خوشی کے مارے رقص کرتی ان خواتین کا تعلق کس عرب اسلامی ملک کی فوج سے ہے؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

خوشی کے مارے رقص کرتی ان خواتین کا تعلق کس عرب اسلامی ملک کی فوج سے ہے؟ جواب ...
خوشی کے مارے رقص کرتی ان خواتین کا تعلق کس عرب اسلامی ملک کی فوج سے ہے؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں کرد خواتین جنگجو دستے کے بعد اب شام میں بھی خواتین کی ایک فوج بن گئی ہے جو داعش کے خلاف نبردآزما ہونے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 210خواتین کے اس جنگجو دستے کا تعلق ’دی سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ سے ہے جنہیں فوجی تربیت دی جا رہی تھی۔گزشتہ دنوں تربیت مکمل ہونے پر ان خواتین نے رقص کیا اورجشن منایا۔ ان خواتین کو ہتھیار چلانے، جنگی حکمت عملی بنانے اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کی تربیت دی گئی ہے۔

’یہ دیکھو پوری بس برقعہ پوش خواتین سے بھری ہے‘ مغربی ملک میں اسلام کے مخالفین کا سوشل میڈیا پر تصویر لگا کر ہنگامہ، لیکن دراصل یہ برقعہ اوڑھے خواتین کی بجائے کیا چیز تھی؟ حقیقت سامنے آئی تو پوری دنیا کے سامنے شرم سے پانی پانی ہوگئے

اس فوجی دستے کی اہلکار لیلیٰ حسین کا کہنا ہے کہ ”ہمارا مشن داعش کے سامنے ڈٹ جانا اور انہیں یہ بتا دینا ہے کہ خواتین کمزور نہیں ہوتیں۔“ اس دستے کی ترجمان جیہان شیخ احمد کا کہنا تھا کہ ”اس دستے کی خواتین کو داعش کے گڑھ رقہ میں اگلے مورچوں پر تعینات کی جائے گا اور یہ باقی فوج سے آگے رہتے ہوئے شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑیں گی۔“امریکی اتحادی افواج کے ترجمان کا اس دستے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ”اس دستے میں شامل خواتین عرب ہیں۔“ ان کی پاسنگ آﺅٹ تقریب کے ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ”ان خواتین میں سے زیادہ تر کرد ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس