موجودہ حالات اور مستقبل کی سیاست

موجودہ حالات اور مستقبل کی سیاست
 موجودہ حالات اور مستقبل کی سیاست

  

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا اسلام آباد سے لاہور کی طرف جی ٹی روڈ پر سفر کس مقصد کے لئے ہے؟۔۔۔ اس بارے میں خود مسلم لیگ (ن) کے لوگ واضح نہیں، اگرچہ نواز شریف اپنے خطاب میں کہہ چکے ہیں کہ عوام نے نااہلی کا فیصلہ مسترد کردیا ہے، مگر اس کے باوجود ایسا نہیں کہ یہ شو آف پاور اس فیصلے کو تبدیل کرانے کے لئے کیا جارہا ہو، کیونکہ ایک عام آدمی بھی سمجھتا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایسے عوامی اجتماعات یا ریلیوں سے تبدیل نہیں ہوسکتا۔ بات سادہ سی ہے کہ اب سیاسی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا مقصد صرف اگلے انتخابات کی تیاری ہے، البتہ شریف فیملی کی حد تک اس عوامی طاقت کے مظاہرے کی وجہ یہ بھی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں جو نیب ریفرنس دائر ہونے ہیں، ان پر سپریم کورٹ نے نگرانی کے لئے جو جج تعینات کئے ہیں، اس فیصلے کو تبدیل کرایا جائے، کیونکہ سپریم کورٹ کی نگرانی کا مطلب ہے، نیب ریفرنسز کے فیصلے بروقت ہوں گے اور شریف فیملی کے خلاف مواداس قدر زیادہ ہے کہ ان ریفرنسوں کا فیصلہ ان کی منشاء کے مطابق نہیں آسکتا۔اس لئے کوشش یہی ہے کہ ان ریفرنسز کو طول دیا جائے، اب ظاہر ہے یہ کام کسی اعلیٰ سطحیٰ این آر او کے بغیر ممکن نہیں اور ایسا این آر او اس لئے مشکل ہے کہ اس سارے معاملے کو سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے۔

نواز شریف کے اس عوامی شو آف پاور کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کی جائے تو سپریم کورٹ کے ججوں کی نظر میں یہ حقیقت رہے کہ نواز شریف ایک مقبول عوامی لیڈر ہیں اور شاید اس وجہ سے جج صاحبان نرمی کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اگرچہ یہ باتیں ہیں تو سب مفروضات اور بڑی حد تک بچگانہ بھی نظر آتی ہیں، مگر کیا کریں کہ غرض مند دیوانہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی غرض پوری کرنے کے لئے ہر آپشن استعمال کرتا ہے، لیکن یہ سب کچھ ایک خواب کی مانند ہے، جس کی تعبیر شاید وہ نہ نکلے جو غرض مندوں کی آنکھوں میں سمائی ہوئی ہے۔۔۔ ایک بڑی حقیقت جسے مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کو بڑا دل کرکے قبول کرلینا چاہئے، وہ یہ ہے کہ نواز شریف نااہل ہوگئے ہیں، اس بنیادی حقیقت کو سامنے رکھ کر اگر خود نواز شریف اورمسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی پالیسیاں ترتیب دے گی تو یہ سیاسی لحاظ سے اس کے لئے ایک اچھا قدم ہوگا۔ نواز شریف نے نااہل ہونے کے بعد نئے وزیر اعظم اور کابینہ کی تشکیل کے وقت یہ ثابت کردیا ہے کہ پارٹی پر ان کی گرفت مضبوط ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی ساری توجہ اسی گرفت کی مضبوطی کو برقرار رکھنے پر صرف کریں۔ اسلام آباد سے لاہور جی ٹی روڈ کے راستے جانے کا فیصلہ اس حوالے سے ان کے لئے مفید ثابت ہوا ہے کہ وہ یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ نہ صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ عوام بھی ان کے ساتھ ہیں، اس ریلی کا مقصد صرف یہی تھا جو انہوں نے حاصل کرلیا۔ اس ریلی کی بنیاد پر ان کی نااہلی کافیصلہ واپس نہیں ہوسکتا، اس کے لئے تو سپریم کورٹ کے سامنے نئے شواہد لانے ہوں گے، البتہ اس سیاسی فائدے کو وہ اپنی جماعت اور آنے والے انتخابات کے لئے ایک طاقت کے طور پر استعمال ضرور کرسکتے ہیں۔

مسلم لیگ اگر نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو مایوسی کی بجائے آگے بڑھنے کا ایک موقع بناتی ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صرف یہی نہیں کہ اخلاقی طور پر نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، بلکہ کہا یہ جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) جلد ہی مختلف ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔ پچاس رکنی کابینہ بنانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو یکجا رکھنا مشکل ہوگا۔ اس کی بڑی وجہ تو یہی ہوگی کہ شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ میں لوگ دوطرف دیکھیں گے۔ جہاں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود کہیں کہ وزیر اعظم آج بھی نواز شریف ہیں اور دوسری طرف نواز شریف یہ بیان دیں کہ انہوں نے وزراء کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزیر اعظم سے تعاون کریں۔ وہاں استحکام تو مشکل ہی سے پیدا ہوسکتا ہے، حالانکہ اس کے برعکس یہ تاثر پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ مسلم لیگ (ن) بطور ایک سیاسی جماعت کے ملک پر حکمرانی کررہی ہے اور اس کا اول و آخر مشن یہ ہے کہ ملک کو تعمیرو ترقی کے لحاظ سے آگے لے جایا جائے۔ امید کی جانی چاہئے کہ جب نواز شریف دوتین دن عوام کے ساتھ بڑی ریلی میں گزار کر رائے ونڈ پہنچیں گے تو ان کا اگلا لائحہ عمل یہی ہوگا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو بطور ایک سیاسی جماعت کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا پورا موقع دیں گے۔ وہ اس طرح اسے منظم کریں گے کہ وہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھے۔ پیرانہ سالی کی وجہ سے بڑے بڑے نام والے سیاسی قائدین کو بھی دوسروں کے لئے راستہ صاف کرنا پڑتا ہے، چہ جائیکہ باقاعدہ ایک ایسی صورت پیدا ہو جائے ، جیسی نواز شریف کو درپیش ہے۔ سیاسی جماعتوں کے پاس ایسا راستہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے کہ وہ خود کو بحران سے نکال سکیں، جبکہ کسی اور سیاسی جماعت کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ 2018ء کے انتخابات میں پہلے سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کرجائے تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ نواز شریف کی نااہلی غلط تھی اور عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ اقتدار سونپ کر اپنے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں اگر مستقبل کا سیاسی نقشہ سامنے رکھا جائے تو پنجاب کی حد تک تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان گھمسان کارن پڑتا نظر آتا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) بھی خود کو میدان میں اتارے ہوئے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی نے گزشتہ چار سال کے عرصے میں حالات سے جس عدم تعلقی کا انداز اپنائے رکھا ہے یا پھر فرینڈلی اپوزیشن کی ہے، اس کی وجہ سے عوامی سیاست کی سطح پر اس کی مقبولیت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ بلاول بھٹو زرداری میں اتنا تحرک ضرور موجود ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے تن مردہ میں جان ڈال دیں، مگر اس کے لئے انہیں کھل کر میدان میں آنا ہوگا، فی الوقت تو ان کے بارے میں یہی تاثر موجود ہے کہ آصف علی زرداری کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری ازخود فیصلے نہیں کرسکتے۔ جہاں تک مسلم لیگ (ق) کا تعلق ہے تو وہ بڑی شدت سے انتظار کررہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے حصے بخرے ہوں اور اس سے ٹوٹ کر لوگ اس کی طرف آئیں۔ ظاہر ہے یہ توقع ایک مفروضے سے زیادہ اور کچھ نہیں، اس صورت حال میں تحریک انصاف ہی ایک ایسی جماعت رہ جاتی ہے جو مسلم لیگ (ن) کے گڑھ، یعنی پنجاب میں اسے للکار سکتی ہے۔مسلم لیگ (ن) نے یہ بہت اچھا کیا کہ شہباز شریف کو پنجاب سے وفاق میں نہیں بھیجا۔ اگروہ پنجاب سے چلے جاتے تو تحریک انصاف کے لئے بہت سی آسانیاں پیدا ہو جاتیں۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے بندے توڑنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ بھی درست ہے کہ جب عام انتخابات کی مہم چلے گی تو شہباز شریف اسے لیڈکریں گے۔ پنجاب پر ان کی گرفت بہت مضبوط ہے، عوام میں بھی ایک متحرک وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کی اچھی ساکھ ہے، دیکھا جائے تو مستقبل کے سیاسی نقشے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے لئے کوئی بہت بڑی مایوسی نظر نہیں آتی۔ البتہ ایک سوال اس کا ضرور پیچھا کرتا رہے گا، یہ سوال کہ مسلم لیگ (ن) نے اداروں سے ٹکراؤ کی جو راہ اختیار کی، کیا وہ فائدہ مند ہے۔ کیا قومی اداروں سے محاذ آرائی کا تاثر کسی سیاستدان یا جماعت کے لئے سود مند ثابت ہوتا ہے؟کوئی بھی ایسے سوالات کا جواب نہیں دے سکتا، تاہم موجودہ حالات کے تناظر اور مستقبل کے اہداف کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مسلم لیگی قیادت خاص طور پر محمد نواز شریف کو ان سوالات پر غور ضرور کرنا چاہئے۔

مزید : کالم