تیمر گرہ کے شہید

تیمر گرہ کے شہید
 تیمر گرہ کے شہید

  

یہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات تھی۔ میجر علی عثمان، کور آف ملٹری انٹیلی جنس (13لانسرز) جن کا تعلق206 سروے سے تھا اور وہ دیر کے ایک انٹیلی جنس دستے کے آفیسر کمانڈنگ تھے،کو باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی کہ تیمر گرہ ایریا کے نواح میں شیروت کائی اور واری نامی گاؤں میں ایک مکان میں چند دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔مخبر نے یہ اطلاع بھی دی کہ ان کے پاس خود کش بمباری کا تمام مواد اور جیکٹیں بھی ہیں اور یہ تین چار لوگ کچھ دِنوں سے پاک افغان سرحد عبور کر کے اس جگہ پہنچے ہیں۔یہاں کی آبادیاں خال خال ہیں۔اکثر مکانات خالی ہیں اور لوگ یہاں سے نقل مکانی کر کے تیمر گرہ کے شہری علاقوں میں جا چکے ہیں اور جو باقی رہ گئے ہیں وہ ہارڈ کور دہشت گردوں کی چوری چھپے مدد بھی کرتے رہتے ہیں۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں یہ تمام علاقے انتہائی دشوار گزار ہیں،اِس لئے دہشت گردوں کی جنت بھی کہلاتے ہیں۔اَپر دیر کے ان علاقوں کے مقابل افغانستان کا جو ایریا ہے اس میں مولوی فضل اللہ پاکستان دشمن کارروائیوں میں مصروف رہتا ہے۔اسے ’’را‘‘ اور افغانستان کی انٹیلی جنس کی پوری پوری سپورٹ حاصل ہے۔یہ دہشت گرد چار پانچ روز قبل گدھوں اور گھوڑوں پر تخریب کاری کا سامان لاد کر اور خود بھی سوار ہو کر آئے تھے اور سوات یا پاکستان کے دوسرے Settled ایریاز میں ایک بڑا خود کش آپریشن کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اس انٹیلی جنس کی بنیاد پر میجر علی سلمان نے اپنے دو ساتھیوں حوالدار کامران اور حوالدار فواد کو ساتھ لیا۔ (دونوں کا تعلق ملٹری انٹیلی جنس سے تھا) لیوی کا ایک سولجر بھی ساتھ ہو لیا۔اس چھاپہ مار پارٹی کے بیک اپ کے طور پر ایک آفیسر(لیفٹیننٹ ذیشان) اور نو سولجرز بھی تھے جن کا تعلق6بلوچ رجمنٹ سے تھا۔ میجر علی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ صبح ساڑھے آٹھ بجے اس مکان پر دھاوا بول دیا جس میں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔میجر صاحب کو معلوم تھا کہ دہشت گرد نہ صرف مسلح ہیں بلکہ انہوں نے خود کش جیکٹیں بھی پہن رکھی ہیں۔ میجر علی دہشت گردوں کو دیکھ کر ان پر ٹوٹ پڑے۔ان کے ایک ساتھی نے بھی صحن میں کھڑے ایک اور دہشت گرد کو دبوچ لیا۔لیکن پیچھے سے تیسرا دہشت گرد نکلا اور اُس نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔۔۔۔ یوںیہ کہانی ختم ہو گئی۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔۔۔ اس طرح کے بے شمار واقعات گزشتہ کئی برسوں سے پاک فوج کے ساتھ پیش آ چکے ہیں۔میجر علی سلمان کی نوجوان بیوی اور دو چھوٹے چھوٹے بیٹے ہیں۔اس مشن پر جانے سے پہلے میجر علی نے اپنی اہلیہ سے لاہور بات کی تھی۔اس کے بڑے بیٹے کا اصرار تھا کہ بابا جلد گھر آؤ۔میجر علی نے بیٹے سے وعدہ کیا تھا کہ جلد آؤں گا۔۔۔ اُس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور بدھ کی شام وہ سبز ہلالی پرچم میں لپٹا گھر پہنچ گیا۔۔۔۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!

سرِخاکِ شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم

کہ خونش بانہالِ ملتِ ما ساز گار آمد

(شہید پر مَیں لالے کے پھول کی پتیاں نچھاور کروں کہ اُس کے خون نے ہماری قوم کے پودے کی آبیاری کی)

میجر علی سلمان شہید کے والد کا نام لیفٹیننٹ کرنل (ر) ناصر محمود ہے جن کا تعلق آرڈننس کور سے ہے۔مَیں کل کرنل صاحب کی وہ گفتگو سُن رہا تھا جو انہوں نے فوج کے اس آفیسر سے کی جو ان کے اکلوتے بیٹے کی لاش لے کر لاہور پہنچے تھے۔ان کے دِل میں تو یقیناًآنسوؤں کی جھڑی لگی ہو گی۔گھر میں نوجوان بہو اور دو پوتے اور شہید کی والدہ کی جو کیفیت ہو گی اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔لیکن کرنل ناصر نے کمال متانت اور عزمِ صمیم کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ علی میرا اکلوتا بیٹا تھا،مجھے اُس کی شہادت پر فخر ہے کہ وہ قوم پر قربان ہوا۔میرا کوئی اور بیٹا ہوتا تو مَیں اُسے بھی فوج میں بھیجتا۔انہوں نے آخر میں یہ مصرعہ بھی پڑھا:

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

فوجیوں کے جو بیٹے فوج میں جاتے ہیں ان کو معلوم ہوتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز جوائن کرنے میں کیا خطرات ہیں۔لیکن اگر ایک ہی بیٹا ہو تو اسے فوج میں بھیجنا بڑے دِل گردے کا کام ہوتا ہے۔۔۔۔مجھے اس کا ذاتی تجربہ ہے۔

مَیں چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کا باپ ہوں۔الحمد للہ دو بیٹیوں کی شادیاں بھی فوجی افسروں سے ہوئی ہیں۔ ایک کا میاں بریگیڈیئر اور دوسرے کا کرنل ہے۔ مَیں بیٹے کو فوج میں بھیجنے سے کتراتا نہیں تھا، لیکن اس کے ماموں اور چچا اور ان کے اہلِ خانہ کا اصرار تھا کہ اسے ڈاکٹر بنائیں۔اس لئے وہ میٹرک کر کے کھاریاں کالج میں ایف ایس سی میں داخل ہو گیا۔وہاں کچھ دوستوں کے کہنے پر اور خود گھر کے ماحول سے متاثر ہو کر اُس نے فوج میں جانے کے لئے ابتدائی انٹرویو دیا اور کلیئر کر لیا۔ پھر میڈیکل ٹیسٹ بھی کلیئر ہو گیا تو اُس نے صرف اپنی ماں کو بتایا،مجھے نہ بتایا۔ مَیں 6آرمرڈ ڈویژن ہیڈ کوارٹر میں گریڈ2-کا سٹاف آفیسر (میجر) تھا۔کچھ دیر بعد جب بیٹا شام کو گھر نہ پہنچا تو مجھے فکر ہوئی۔ اہلیہ سے دریافت کیا تو اُس نے جواب دیا:’’آ جائے گا آپ فکر نہ کریں۔‘‘۔۔۔پھر رات کو انہوں نے بتایا کہ وہ آئی ایس ایس بی کوہاٹ گیا ہے اور چار دن کے بعد آئے گا۔ آپ کو اِس لئے نہیں بتایا کہ آپ اُسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے اور وہ فوج میں جانا چاہتا تھا۔

چوتھے دن مجھے کوہاٹ سے ایک دوست نے فون کیا کہ آپ کا بیٹا سہیل عامر خان آئی ایس ایس پی کلیئر کر چکا ہے اور جلد PMA جوائن کر لے گا۔اس کے بعد جب وہPMA سے پاس آؤٹ ہوا تو46 ایف ایف رجمنٹ جوائن کرنے کو ملی۔اس کی پہلی ترجیح انفنٹری ہی تھی جو اُسے دے دی گئی۔ بعد میں وہ یونٹ کے ہمراہ سیاچن پر بھی رہا اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھی دو سال سے زیادہ عرصہ گزارا۔ پاک فوج کے نو عمر آفیسرز خاص طور پر میجر اور کیپٹن حُبِ وطن اور حُبِ قوم کی دولت سے مالا مال ہیں۔سہیل لائن آف کنٹرول پر بارہا شوقِ شہادت میں سر ٹکراتا رہا، کبھی دریائے پونچھ عبور کر کے دشمن کی پوسٹوں میں جاگھستا تو کبھی دشمن کے فائر کے سامنے ایسی دلیری کا مظاہرہ کرتا کہ جسے آپ آسانی سے ’’بے وقوفی‘‘ کا نام دے سکتے ہیں۔اس کے ساتھ دوسرے ینگ آفیسر بھی اسی جذبے سے سرشار تھے اور آج بھی ہیں۔یہ روایت نئی نہیں،بہت پرانی ہے۔ ہم اپنے اکلوتے بیٹوں کو جب فوج میں بھیجتے ہیں تو ان کی زندگی کی دُعائیں ہی کر سکتے ہیں جو ہر باپ اور ہر ماں کرتی ہے اور میجر علی سلمان کے والدین نے بھی کی ہو گی۔لیکن قرآن نے گواہی دی ہے کہ شہید مرتے نہیں،زندہ رہتے ہیں لیکن ہمیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہو پاتا۔

قارئین کرام! آپ یہ نہ سمجھیں کہ مَیں نے یہ سطور کسی خودستائی کے جذبے سے لکھی ہیں۔بخدا ایسا نہیں ہے۔۔۔۔مَیں اور سہیل کی مرحوم والدہ اس کی زندگی کی دُعائیں ضرور مانگتے تھے لیکن انہی دُعاؤں میں دائمی زندگی کی دُعائیں بھی شامل رہتی تھی جو کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔مبارک ہیں وہ مائیں جو اپنے لختِ جگر سیکیورٹی فورسز میں بھیجتی ہیں اور مبارک ہیں وہ باپ جو اکلوتے بیٹے کی شہادت کی خبر سُن کر بھی اللہ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں!

اسی طرح حوالدار فواد شہید، حوالدار کامران شہید اور سپاہی عبدالکریم شہید کے والدین بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ کریم ان سب کو جوار رحمت میں جگہ دے۔۔۔ فوج ، رینجرز اور پولیس فورسز میں آئے دن شہادتیں ہوتی ہیں لیکن اگر آپ کسی دن فوج ،رینجرز اور پولیس کے بھرتی دفاتر کو وزٹ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نوجوانوں کا ایک جم غفیر ہوتا ہے جو وطن کے لئے قربان ہونے کی قسم کھانے کو تیار رہتا ہے۔ پاکستان کی ان تینوں سیکیورٹی فورسز میں تمام بھرتیاں رضاکارانہ ہوتی ہیں، کسی کو مجبور نہیں کیا جاتا کہ فوج یا رینجرز یا پولیس جوائن کرے۔ کئی ملکوں میں جبری بھرتی رائج ہے اور وہاں ہر لڑکے کو جب اس کی عمر18سال ہو جائے، سیکیورٹی فورسز کی کسی نہ کسی برانچ کو جوائن کرنا پڑتا ہے۔ لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی افواج میں کیا آفیسر اور کیا جوان سب کی بھرتیاں رضاکارانہ ہوتی ہیں۔ اور ان پر کوئی جبر و اکراہ نہیں ہوتا۔

ایک طرف میں اپنی فوج کی یہ قربانیاں دیکھتا ہوں اور دوسری طرف ملک کے اندرونی سیاسی حالات پر نظر جاتی ہے تو دل میں جذبات کا ایک طوفان سا اُٹھتا ہے جس کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جدید دُنیا کی افواج میں صاحبانِ اقتدار و اختیار کے بیٹے فوج میں بھرتی ہو کر اپنے آپ کو ایک ایسے امتحان سے گزارتے ہیں جو پیتل کو کندن بنا دیتا ہے۔ برطانیہ ہو کہ امریکہ، فرانس ہو کہ جرمنی یا یورپ کے دوسرے ممالک،ان کی افواج میں حکمرانوں کے بیٹے بیٹیاں فوج کے کسی نہ کسی شعبے میں جانے کو ایک اعزاز جانتی ہیں۔ ظاہر ہے وہ مسلمان نہیں ہیں لیکن ہم کیسے مسلمان ہیں کہ ہمارے حکمران موت کے خوف سے ڈرتے ہیں اور اپنے بیٹوں بیٹیوں کو ایسے پیشوں سے منسلک کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں جن میں جاں کے زیاں کا کوئی چانس نہیں ہوتا؟۔۔۔ لیکن جان تو آخر ایک دن جانی ہے، خواہ میدانِ جنگ میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے آئے یا خواہ کسی محل میں لیٹے لیٹے نکل جائے:

فاعتبروُ یا اولی الابصار

مزید : کالم