حضرت سید افضال احمد حسین گیلاؒ نی

حضرت سید افضال احمد حسین گیلاؒ نی

حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانی ؒ 10محرم الحرام،جولائی1926ء بروز جمعرات بٹالہ شریف ’’انڈیا‘‘ میں پیدا ہوئے۔ آپ ؒ کا اسم مبارک افضال احمد رکھا۔حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانی ؒ نے طریقت کی دُنیا میں عبادت و محبت کا اِک نیا انداز متعارف کرایا۔اپنے شیخّ سے محبت اِس والہانہ انداز سے کی کہ دُنیا عش عش کر اُٹھی۔آپؒ نے اپنے مرشد کی خدمت اور فرمانبرداری اِس انداز سے کی کہ ’’مرید سے ’’محبوبِ خاص‘‘ کے بلند ترین منصب پر فائض ہوئے۔سخاوت، عطا، درگذر آپؒ کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ہر کسی کو اُس کی طلب سے سوا عطا کرتے۔اگر اُس وقت گرہ میں کچھ نہ ہوتا تو اُدھار لے کر سائل کی حاجت روائی کرتے۔اِسی وجہ سے آپ کو سخیئکامل کہا گیا۔

حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانی ؒ نہایت خوش ذوق،خوش خلق،اخلاقِ کریمانہ کے مالک تھے۔آپؒ کی محافل میں ہر طرح کے لوگ آتے لیکن ایسا کبھی نہ سُنا گیاکہ کسی کی حاجت روائی نہ ہوئی ہو، اخلاق و کردارکی اصلاح کے لئے آپؒ ایسا کریمانہ انداز اختیار کرتے کہ دِل خود بخود نافرمانی سے نفرت کرنا شروع کردیتا۔آپؒ کو ظاہری کر وفر،نمود ونمائش بالکل پسند نہ تھی۔دوسروں کو اپنے استقبال کے لئے کھڑا ہونے سے منع کرتے، دُورسے ہی اشارہ فرماتے کہ بیٹھے رہو۔خاص طور پر ہاتھ چومنے اورپاؤں چھونے والوں کو سختی سے منع فرماتے،ہاتھ ملاتے مگر فوراً کھینچ لیتے تا کہ کوئی ہاتھ نہ چوم سکے۔نماز فجر اور مغرب کی امامت خود فرماتے۔سائل اور مُرید خواتین کو بھی اپنے سے فاصلے پر بیٹھاتے۔آپؒ کوبلا ضرورت کسی خاتون سے گفتگو کرتے کبھی نہ دیکھا گیا۔عورتوں سے اِتنی سخت پردہ داری اور دوری اختیار کرنا یہ ایسی روشن مثالیں ہیں جن کی مثال آج کے دور میں ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔زمانہ طفولیت میں بھی آپؒ سے بچوں جیسی حرکات سرزد نہ ہوئیں۔کھیلتے اور تھوڑی دیر بعد کھیل سے الگ ہو جاتے۔تعلیم و تدریس میں بھر پور دلچسپی لیتے۔تحریر انتہائی خوش خط لکھتے اور ساتھی بچوں کا ’’ہوم ورک‘‘کر کے خوشی محسوس کرتے۔آپ ؒ بچپن سے خُلقِ عظیم کے مالک اور سائشتہ اطوار تھے جو بھی دیکھتا آپؒ سے پیار کرتا، اسی طرح جوانی میں بھی بلند اخلاق،ستھرا کردار رہا،گناہ کا تصور تک نہ تھاکئی کئی گھنٹے تبلیغ میں گزار دیتے،ہزاروں مریدین و عقید مند آپؒ کی روحانی گفتگو سُنتے اور دلوں کو نورِ معرفت سے منور کر کے واپس لوٹتے۔

آپ فرماتے کہ جب گھر جاؤ تو روزانہ عشاء کے بعد قبلہ رُخ بیٹھواورکان کو دِل کے قریب کر کے سنو’’اللہ‘‘ کے ذکر کی آواز آئے گی،سُنتے رہو جب تک کے قلب معطر نہ ہو جائے۔کاشتکاری کا شوق اتنا کہ فرماتے یہ سُنتِ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہے۔اِس لئے اِس کام میں فخر محسوس کرتا ہوں۔جب فصل کٹ جاتی تو تقسیم کے لئے پیمان�ۂ سخاوت لبریز ہوتا جو کہ طریقہ اجداد تھا۔ کاشتکاری سے فراغت کے بعد گھر پہنچتے،دِن بھر کی تھکاوٹ کے باوجودنماز عشاء سے تہجد تک اپنے پدر بزرگوار مرشدِ عظیم کی خدمت میں موجود رہتے۔نہ آرام نہ نیند، اِس سے بڑھ کرجہد اور ریاضت کسی نے کیا کی ہو گی،ہر وقت محنت مشقت، بلاآرام اوربغیر نیند لئے چوبیس گھنٹے مصروفِ عمل رہنا یہ خاصۂ خاصانِ خدا ہے۔

حضرت سیّد افضال احمد حسین گیلانی ؒ کی گفتگو، ارشادات اور کلام شریعت، طریقت،حقیقت اور معرفت سے بھر پور ہوتا۔ تصوف کے بڑے دقیق مسائل کو منٹوں میں حل کر دیتے۔نرم دِل اِس قدر کہ کسی بھی ساتھی ،غلام یا سائل سے کیسی ہی خطا کیوں نہ ہوتی، چشم پوشی فرماتے، خطا کے بدلے عطا کا دستور اپنا رکھا تھا۔

آپؒ نے 35سال اپنے (والد) مرشد کریم کے زیر سایہ تربیت پائی اور اُن کے ’’علمِ لدُ نیّ ‘‘ سے بھرپور حصہ پایا۔آپ ؒ کو تمام روحانی علوم پردسترس حاصل تھی،اگر کوئی مسئلہ کسی کی سمجھ سے باہر ہوتا تووہ نظر سے سمجھا دیتے۔آپ ؒ نے کئی غریب گھرانوں کے وظائف مقرر کر رکھے تھے۔انتہائی خاموشی سے اُن کی باقاعدہ مدد فرماتے،اُنھیں ضرویاتِ زندگی پہنچاتے،ایک ہاتھ سے اس طرح دیتے کہ دوسرے کو خبر نہ ہوتی،یہ بھید بھی آپ ؒ کے وصال کے بعد تب کھلا جب ایک رجسٹر میں اُن کے نام اور پتے درج پائے گئے۔آپؒ تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں پاکستا ن کے بیشتر شہروں میں نکل جاتے اور اپنی روحانی اور عارفانہ گفتگو سے لوگوں کے دلوں کو منور فر ماتے ۔آپ تقریباًروزانہ ہی اپنے شہر سیالکوٹ تشریف لے جاتے،راستے میں کھڑے سائل آپ کے دستِ سخا کے منتظر رہتے۔ایک عیسائی بھی چمٹا بجاتا آپؒ کی گاڑی کے قریب آتاخیرات وصول کرتا اور چلا جاتا۔ ایک روز وہ خیرات لینے نہ آیا توتشویش ہوئی ،آپ ؒ نے اُس کا پتہ دریافت کیا اور گھر پہنچ گئے۔ اُس نے بیماری کی حالت میں دروازہ کھولا،آپؒ نے خیریت دریافت کی ،مالی معاونت فرمائی ،آپؒ کی دُعا سے وہ صحت یاب ہوا،دوسرے ہی روز خیرات لینے اُسی جگہ موجود تھا۔آپؒ اُسے تندرست دیکھ کر بہت خوش ہوئے ؛آپؒ کے چہرۂ اطہرکے تاثرات ظاہر کر رہے تھے کہ جیسے کوئی اُن کا انتہائی قریبی اور پیارا اُنھیں آن ملا ہو۔ اِسی طرح آپؒ شہر پہنچتے تو خیرات وصول کرنے والوں کی لمبی قطار ہوتی،آپؒ سب کونقد رقم دیتے جب تک کہ قطار ختم نہ ہو جاتی۔ بعداذاں آپؒ واپس منڈیر سیّداں تشریف لے آتے۔ 1961ء میں آپؒ کے پدر بزرگوار حضرت محبوبِ ذات ؒ کے وصال کے بعد آپؒ کے برادرانِ عزیز حضرت سیّد اقبال احمد حسین،حضرت سیّد افتخار احمد حسین اور حضرت سیّد امجد علی امجدؔ کی مشاورت سے آپؒ کو بطور سجادہ نشین منڈیر شریف سیّداں کے منصب پر فائض کیا گیا۔منصب سنبھالتے ہی آپؒ نے رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کر دیا۔لاکھوں افراد جن میں غیر مذاہب اور دوسرے فقہ کے لوگ بھی تھے،سلسل�ۂ بیعت میں شامل کیا۔طالبین کے احوال کی درستگی،اُن میں اِتبا ع شریعت وسُنت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے آپؒ اپنی باطنی اور روحانی قوت سے خوب کام لیتے تھے۔مختلف گدیوں سے منسلک فیضانِ طریقت بھی اکتسابِ فیض کے لئے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے، آپؒ نے اُنھیں بھی کبھی مایوس نہ کیا۔ بھرپور شفقت فرماتے اور منہ مانگی مرادیں عطا کر کے بڑی محبت سے رخصت کرتے۔خاص طوراپنی منزل کھو دینے والے صاحبان پر آپ ؒ بیحد شفقت فرماتے اور اُن کی منزل بحال کروا کر مسرت کا اظہار فرماتے۔آپؒ ایسے کاملین میں سے تھے کہ شریعت مطہرہ جن کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے۔ آپؒ اکثر فرماتے کہ جو شریعت کا پابند نہ ہو اُسے ’’ولی‘‘نہ سمجھوخواہ وہ ہوا میں اُڑتا نظر آئے۔ آپؒ فرماتے تھے کہ بزرگان دین کی کتا بیں اور واقعات بکثرت پڑھا کرو اِس سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔آپ کو مولانا روم ؒ اورعلامہ اقبالؒ کا کلام پڑھنے کا بڑا شوق تھا،خود بھی شاعر تھے اور شاعروں کی طرح کا نفیس الطبع مزاج پایا تھا۔ شعروں کے انتخاب سے آپ ؒ کے ذوقِ سلیم کا خوب اندازہ ہوتا تھا۔آپؒ کا ذاتی کلام مشاہدات پر مبنی تھا۔

آپ نے پرائمری تعلیم قریبی قصبہ روڑس میں حاصل کی۔آپ کاشمار سکول کے ذہین ترین بچوں میں ہوتا تھا۔ہمراہی بچوں سے اِس قدر شفقت کرتے کہ اپنا جیب خرچ بھی ساتھی بچوں میں تقسیم کر دیتے۔آپ کے خالہ ذاد سیّد حسن عسکری بچپن سے ہائی سکول تک کلاس فیلو رہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آپ ؒ کو اگرچہ سواری کی سہولت میسر تھی تاہم وہ میرے اور ساتھیوں کے ہمراہ پیدل سکول جانا پسند کرتے۔ شرمیلے بہت تھے،سکول کی وردی’’نیکر اور شرٹ تھی۔ نیکر کے اوپر شلوار پہن کر آتے۔سکول پہنچتے تو شلوار بیگ میں رکھ لیتے اورچھٹی ہونے پر دوبارہ پہن لیتے۔آپؒ گھر سے دیسی گھی کے پراٹھے لیکر آتے، تفر یح کے وقت ہمیں کھلا دیتے اور خود کچھ نہ کھاتے۔

ایک مرتبہ ایک انگریز A.P.I. سکول کے معائنہ کیلئے آیا۔آپ کے تعلیمی ریکارڈ اور ذہانت پرنقد انعام اور مٹھائی پیش کی لیکن آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا میری والدہ نے مجھے نصیحت فرمائی ہے کہ کسی سے کوئی چیز لیکر نہیں کھانی۔مَیں مٹھائی کھاکر اپنی اماں جان کی حکم عدولی نہیں کر سکتا۔انگریز آفیسر اور دیگرسٹاف ممبران اِس جواب پرحیران ہونے کے ساتھ ساتھ خوش بھی ہوئے کہ بیٹا ماں کا کتنا فرمانبردار ہے۔

آپ ؒ کا عالمِ شباب قرآن وسنت کے احکامات میں ڈھلا ہوا تھا۔آپؒ مضبوط گھٹے ہوئے جسم وجیہہ سراپا،دلنواز مسکراہٹ،شرمیلے جھکے جھکے نین،چہرے پر حیاء کی سرخی،دھمی چال اور مؤدب گفتار کے مالک تھے۔جوانی میں کھیتی باڑی کرتے۔زمینوں میں ایک کنواں لگوا رکھا تھا۔کنویں پر بیلوں کو جوت کر خود یادِ الٰہی میں مصروف ہو جاتے۔

حضرت سید افضال احمد حسینؒ 20 اور 21مارچ 1998 ء۔20 ذیقعد کی درمیانی شب رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب آپؒ اِس دارِ فانی سے عالم بقا کو سدھار گئے ساری عمر جس ربّ سے ملنے کے شائق تھے اُسی ربّ کی جانب لوٹ گئے۔خاندانی روایت اور دستورِ طریقت کے مطابق آپؒ کے بڑے صاحبزادے سیّد مبارک علی شاہ گیلانی کوحضرت محبوبِ ذات السیّداحمد حسین شاہ گیلانی ؒ اور حضرت سخ�ئ کامل سیّد افضال احمد حسین گیلانی ؒ محبوبِ خاص ؒ کا سجادہ نشین مقرر کیا گیا۔ آپ کا سالانہ عرس 13,12 اگست کو منڈیر سیداں شریف میں منایا جائے گا۔عرس کی تقریبات کی سرپرستی آپ کے چچاحضرت قبلہ سیّد اقبال احمد حسین اور حضرت قبلہ سیّد امجد علی امجدؔ فرمائیں گے۔اِس سلسلہ میں انہیں اپنے برادرِ اصغر سیّد شاہ کمال محیّ الدین گیلانی کی مکمل معاونت حاصل ہے۔

مزید : ایڈیشن 1