فریضہ حج۔۔۔وزارتِ مذہبی امور کی کارکردگی !

فریضہ حج۔۔۔وزارتِ مذہبی امور کی کارکردگی !
 فریضہ حج۔۔۔وزارتِ مذہبی امور کی کارکردگی !

  

پیپلز پارٹی کے سابقہ حکومتی دور میں ہونے والا 2010ء کا حج آج بھی ایک ڈراؤنا خواب بن کر ہماری یاد داشتوں میں موجود ہے، جس میں پاکستانی حاجیوں کے ساتھ تاریخ کی بد ترین کرپشن کی گئی ۔یاد رہے کہ اس کرپشن کی نشاندہی ایک سعودی شہزادے نے کی تھی ، جس نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کو ایک خط کے ذریعے سوموٹو ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کس طرح پاکستانی حاجیوں کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔اس خط کی روشنی میں سپریم کورٹ نے ایکشن لیا اور بعد کی تحقیقات سے یہ تمام الزامات بالکل درست ثابت ہوئے۔ اس مقدس فریضہ کے حوالے سے اربوں روپے کی کرپشن کرنے کے جرم میں سپیشل سینٹرل جج ملک نذیر احمد کی طرف سے حامد سعید کاظمی کو 16سال قید اور 83لاکھ روپے جرمانہ، سابق ڈی جی حج راؤ شکیل کو40سال قید اور 14کروڑ 40لاکھ روپے جرمانہ جبکہ سابق ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور راجہ آفتاب کو 16سال قید کی سزا سنائی گئی۔ابھی ان مجرموں کو اڈیالہ جیل میں کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ 21مارچ 2017ء کو حج کرپشن کے ان تینوں مجرموں کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے باعز ت بری کر دیا ۔ اس کے بر عکس ، جب سے موجودہ حکومت میں وزارتِ مذہبی امور کا چارج سردار محمد یوسف نے سنبھالا ہے، تب سے بہت ساری کمیوں کوتاہیوں کے باوجود حج انتظامات نہ صرف پہلے سے بہت بہتر ہوئے ہیں،بلکہ حج اخراجات میں بھی کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی ہے۔یہ عمدہ کار کردگی لائق تحسین ہے۔

حج آپریشن 2017ء کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ برس تک سرکاری کوٹہ 50فیصد اور پرائیویٹ حج کوٹہ بھی 50فیصد ہوتا تھالیکن اس مرتبہ سرکاری حج سکیم کا کوٹہ بڑھا کر 60فیصد کر دیا گیا ، جس سے17ہزار حجاج کو اخراجات کی مد میں تقریباً 30 سے 50 ہزار روپے تک کی بچت حاصل ہوئی ہے۔ اس ریلیف کے علاوہ ایک اچھی کاوش یہ کی گئی کہ اس مرتبہ 65سال یا اس سے زاید عمر کے حجاج کو اکانومی کلاس کے کرائے پر بزنس کلاس میں سفر کروایا جا رہا ہے تاکہ بزرگوں کو زیادہ سے زیادہ سفری سہولت مل سکے۔یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ اس سال وزارتِ مذہبی امور نے اللہ کے مہمانوں کو مختلف سہولیات کی فراہمی اور ان کی دیکھ بھال کے لئے ساڑھے چھے سو افراد پر مشتمل ویلفیئر سٹاف سعودی عرب بھجوایا ہے، جن میں اڑھائی سو کے قریب ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف شامل ہے جو جدہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عازمینِ حج کو طبی سہولیات کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔خدام الحجاج، اس ویلفیئر سٹاف کے علاوہ اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔حج اخراجات کا جائزہ لیا جائے، تو اس سال سرکاری سکیم کے حج اخراجات نارتھ زون(پنجاب، خیبر پختونخوا) کے حجاج کے لئے 280000روپے، جبکہ ساؤتھ زون(کراچی ، کوئٹہ ، سکھر) کے حاجیوں کے لئے270000روپے رکھے گئے ہیں۔

پاکستان کی سرکاری حج سکیم کے اخراجات کا موازنہ اگر پڑوسی مُلک انڈیا سے کیا جائے تو وہاں سرکاری سکیم کے تحت حج کرنے والے 107520افراد سے فی کس 235150روپے وصول کئے گئے ہیں، جن کو اگر پاکستانی کرنسی میں تبدیل کریں تو یہ رقم تقریباً 4لاکھ 70ہزار روپے بنتی ہے۔ اس اعتبار سے پاکستانی حجاج کے اخراجات انڈین حجاج کے اخراجات سے نصف بنتے ہیں جو کہ باعث اطمینان ہے۔البتہ انڈین حکومت کا اپنے حجاج کے لئے ایک مستحسن اقدام سبسڈی دینے کا ہے جوکہ ہمارے ہاں نہیں ہے۔ انڈین حکومت ہر سال کی طرح اس سال بھی اپنے حجاج کو 8ارب روپے سبسڈی دے رہی ہے، یعنی ہر حاجی کے اخراجات میں انڈین حکومت کی طرف سے فی حاجی 70000روپے کا حصہ شامل ہوتا ہے جو حج سے واپسی پر تمام حجاج کرام کو ادا کیا جا تا ہے ۔وفاقی وزیر مذہبی امور کو سبسڈی کے حوالے سے بھی آئندہ کے لئے جائزہ ضرور لینا چاہئے۔ یہ بات بھی قابل عمل اور توجہ کے لائق ہے کہ انڈیا میں کسی بھی علاقہ سے حج کے لئے سفر کرنے والے حاجی کے فضائی سفرکا کرایہ ایک ہی جتنا ہوتا ہے ، وہاں ساؤتھ اور نارتھ کے الگ الگ کرائے نہیں لئے جاتے، اسی طرح پورے پاکستان کے کسی بھی علاقے سے سفرِحج کرنے والے ہر فرد کا کرایہ بلا تخصیص یکساں ہونا چاہئے، یعنی نارتھ زون کے علاقوں سے حج کرائے میں اضافی لئے جانے والے دس ہزار روپے کے فرق کو ختم کر دینا چاہئے۔مزید برآں حکومتِ انڈیا کی حج کمیٹی نے آئندہ برس2018ء میں ممبئی سے جدہ بذریعہ بحری جہاز حجاج کرام کو لے جانے کا منصوبہ مکمل کر لیا ہے، جس سے انڈیا کے حجاج کے سفری اخراجات نصف سے بھی کم ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے بھی حکومتِ پاکستان اور وزارتِ مذہبی امور کو اقدام کرنے کی ضرورت ہے ۔

مزید : کالم