اسلام آباد نیوسٹی سکیم:عدالت اور وفاقی حکومت کا کردار

اسلام آباد نیوسٹی سکیم:عدالت اور وفاقی حکومت کا کردار
 اسلام آباد نیوسٹی سکیم:عدالت اور وفاقی حکومت کا کردار

  

آج کل ہر طرف عدالتی انصاف کا بڑا غلغلہ ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے جلد انصاف کی فراہمی کے لئے قابلِ قدر کوششیں کی ہیں سپریم کورٹ پر پوری قوم کی نظریں لگی ہوئی ہیں کیونکہ وہ انصاف کا آخری پلیٹ فارم ہے میڈیا اور قوم توانصاف کے لئے دہائی دے رہے ہیں لیکن میں ذاتی سطح پر بھی انصاف کا متلاشی ہوں۔ میرا ایک دیوانی کیس پچھلے چالیس سال سے حتمی فیصلے کا منتظر ہے ، پچھلے تین سال سے میری اپیل سپریم کورٹ میں پڑی ہے ابھی تک کیس شروع نہیں ہو سکا۔

اسلام آباد نیو سٹی ہاؤسنگ سکیم کا کیس 2005ء سے ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے جس پر لاہور ہائی کورٹ کے محترم جسٹس شمس مرزا نے تقریباً دس ماہ سے فیصلہ محفوظ کیا ہوا ہے۔ ایک میں نہیں سینکڑوں متاثرین جسٹس صاحب کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ 1995ء میں اسلام آباد کے زون 5 میں ’’اسلام آباد نیو سٹی‘‘ کے نام سے 80 ہزار کنال پرایک ہاؤسنگ سکیم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ یہ سکیم پہلی دفعہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر ایک پرائیویٹ پارٹی نے سرکاری اداروں سی ڈی اے اورنیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی (موجودہ پی ایچ اے کی پیش رو) کے ساتھ مل کر شروع کی۔ نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی وزارت کا ایک ماتحت ادارہ تھا۔ سینکڑوں لوگوں نے اس سکیم میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لئے درخواستیں دیں اور کل قیمت کا 10 فیصد پہلی قسط کے طور پر جمع کرایا۔ (رسید نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی گورنمنٹ آف پاکستان کی طرف سے جاری ہوئی) کچھ عرصے کے بعد سی ڈی اے کو بھی اس منصوبے میں شامل کر لیا گیا۔ اس دوران پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہو گئی۔ سننے میں آیا کہ کوئی نیازی صاحب اس سکیم کے کرتا دھرتا تھے جو آصف علی زرداری کے قریبی دوست تھے۔ سکیم میں پرائیویٹ پارٹنرز کی طرف سے گھپلوں کی وجہ سے 1996ء میں نگران حکومت نے سی ڈی اے اور نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کو حکم دیا کہ وہ اس سکیم سے الگ ہو جائیں۔ سکیم کے لئے سی ڈی اے اور میسرز MG Hertz Limited اور میسرز Asia Challenge Intvestment (pvt) کے درمیان جولائی 1996ء کو ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے۔ دوسرا سمجھوتہ نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی اور میسرز MG Realtors (pvt) کے درمیان ہوا۔ سی ڈی اے کے جوائنٹ وینچر میں 1905 لوگوں نے درخواستیں دیں اور مسلم کمرشل بینک میں 162-868 ملین روپے جمع ہوئے۔ ان درخواست گزاروں کو جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں اصل زر بغیر سود کے واپس کر دیا گیا۔

نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کے تحت درخواست گزاروں کا معاملہ آج تک لٹکا ہوا ہے کیونکہ پرائیویٹ پارٹی نے کچھ فنڈ نکال لئے تھے ۔ باقی فنڈ نیب نے منجمد کر دیا۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق این ایچ اے جائنٹ وینچر نے زون 5 (جہاں آج کل گلبرگ سکیم بن رہی ہے) میں 12882 کنال زمین خرید لی۔ سکیم کے لئے 1923 افراد نے درخواستیں دیں۔

28 نومبر 2005 ء میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اسلام آباد نیو سٹی ہاؤسنگ سکیم میں شامل پرائیویٹ کمپنیوں کوڈیفالٹر قراردیا جائے۔ نیب NAB این ایچ اے کے ساتھ مل کر سکیم کے اثاثوں سے درخواست دہندگان کو رقم واپس کرنے کا بندوبست کرے۔ اور نیب اس سے ہٹ کر اُن پارٹیوں کے خلاف تفتیش جاری رکھے۔ اِس فیصلے کے نتیجے میں SECP نے 8 مئی 2006ء کو ان کمپنیوں کو ڈیفالٹر قرار دے دیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے SECP کے ڈپٹی رجسٹرار احمد ارسلان کو اثاثوں کی Liquidation کے لئے پرویژنل منیجر مقرر کر دیا۔ بعد میں عدالت نے لاہور کے ایک ایڈووکیٹ اویس توصیف رانا کو بھی پرویژنل منیجر مقرر کر دیا ہائی کورٹ کے حکم پر این ایچ اے سی ڈی اے اور نیب نے مشترکہ طور پر 2007 ء میں سکیم کی زمین کی حد بندی کر دی۔

26 جنوری 2009ء میں سکیم میں شامل ایک پارٹی میسرز آصف انٹرپرائزز کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی کہ وہ سکیم ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں۔ سی ڈی اے کے نمائندے نے بھی میسرز آصف کی تجویز سے اتفاق کیا۔ عدالت نے پرویژنل منیجر احمد ارسلان کو حکم دیا کہ وہ تمام متعلقہ پارٹیوں کا اجلاس بلائیں۔ اور کوئی حتمی فیصلہ کریں۔ اس اجلاس کے بعد پرویژنل منیجر نے 25 فروری 2009ء کو لاہور ہائی کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ اس بات کا پتہ نہیں چل سکا کہ انہوں نے رپورٹ میں کیا لائحہ عمل تجویز کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس مرزا نے کیس پرفیصلہ محفوظ کر لیا۔ تقریباً 2000 درخواست دہندگان آج تک انصاف کے منتظر ہیں، کوئی جج صاحب کتنے عرصے تک فیصلہ محفوظ رکھ سکتے ہیں اور کیا یہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ عدالت نے کس نقطے پر فیصلہ کرنا ہے لیکن آنریبل جج صاحب کو اِس پوائنٹ پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ درخواست دہندگان کے ساتھ جو دھوکہ ہوا ہے اُس میں وفاقی حکومت کے ادارے یعنی سی ڈی اے اور نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی شامل تھے اور اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری کا بھی تعین کیا جانا انصاف کے تقاضوں کے لئے ضروری ہے۔

عدالت کی طرف سے مقرر کردہ پرویژنل منیجر پورے حقائق متاثرین کو بتانے سے گریزاں ہیں۔ چند سال پہلے اُن کا خیال تھا کہ زمین موجود ہے اور سکیم ڈویلپ کی جائے گی لیکن اب کہتے ہیں کہ وہ زمین اس قابل نہیں کہ اُس پر کوئی سکیم بنائی جائے۔ اورلوگوں کو کم سے کم سود دے کر رقم واپس کرنے کے معاملے پر عدالت فیصلہ کرے گی۔ 1995ء سے اب تک یہ رقم اصولاً پانچ دس گنا ہو جانی چاہئے۔ اُس جگہ پر پلاٹوں کی قیمتیں اب 60 لاکھ فی کنال تک پہنچ چکی ہیں۔ اگر 12882 کنال زمین پر یہ سکیم نہیں بن سکتی تو وفاقی حکومت کو اِن متاثرین کو کسی اور سکیم میں شامل کر لینا چاہئے کیونکہ متاثرین نے وفاقی حکومت کے ایک ادارے کی شمولیت کی بنیاد پر یہاں سرمایہ کاری کی تھی لہٰذا انصاف کا تقاضا ہے کہ حکومت اِس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

مزید : کالم