چین اور روس نے مل کر منصوبہ بنالیا، ایسا کام کریں گے کہ امریکہ اب سپر پاور نہیں رہے گا۔۔۔ ایسی خبر کہ امریکیوں کے ہوش اڑادئیے

چین اور روس نے مل کر منصوبہ بنالیا، ایسا کام کریں گے کہ امریکہ اب سپر پاور ...
چین اور روس نے مل کر منصوبہ بنالیا، ایسا کام کریں گے کہ امریکہ اب سپر پاور نہیں رہے گا۔۔۔ ایسی خبر کہ امریکیوں کے ہوش اڑادئیے

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) امریکہ نے سپر پاور بن کر دنیا میں جو تباہی و بربادی مسلط کی ہے اس کی مثال تاریخ میں شاید ہی مل سکے، لیکن تاریخ میں پہلی بار دو بڑے ملکوں نے مل کر ایک ایسا فیصلہ کرلیا ہے کہ جس کے بعد ’سپر پاور امریکا‘ ماضی کی بات بن کر رہ جائے گا۔

اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق چین اور روس نے متحد ہوکر ایک نیا فوجی اتحاد بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے جو نہ صرف ایک نئے ورلڈ آرڈر کی بنیاد بنے گا بلکہ امریکہ اور نیٹو کے غبارے میں سے ہوا بھی نکال دے گا۔ رپورٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے کمیونسٹ پارٹی کے 95ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایک تہلکہ خیز بیان میں روس کو پیغام دیا کہ دونوں ملک مل کر نیا فوجی اتحاد قائم کریں تاکہ مغربی طاقتوں اور خصوصاً امریکا اور نیٹو کے توسیع پسندانہ عزائم کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جائے۔

اسرائیل اپنے سب سے بڑے دشمن ایران کو 120 ارب روپے دے گا کیونکہ۔۔۔

چینی صدر نے اس اہم ترین بیان میں کہا ”دنیا بنیادی تبدیلی کے دہانے پر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یورپی یونین بتدریج زمین بوس ہورہی ہے اور امریکی معیشت کا بھی یہی حال ہے۔ یہ نئے ورلڈ آرڈر کے آغاز کا وقت ہے۔ اب دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ اگلے 10 سال کے دوران ایک نیا ورلڈ آرڈر ظہور پذیر ہوچکا ہوگا، جس کی بنیاد چین اور روس کا اتحاد ہوگا۔“

والز نے 14اگست کے موقع پر بچوں کے ساتھ جشن آزادی کامزہ دوبالا کرنے کا طریقہ متعارف کروادیا

واضح رہے کہ چین اور روس کے عسکری اتحاد کا فیصلہ ایک ایسے نازک لمحے پر سامنے آیا ہے کہ جب ایک طرف امریکہ بحیرہ جنوبی چین میں کھلم کھلا مداخلت کرکے چین کو چیلنج کررہا ہے اور دوسری جانب اس کے اتحادی ممالک اور نیٹو کی افواج روس کی سرحد پر جمع ہورہی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی روس اور چین کے گرد گھیرا ڈالنے کی کوشش دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لے آئی ہے۔ ایسی صورتحال میں چین اور روس کا اتحاد ایک ایسی پیشرفت قرار دیا جارہا ہے کہ جو ناصرف تیسری عالمی جنگ کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے بلکہ اسے امریکہ کے تابوت میں آخری کیل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -