جی ٹی روڈ مارچ۔۔۔ سیاسی اخلاقیات کا یکساں اطلاق

جی ٹی روڈ مارچ۔۔۔ سیاسی اخلاقیات کا یکساں اطلاق

راولپنڈی سے لاہور کی جانب نواز شریف کا سفر جاری ہے،راستے میں جگہ جگہ اُن کا استقبال کیا جا رہا ہے،جو لوگ قافلے کے ہمراہ چل رہے ہیں وہ بھی بہت پُرجوش ہیں اور شدید گرمی کے اس موسم میں جو لوگ طویل سفر پیدل طے کر رہے ہیں یا گھنٹوں انتظار کر کے قافلے کا حصہ بن رہے ہیں اُن کی جرأت و ہمت قابلِ داد ہے، ان میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں،مسلم لیگ(ن) تو اِس مارچ کو توقع سے زیادہ کامیاب گردان رہی ہے تاہم ایسے سیاست دان بھی ہیں جن کے خیال میں عوام نے اِس مارچ میں زیادہ دلچسپی نہیں لی اور نواز شریف کو مسترد کر دیا ہے اِس رائے کا ساتھ دینے والے بھی ہوں گے تاہم یہ قافلہ منزلیں مارتا ہوا عازمِ لاہور ہے، لاہور پہنچ کر اس کا کس طرح استقبال ہوتا ہے اور پھر اس مارچ کے سیاسی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ آئندہ دیکھا جائے گا،وقت کا پہیہ بہرحال رواں دواں ہے اور اسی تیزی کے ساتھ سیاست بھی آگے بڑھ رہی ہے۔

جی ٹی روڈ پر چلنے والا یہ کوئی پہلا سیاسی قافلہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آخری ہے، اِس شاہراہِ پاکستان پر بہت سے سیاسی قافلے اپنے قدموں کے نقوش مُرتسم کر کے تاریخ کے حوالے کر گئے زیادہ پیچھے نہ بھی جائیں تو مسلم لیگی رہنما خان عبدالقیوم خان کا32 میل لمبا جلوس تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے یہ58ء سے پہلے کی بات ہے کہ اس جلوس کے تھوڑے عرصے بعد ہی ملک میں مارشل لا لگ گیا تھا۔یہ جلوس آج تک سیاسی تاریخ میں ایک حوالے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، 58ء میں مارشل لاء لگا تو سیاست، سیاسی جماعتیں اور سیاسی سرگرمیاں شجر ممنوعہ ہو گئیں، بہت سے نامور سیاست دان ایبڈو کی پابندیوں کی زد میں آ گئے،اُنہیں سات سال کے لئے ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں سے روک دیا گیا اِس دوران جمہوریت میں ’’بنیادی‘‘ تڑکا لگایا گیا اور نئے صدارتی دستور کے نفاذ کے بعد کوشش کی گئی کہ صرف ان سیاست دانوں کو آگے بڑھایا جائے جن کی پرورش و پرداخت فوجی حکومت کی لگائی ہوئی نرسری میں ہوئی ہو۔ایبڈو کی سات سالہ پابندیاں ختم ہوئیں تو بعض پرانے ستاروں نے سیاسی اُفق پر دوبارہ جگمگانا شروع کر دیا اِس دوران بہت سے ستارے ڈوب گئے تھے، کچھ چراغِ سحری تھے اور ٹمٹما رہے تھے۔ فوجی اور سیاسی حکومتوں کا یہ سفر جاری و ساری رہا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب جی ٹی روڈ پر بڑے بڑے لانگ مارچ ہونے لگے، نواز شریف کی پہلی حکومت کو غلام اسحاق خان نے برطرف کیا تو سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی اور حکومت بحال کر دی،لیکن غلام اسحاق خان نے اسے دوبارہ چلنے نہ دینے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ اسی دوران بے نظیر بھٹو نے ایک لانگ مارچ کا پروگرام بنایا تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے انہیں جی ایچ کیو میں بُلا کر اُن سے کہا کہ اگر وہ نئے انتخابات چاہتی ہیں تو اس کا اہتمام کر دیا جائے گا وہ لانگ مارچ ملتوی کر دیں ایسا ہی ہوا اور نواز شریف اور اسحاق خان دونوں کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا،بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے خلاف بھی لانگ مارچ ہوتے رہے، جب نواز شریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو اُنہیں جنرل پرویز مشرف نے پہلے اقتدار سے محروم کیا،طیارہ کیس میں عمر قید کی سزا ہوئی پھر سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی مداخلت پر نواز شریف کو سعودی عرب بھیج دیا گیا،جلا وطنی کے دوران لندن میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو میں ایک میثاقِ جمہوریت ہوا تھا جس کی دھجیاں تو بہت پہلے اس وقت بکھرنا شروع ہو گئی تھیں جب بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان این آر او ہوا تھا تاہم آج کل پھر اس کا ذکر آ رہا ہے اور اکثرو بیشتر یہ لفظ طعنوں کے لئے بھی استعمال ہو رہا ہے۔پیپلزپارٹی کی حکومت میں پاکستان عوامی تحریک نے ایک لانگ مارچ کیا تھا جو اسلام آباد میں جا کر دھرنے میں تبدیل ہوا،لیکن چار دن بعد ہی یہ ختم ہو گیا،بہت سے سیاسی رہنما خود طاہر القادری کے کنٹینر میں گئے اور بعض موہوم سے مطالبات مان کر دھرنا ختم کر دیا گیا،لیکن پیپلزپارٹی کے پورے دور میں عملاً ان مطالبات کے ضمن میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ نہ پھر کبھی اس دھرنے کا ذکر ہوا عوامی تحریک نے دوسرا دھرنا اگست2014ء میں تحریک انصاف کے ساتھ دیا جو بالترتیب76اور126دن تک رہے۔

نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کر کے وزارتِ عظمیٰ چھوڑ چکے، ان کی قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب کے شیڈول کا اعلان ہو چکا، الیکشن کمیشن کے حکم پرمسلم لیگ(ن) کی صدارت سے بھی وہ سبکدوش ہوچکے ہیں آج کل میں مسلم لیگ (ن) کے نئے صدر سامنے آجائیں گے لیکن اب اُن کے سیاسی مخالف چاہتے ہیں کہ وہ کوئی سیاسی سرگرمی بھی نہ کریں، انہوں نے جب جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد سے لاہور آنے کا اعلان کیا تو اس کے خلاف زبردست منفی پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیا، کبھی کہا گیا کہ یہ توہین عدالت ہے،کبھی اسے قومی اداروں پر دباؤ ڈالنے کا حربہ قرار دیا گیا۔یہ بھی فرمایا گیا کہ اُنہیں شرم سے منہ چھپا لینا چاہئے تھا وہ کس مُنہ سے جی ٹی روڈ پر آ رہے ہیں اور یہ فرمان اُن کا تھا جن کے کارکنوں نے اپنے ناکام دھرنے کے دوران پارلیمینٹ کی عمارت کے سبزہ زار پر قبضہ کئے رکھا،پارلیمینٹ کے دروازے سے کسی رکن پارلیمینٹ کو اندر نہ جانے دیا گیا اور یہ اعلان بھی کیا گیا کہ کوئی اس راستے سے باہر بھی نہیں آ سکتا،چنانچہ ارکانِ پارلیمینٹ نے ایوانِ صدر کا راستہ استعمال کیا،دھرنے کے دوران ایوانِ صدر کے صدر دروازے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی،پارلیمینٹ ہاؤس کی ریلنگ کاٹی گئی،پانی کی مین سپلائی لائن توڑ کر گندے کپڑے سڑک پر دھوئے گئے اور سپریم کورٹ کی بیرونی دیوار کی ریلنگ پر خشک کرنے کے لئے لٹکا دیئے گئے۔ فاضل ججوں کا راستہ روکا گیا، پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کر کے نشریات معطل کی گئیں، پولیس افسروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وزیراعظم ہاؤس کی جانب جانے والا راستہ بند کیا گیا اور جب پی ٹی وی پر قبضہ ہو گیا تو یہ اعلان کر دیا گیا کہ آدھی کامیابی ہو گئی ہے باقی آدھی بھی جلد ہو جائے گی۔تحریک انصاف کے حامی126 دن تک دھرنا دے کر بیٹھے اور امپائر کی انگلی اٹھنے کے منتظر رہے روزانہ کے حساب سے ارکانِ پارلیمینٹ کو گالیاں دیتے رہے، استعفے دیئے پھر واپس جا کر پوری مراعات لے لیں اور جب یہ دونوں دھرنے ختم ہوئے تو سی ڈی اے کو علاقے کی صفائی کرنے میں مہینوں لگ گئے۔ فضائیں عرصے تک مسموم رہیں۔

چیزیں موازنے اور تقابل سے سمجھ میں آتی ہیں اِس لئے اِن دھرنوں کا تذکرہ کرنا پڑا اب اِن حضرات کو اعتراض ہے کہ نواز شریف جی ٹی روڈ سے لاہور کیوں جا رہے ہیں اس کے لئے بڑے بڑے روشن دلائل لائے جا رہے ہیں،اس مجرد عمل کو توہینِ عدالت قرار دیا جا رہا ہے گویا سپریم کورٹ کی عمارت پر کپڑے سکھانے کے لئے پھیلا دینے سے عدالت کی شہرت کو چار چاند لگ گئے تھے، کبھی دہشت گردی کے خطرے سے ڈرایا جا رہا ہے کہیں کہا جارہا ہے مسلم لیگ کو شیرکا نشان استعمال نہ کرنے دیا جائے یہ سب کیسے ہوگا کسی کو معلوم نہیں یہاں تک کہ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا گیا کہ نواز شریف کو جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے سے روکا جائے۔عدالتوں میں مسلم لیگ(ن) پر پابندی لگانے کے لئے بھی رجوع کیا جا رہا ہے،چلئے یہ تو درخواست گزار جانیں اور عدالتیں جانیں،لیکن آئین پاکستان کے تحت ہر سیاسی جماعت قاعدے قانون کے اندر رہ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔یہ عجیب منطق ہے کہ جو لوگ قانون توڑتے رہے،پولیس افسروں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے، تھانوں پر حملے کر کے اپنے گرفتار افراد چھڑا لے جاتے رہے،پورے اسلام آباد شہر کو عذاب میں مبتلا کئے رکھا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے اور اس پر اظہار تفاخر بھی کرتے رہے وہ تو جو جی چاہیں کریں اور ایک حکمران جماعت جسے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے اس کے ارکان اپنے لیڈر کو الوداع کہنے کے لئے کسی جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور کسی دوسرے مقام پر اکٹھے ہو کر ان کا استقبال نہیں کر سکتے، اور کسی قافلے کی صورت میں جی ٹی روڈ پر چل نہیں سکتے سیاسی کھلاڑیوں کے لئے کھیل کا میدان اور کھیل کے ضابطے یکساں ہونے چاہئیں اِلا یہ کہ کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے لیکن یہاں ہو یہ رہا ہے کہ قانون توڑنے والے عدالتوں سے مفرور ہو کر بھی دندناتے پھر رہے ہیں اور مسلم لیگ(ن) کو جی ٹی روڈ پر آنے سے روکنے کے مطالبے کئے جارہے ہیں۔ تمام سیاست دانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کریں جو اپنے لئے کرتے ہیں۔سیاسی اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ صاف ستھرا سیاسی کھیل قانون اور قاعدے کے مطابق کھیلا جائے اور جو بھی کھیلنا چاہے اسے کھیلنے دیا جائے اور بے جا الزام تراشیوں سے گریز کیا جائے۔

پٹرول اور ڈیزل کی دوگنا منافع پر فروخت

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں یہ ’’انکشاف‘‘ ہوا ہے کہ حکومت ڈیزل اور پٹرول30روپے لٹر خرید کر صارفین کو 70سے 80روپے لٹر فروخت کررہی ہے۔ یہ انکشاف پاکستان سٹیٹ آئل کے حکام نے کیا ہے۔ مشرف دور کے آخری دوبرسوں میں عام لوگوں تک یہ خبریں پہنچتی رہی تھیں کہ سعودی حکمرانوں نے پاکستان کو مفت تیل کی فراہمی بوجوہ بند کردی ہے اور پھر یہ اطلاع بھی عام ہوئی تھی کہ حکومت پاکستان نے رعائتی نرخوں پر تیل خریدنا شروع کردیا ہے۔ مشرف کا دور ختم ہونے کے بعد جب ایڈہاک ازم کا خاتمہ ہوا تو مہنگائی کا طوفان آیا ، اس دور کے حکمرانوں کو جہاں عمومی طور پر تنقید کا سامنا رہا، وہاں ڈیزل اور پٹرول مہنگا ہونے پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف احتجاج بھی برداشت کرنا پڑتا تھا۔ تنقید اور احتجاج کا سلسلہ اس وقت شدت اختیار کرجاتا، جب حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ پانچ اور سات سات روپے فی لٹر اضافہ کیا جاتا تھا۔2013ء میں جب نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے تو اس کے بعد پٹرولیم مصنوعات میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اگرچہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ایک روپے سے دواڑھائی روپے تک ہوتی رہی لیکن اسی ریلیف کی وجہ سے لوگ سابقہ دور میں پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کوبھول گئے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکمران قرضوں کی معیشت کو خود کفالت کے ذریعے مضبوط بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ بجلی پٹرول اور دیگر اشیا کو مہنگا کرکے ریونیو اکٹھا کرنے کا آسان نسخہ استعمال کرتے ہیں۔ اصولی طور پر تو حکومت کوڈیزل اور پٹرول 30روپے لٹر خرید کر برائے نام منافع حاصل کرنا چاہئے اگر خوش قسمتی سے ایسا ہو تو صارفین کو 35سے 40روپے لٹر پٹرول ملنے لگے۔ اس سے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات کم ہونے سے اشیائے صرف سستی دستیاب ہوں گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی فروخت نہ کی جائیں تو حکومت کے خزانے کو کیسے بھراجائے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے جن شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ ٹیکس ادا کرنے کے قابل لوگوں کے عدم تعاون اورسرکاری حکام اور اہلکاروں کے مختلف حربوں کی وجہ سے ناکام رہتی ہے۔ حکومتی حلقے پٹرولیم مصنوعات سے دوگنا منافع حاصل کرنا اپنی مجبوری بیان کرتے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومتی مشینری سب سے آسان اور کامیاب طریقے سے ریونیو اکٹھا کرنے کو ترجیح دیتی ہے، یوں عوام مہنگائی کا رونا روتے رہتے ہیں اور حکومت کے گلشن کا کاروبار چلتا رہتا ہے۔ ویسے حکمرانوں کو کبھی تو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ 30روپے لٹر خریدا ہوا پٹرول اور ڈیزل سستا کرکے 50روپے لٹر فروخت کیا جائے تو تاریخ میں اس سنہری کارنامے کا تذکرہ ہوتا رہے گا۔

مزید : اداریہ