بچوں کی خرید وفروخت کی بیرون ملک منڈی اور سمگلنگ کے حوالے سے سنسنی پھیلانیوالی تصاویر کی حقیقت سامنے آگئی

بچوں کی خرید وفروخت کی بیرون ملک منڈی اور سمگلنگ کے حوالے سے سنسنی ...
بچوں کی خرید وفروخت کی بیرون ملک منڈی اور سمگلنگ کے حوالے سے سنسنی پھیلانیوالی تصاویر کی حقیقت سامنے آگئی

  

لاہور(ویب ڈیسک)بچوں کے پراسرارطورپر اغواءکے بعد خریدوفروخت کی بیرون ملک منڈی اور سمگلنگ کے حوالے سے سنسنی پھیلانیوالی تصاویر کی حقیقت سامنے آگئی ، زیرنظرتصویر اغواءہونیوالے کسی پاکستانی بچے کی نہیں بلکہ 9سالہ انڈونیشین بچی کی ہے جسے 2015ءمیں اغواءکے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور بچی کی لاش ٹیپ سے لپیٹ کر ڈبے میں بند کرکے کچرے میں پھینک دی گئی تھی۔

پنجاب میں بچوں کی بڑھتی ہوئی اغواءکی وارداتوں نے والدین کو پریشان کردیا ہے تووہیں سوشل میڈیا کے غیرذمہ دار صارفین یا مخصوص ذہن نے معاشرے میں بے چینی پھیلانے کیلئے اس تصویر کاسہارالیا اور سوشل میڈیا پر بچوں کی سمگلنگ کی خبروں کیساتھ ہی یہ تصویروائرل کردی جس کے بعد ایف آئی اے حکام بھی ایکشن میں آگئے اور بچوں کے اعضاءکی بیرون ملک سمگلنگ سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات کیلئے ٹیلی فون نمبر بھی جاری کردیئے ۔

اس تصویر کی حقیقت کا بھی میڈیا نے کھوج لگالیا اور نجی ٹی وی چینل ’اب تک ‘ کے مطابق یہ تصاویرانڈونیشیاءکی پتری نورفوزیہ کی ہیں ۔یادرہے کہ پاکستان میں چند اخبارات نے بھی رپورٹ کی تھی کہ مبینہ طورپر اغواءہونیوالے بچوں کے اعضاءکو تھائی لینڈ سمگل کیا جارہاہے اور اس مقصد کیلئے کوریئرسروسز کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں جو کسی صورت درست نہیں اور روزنامہ پاکستان کو ایسی کسی خبرکی تصدیق نہیں ہوسکی ۔

مزید :

جرم و انصاف -