’’لانگ مارچ یا جی،ٹی، روڈ مارچ‘‘ صلہ کیا؟قادری علیل؟

’’لانگ مارچ یا جی،ٹی، روڈ مارچ‘‘ صلہ کیا؟قادری علیل؟
 ’’لانگ مارچ یا جی،ٹی، روڈ مارچ‘‘ صلہ کیا؟قادری علیل؟

  

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ایوان وزیر اعظم سے رخصتی کے بعد لاہور آتے ہوئے ایک نئی مشکل پیدا کردی اور بہت سوں کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے واپسی کے لئے جی، ٹی روڈ کے راستے کا انتخاب کیا اور پہلے ہی روز اسے لانگ مارچ کی شکل دے دی، اسے ان کے چاہنے والے تحریر چوک اور برادر ملک کے واقعات سے بھی تشبیہ دینے لگے ہیں جبکہ ہم جیسے منطقی حضرات کے لئے پریشانی پیدا ہوگئی کہ کیا کہیں اور کیا نہ کہیں، تاہم ہمیں ان کے چھوٹے بھائی کی دانشور اہلیہ تہمینہ درانی کے احساسات سے حوصلہ ہوا ہے کہ بات تو کی جاسکتی ہے اور رویوں پر بات ہو سکتی ہے، تہمینہ درانی کے دو ٹوئیٹ سامنے آئے، پہلے کے مطابق وہ کہتی ہیں کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی کو مشکل میں ڈال دیا ہے، میں ہوتی تو کبھی ان کو یہ مشورہ نہ دیتی( جی، ٹی روڈ والا) اب ان کو چاہئے کہ وہ اپنے مشیروں کو فارغ کردیں، اس ٹوئیٹ کی وجہ سے دور کی کوڑی لائی جانے لگی تو گزشتہ روز ان کی طرف سے ایک اور ٹوئیٹ سامنے آیا ہے، اس کے مطابق انہوں نے ’’بدخواہوں‘‘ کے خیالات کی تردید کی اور کہا شریف خاندان میں کوئی اختلاف نہیں اور میں ہمیشہ بے باک رائے دیتی ہوں۔

اس تازہ ترین بیان سے یہ مسئلہ تو حل ہوا اب رہ گئے سابق وزیر داخلہ اور وفادار چودھری نثار علی خان جو محمد نواز شریف کی روانگی اور ان کے مارچ کے دوران پیش منظر پر نہیں حالانکہ اس سے پہلے ان کی ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں، انہوں نے اپنی عادت کے مطابق کسی قسم کا تبصرہ یا تردید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی البتہ ان کے حلقہ انتخاب کے کارکن اپنے قائد کا استقبال کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں کہ ان کا قافلہ روات کے مرکزی بازار کے سامنے سے گزرے گا، بہت سے حضرات بہت سی باتیں کررہے ہیں تاہم ماضی پر نظر دوڑانے سے ہمارا یہ اپنا اندازہ ہے کہ وہ پھر سے اچانک سامنے آئیں گے اور قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کردیں گے جیسا کہ وہ ماضی قریب میں کرچکے اس لئے یہ توقع تو پوری نہیں ہوسکے گی کہ چودھری نثار چھوڑ گئے البتہ وہ جو نوٹ کرانا چاہتے تھے وہ غیر حاضری سے کرادیا اور ظاہر کیا کہ وہ جی، ٹی روڈ والے نظریہ سے متفق نہیں ہیں اور نہ ہی آئینی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کے تاثر کو وزن دے سکتے ہیں کہ وہ برملا کہہ چکے کہ ایسا نہ کیا جائے لیکن کیا کیا جائے کہ سابق وزیر اعظم کی کچن کیبنٹ والے ان سے زیادہ تیز ہیں یوں بھی کابینہ کی تشکیل نے سابق وزیر داخلہ کو تکلیف پہنچائی ہوگی کہ وزارت خارجہ خواجہ آصف اور وزارت داخلہ، حسن اقبال کے سپرد ہوگئی جن کے ساتھ چودھری نثار کے تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

بہر حال یہ تو مسلم لیگ (ن) اور اس کے راہنماؤں کا اپنا مسئلہ ہے، ہم تو ابھی تک اس ’’لانگ مارچ‘‘ کا مقصد ہی نہیں سمجھ پائے کہ سابق وزیر اعظم نے گزشتہ روز پرانی باتیں اور موقف دہراتے ہوئے واضح طور پر کہا ’’راولپنڈی کے عوام نے فیصلہ مسترد کر دیا ہے‘‘ اس سے یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ وہ اس جی، ٹی روڈ کے سٹیجوں پر خطاب کے اختتام پر’’ عوام کے اسی فیصلے‘‘ کا اعلان کریں گے اور پھر لاہور کے جلسہ عام میں اس پر مہر تصدیق ثبت کردیں گے۔

یہ سب اپنی جگہ تاہم ہم اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس ’’بڑی عوامی حمائت‘‘ سے وہ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ اگر اس سے انتخابی عمل کا پیشگی جائیزہ ہے تو بھی وقت دور ہے کہ ان کی جماعت کی حکومت اپنی معینہ مدت پوری کرے گی، بہر حال وہ بہتر جانتے ہیں کہ عمل کررہے ہیں اور یہ عرض کردیں کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے جس کی ’’عقابوں‘‘ نے نہ صرف بھرپور تائید کی بلکہ عملی میدان میں بھی آگے آگے ہیں، ہم نے چند روز قبل ہی 1985ء کے عام انتخابات کے بعد کی ایک ملاقات کا ذکر کیا جو ان (محمد نواز شریف) کی ذاتی صفت سے متعلق ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں خود غور کرکے فیصلہ کرچکے ہوتے ہیں، تاہم مشاورت ضرور کرتے اور اس دوران وہ شرکاء محفل سے ان کی رائے لیتے اور پھر بات کو ایسا رخ دیتے ہیں کہ ان کے ’’من‘‘ کا فیصلہ قبول ہو جائے، اس بار پھر ایسا ہی ہوا ہے کہ جی، ٹی روڈ کا فیصلہ یقیناً انہوں نے مری سے چھانگلہ گلی اور نتھیا گلی جانے کے دوران ہی کرلیا تھا، تاہم مشاورت میں پرجوش تقریریں سنیں اور ان کو اندازہ ہوگیا کہ چودھری نثار اور محمد شہباز شریف کے علاوہ اکادکا اور حضرات جی، ٹی روڈ والے عمل سے متفق نہیں لیکن ’’عقاب‘‘ پر جوش ہیں، چنانچہ اعلان کردیا اور عمل بھی ہوگیا اب وہ بقول خود اپنی پذیرائی پربہت مطمئن اور خوش ہیں اور قافلہ جوں جوں آگے بڑھے گا ان کے لہجے کی تلخی بھی بڑھتی جائے گی۔

سابق وزیر اعظم کا عمل ان کے ساتھ، ان کے مخالف یا حزب اختلاف یا عمران خان اور تحریک انصاف متفق تو ہو نہیں سکتے معترض ہیں اور کنی دلائل لارہے ہیں، ان کی طرف سے الزام تراشی اور طنز بھی ہور ہی ہے، ہم اس بحث میں بھی نہیں الجھنا چاہتے ہیں، تاہم اس سوال سے متفق ہیں کہ کیا اس ’’جی، ٹی روڈ مارچ‘‘ سے فیصلہ تبدیل ہو جائے گا؟ اور وہ پھر سے وزیر اعظم بن جائیں گے؟جبکہ وہ خود بھی کہتے ہیں کہ باقی مدت کے لئے خاقان عباسی ہی وزیر اعظم رہیں گے، انہوں نے نظر ثانی اپیل کا اعلان تو کردیا ہے، دیکھیں کب ہوتی ہے کہ 30دن کے اندر کی جاسکتی ہے، اب ہم صرف ایک ہی گزارش کرسکتے ہیں کہ اپنی بھابی کی بات پر غور کریں اور مشکل پیدا نہ کریں کہ اس کے ’’عقب میں‘‘ کچھ بھی نکل سکتا ہے ، ہم بوجوہ زیادہ ’’مین میخ‘‘ نکالنے سے گریز کرتے ہیں۔

چلتے چلتے یہ بھی عرض کردیں کہ محمد نواز شریف نے شاید پہلی مرتبہ پروفیسر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو غیر ملکی ملا کہا اور الزام لگایا کہ وہ پھر آگئے کہ ملا اور دھرنے والوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کو بھی ’’ٹائمنگ‘‘ کا کرشمہ قرار دیا جارہا ہے، انہوں نے آتے ہی کہا تھا ’’میں گیارہ(11)‘‘ اگست کو اہم اعلان کروں گا‘‘ اب اطلاع ملی ہے کہ وہ علیل ہوگئے اور ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا ہے، اب شاید یہ اعلان نہ ہوسکے اور موخر ہو جائے، ویسے ایک ستم، ظریف نے فیس بک پر ایک پوسٹ لگا کر دوستوں کی توجہ مبذول کرالی، تصویر ڈاکٹر طاہر القادری کی ہے اور کیپشن میں تحریر ہے ’’میں پھر آگیا ہوں‘‘ اس کے نیچے ایک نوجوان کی تصویر ہے، اس پر لکھا ہے ’’کیوں‘‘؟ یہ سوال ہے، اگلی تصویر بھی پروفیسر طاہر القادری کی ہے اور جواب ہے’’ میرے پہلے پیسے ختم ہوگئے ہیں‘‘ دعا ہے اللہ ڈاکٹر محترم کو صحت عطا فرمائے۔

مزید : کالم