’میری بیوی بچے کو اپنا دودھ پلارہی تھی کہ میرے ذہن میں یہ تصویر آئی اور میں نے اسے مار ڈالا‘ اپنی بیوی کو قتل کرنے والے نے عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ جج کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

’میری بیوی بچے کو اپنا دودھ پلارہی تھی کہ میرے ذہن میں یہ تصویر آئی اور میں ...
’میری بیوی بچے کو اپنا دودھ پلارہی تھی کہ میرے ذہن میں یہ تصویر آئی اور میں نے اسے مار ڈالا‘ اپنی بیوی کو قتل کرنے والے نے عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ جج کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا کے دارالحکومت کنبرا میں مقیم یمنی پناہ گزین نے خنجر کے وار کرکے اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ جب اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اس گھناﺅنے جرم کی ایسی وجہ بتا دی کہ جج سمیت وہاں موجود ہر شخص کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 36سالہ مجد الہرازی کی اہلیہ، 3بچوں کی ماں، صباح المدوالی اپنے تیسرے نوزائیدہ بچے کو اپنا دودھ پلا رہی تھی۔ اسی دوران مجرم نے خنجر سے اس پر حملہ کر دیا۔ اس نے صباح کے جسم میں 50بار خنجر گھونپا جس سے موقع پر ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔

شادی کی تقریب ختم ہوتے ہی دلہن نے اپنے عروسی جوڑے سے پستول نکالی اور دولہا کو گولی ماردی، لیکن یہ کام کیوں کیا؟ جان کر ہر مرد ہکا بکا رہ جائے

عدالت میں مجرم نے کہا ہے کہ ”مجھے قدرت کی طرف سے پیغام ملا تھا کہ میری بیوی کے کسی اور کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ اس پر میں نے اسے قتل کر دیا۔“ رپورٹ کے مطابق مجرم کے دونوں بڑے بچوں نے عدالت میں اپنے باپ کے خلاف گواہی دی۔ بڑی بیٹی نے عدالت کو بتایا کہ ”میں نے اس رات دیکھا تھا کہ میرا باپ میری ماں کو خنجر سے مار رہا تھا اور وہ چیخ رہی تھی۔“ عدالت کی طرف سے جرم ثابت ہو جانے پر اسے 30سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ سزا پوری ہونے کے بعد اسے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ عدالت میں معاملے کا دوسرا رخ بھی سامنے آیا۔ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ دونوں میاں بیوی میں اکثر آسٹریلیا میں رہنے پر جھگڑا رہتا تھا۔ مقتولہ کنبرا میں ہی رہنا چاہتی تھی جبکہ یہ شخص واپس یمن جانا چاہتا تھا۔ اسی بات پر جھگڑا اس واردات کی وجہ بنا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس