکے اگلے الیکشن جیتنے کے اقدامات کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جاتا ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ میں وکلاء کی کریم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے ہسپتالوں میں صحت اور ایمرجنسی انتظامات پر بھی تخفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے سب سے بڑے ہسپتال میں ایمر جنسی کے اتنے انتطامات نہیں تھے ۔ جس کی وجہ سے زخمیوں کو کراچی منتقل کرنا پڑا۔پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے معظم علی سندھو۔ رضوان سلہریا ،امتیاز رانجھا اور دیگر نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پاکستان آرمی سے مطالبہ کیا کہ وہ پورے پاکستان میں بلا امتیاز آپریشن کریں اور ایسی نرسریاں جہاں سے ایسا مائینڈ سٹ نکل رہا ہے ان کا قلع قمع کرنے کا مطالبہ کیا اور عدالتوں اور بارز میں جدید سکیورٹی کے انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا بعدازاں سانحہ کوئٹہ کے شہداء کے لئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔

مزید :

برطانیہ -