’اب یہ کام ہم دونوں مل کر کریں گے‘ ترکی اور روس نے بڑا فیصلہ کرلیا، ایسا فیصلہ کہ جان کر امریکہ کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

’اب یہ کام ہم دونوں مل کر کریں گے‘ ترکی اور روس نے بڑا فیصلہ کرلیا، ایسا ...
’اب یہ کام ہم دونوں مل کر کریں گے‘ ترکی اور روس نے بڑا فیصلہ کرلیا، ایسا فیصلہ کہ جان کر امریکہ کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

  

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کی امریکہ سے دوری اور روس سے قربت ایسی حیران کن رفتار سے آگے بڑھی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد اب بات دفاعی اتحاد تک بھی پہنچ گئی ہے۔

اندولو نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ترک صدر رجب طیب اردوان کی اہم ترین ملاقات کے بعد ترک وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک مضبوط دفاعی اتحاد کیلئے مشترکہ ملٹری ، انٹیلی جنس اور ڈپلو میسی میکانزم قائم کریں گے۔ ترک وزیر خارجہ مولوت چاﺅش اوگلو نے اس ضمن میں ہونیوالی اہم ترین پیش رفت کے بارے میں بتایا کہ ایک اعلیٰ سطحی ترک وفد آج رات کو ہی روسی دارالحکومت جائے گا۔ اس وفد میں ترک وزارت خارجہ اور ترک مسلح افواج کے اعلیٰ افسران شامل ہونگے جبکہ ملک کے انٹیلی جنس سربراہ بھی اس اہم وفد کا حصہ ہوں گے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی دفاعی اہلکاروں کے علاوہ متعلقہ وزرا ءکی ملاقات بھی ہو گی۔

’یہ منصوبہ ہر صورت مکمل کریں گے‘ طیب اردگان اور پیوٹن نے مل کر ایسے منصوبے کا اعلان کردیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پریشان کردیا

ترکی اور روس کے درمیان اس حیران کن پیش رفت کے بعد امریکہ کیلئے بہت بڑی پریشانی کھڑی ہو گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اب واقعی یہ فکر لاحق ہو گئی ہے کہ اس کا دیرینہ دوست اورنیٹو کا اہم رکن ترکی نہ صرف اس سے علیحدہ ہو رہا ہے بلکہ اس کے سب سے بڑے مخالف روس کے ساتھ اتحاد کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ ترک وزیر خارجہ اس ضمن میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ترکی اب اپنے دفاعی تعلقات نیٹو مماملک کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ قائم کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے نیٹو کے ساتھ اب تک تعاون کرنے کی کوششیں جاری رکھیں لیکن نتائج تسلی بخش نہیں رہے، لہٰذا دیگر آپشنز کی جانب بڑھنا ایک فطری بات تھی۔

والز نے 14اگست کے موقع پر بچوں کے ساتھ جشن آزادی کامزہ دوبالا کرنے کا طریقہ متعارف کروادیا

باہمی دفاعی تعلقات کے علاوہ ترکی اور روس نے شام کے میدان جنگ میں بھی تعاون کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بھی 100 ارب ڈالر (تقریباً 100 کھرب پاکستانی روپے ) تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے باہمی ایٹمی توانائی کے منصوبوں پر پیش رفت کرنے کیلئے اکوئیو نوکلیئر پلانٹ کے منصوبے کو بھی متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ خطے میں نئے اتحاد کے قیام کیلئے ترکی، روس اور آزربائیجان کے درمیان عنقریب ہونے والی میٹنگ میں اہم ترین فیصلے متوقع ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -