مقاماتِ مقدسہ میں کس طرح قیام کیا جائے؟

مقاماتِ مقدسہ میں کس طرح قیام کیا جائے؟

آج ہمارے وہ بھائی جو بیت اللہ کا سفر کر رہے ہیں ان کی سعادت قابل رشک بھی ہے اور قابل دید بھی، اور کیوں نہ ہو یہ ایک دیرینہ تمنا کی تکمیل اور عمر بھر کا سرمایہ ہے۔ اللہ رب العالمین ان کا سفر آسان کرے اور صحت و عافیت کے ساتھ ارکان حج ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مکہ مکرمہ کا سفر کرنے سے پہلے ہر حاجی کو اس سرزمین کا مرتبہ و مقام معلوم ہونا چاہیے تا کہ وہ وہاں ٹھہرنے کے آداب کو ملحوظ رکھ سکے۔ مکہ امن و امان کا گہوارہ، منبع رسالت اور بلد حرام ہے۔ فرمان نبوی ہے:

اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے ارض و سماء کی تخلیق کے دن سے حرمت والا بنایا ہے، یہ قیامت تک کے لئے محترم ہے، اس کا کانٹا نہ کاٹا جائے، اس کا شکار نہ بھڑکایا جائے، وہاں گری ہوئی چیز نہ اٹھائی جائے مگر پہچان کے لئے اور اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس شہر کی عظمت کا اندازہ لگائیے کہ اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں اس کو بابرکت والا شہر کہا ہے اور اس کی قسم کھائی ہے۔

مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی بہ نسبت ایک لاکھ نماز کے برابر ہے۔ حدیث میں ہے:

’’میری اس مسجد (مسجد نبوی) میں نماز اس کے علاوہ مساجد کی بہ نسبت ایک ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے، اس میں نماز اس کی بہ نسبت سو نماز سے افضل ہے۔‘‘

مکہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے اور بحالت پیشاب و پاخانہ اس کا استقبال و استد بار دونوں حرام ہیں، اس میں معاصی و منکرات کے مرتکبین کے لئے دردناک عذاب کی وعید ہے۔ چنانچہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

’’جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔‘‘

(الحج: ۲۵)

اس لئے تمام حجاج کرام کے لئے ضروری ہے کہ مکہ کے قیام کے دوران پابندی کے ساتھ حرم میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کریں، کثرت سے طواف کریں، تلاوت قرآن میں منہمک رہیں اور ادواذکار سے رطب اللسان رہیں دعا و اپنے قیمتی اوقات میں سے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں۔

مشاعر مقدسہ میں قیام کے دوران ہر حاجی کو اتفاق و اتحاد کا نمونہ بن کر رہنا چاہیے، اسلام نے امت محمدیہ کو اتفاق اتحاد کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کا حکم دیا ہے کیونکہ کسی بھی قوم و ملت کی جوہری قوت و طاقت اس کے افراد کی آپسی ہم آہنگی و یگانگت میں اور اختلاف و انتشار، تفرقہ بازی، آپسی چپقلش، عناد و دشمنی سے کوسوں دور رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اللہ کی رسی کو تم لوگ مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ بازی کا شکار نہ ہو جاؤ۔‘‘

(آل عمران: ۱۰۳)

مشاعر مقدسہ میں قیام کے دوران ہر حاجی حسن اخلاق کا پیکر و نمونہ بن کر رہے۔ ایک انسان اس لئے اچھا ہے کہ وہ اخلاق کے بلند مقام پر فائز ہے، اخلاق وہ پیمانہ ہے جس کے واسطے سے شخصیات کا وزن کیا جاتا ہے، یہ وہ ذاتی جوہر ہے جس میں مقناطیسی کشش ہے جو دشمنوں اور مخالفوں کو بھی اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ سفر کو سفر اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں رفیق سفر کا اخلاقی جوہر نمایاں ہو جاتا ہے، لہٰذا ہر حاجی کو چاہیے کہ وہ اپنے ہمجولیوں، احباب و رفقاء سفر کے ساتھ باہمی تعاون کی فضا میں رہے، ان کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ حج مبرور وہی حج ہے جس میں بِر یعنی نیکی اور دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ، کھانے پینے کی چیزیں ہوں یا سازوسامان ہر چیز میں تعاون و ساجھے داری کا ماحول ہو، اپنے کسی ساتھی کی کوئی بات یا عمل گراں نہ گزرے، ضبط نفس اور انشراح صدر کے ساتھ ہر تلخی کو انگیز کرے اور پیشانی پر سلوٹیں نہ آنے دے۔ حج کا اجتماع تعاون علی البر والتقویٰ کا اجتماع ہے، یہ ایسی عبادت ہے کہ اگر شریعت مطہرۃ کی ہدایت کے مطابق مقدمات و دواعی جماع اور فسق و فجور سے دامن بچا کر پورے اخلاص، نیک نیتی اور للہیت کے ساتھ کی جائے تو حج کرنے والا گناہ سے ایسا پاک و صاف ہو کر لوٹتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے دنیا میں بے گناہ آیا تھا۔

امام ابن رجبؒ نے متعدد تابعین کے اقوال نقل کیے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ حاجی کے لئے سفر حج میں تین خصلتیں ضروری ہیں:

1 پرہیز گاری جو اس کو معاصی و منکرات سے باز رکھے۔

2 بردباری جو اس کو اپنے نفس پر کنٹرول رکھنے میں مدد دے۔

3 حسن صحبت اپنے رفقاء کے ساتھ تا کہ آپس میں کوئی اختلاف رونما نہ ہو۔

حجاج کے درمیان سفر حج میں اختلاط بسا اوقات آپسی تلخی کا سبب بننے لگتا ہے لہٰذا ضبط نفس کی زندگی میں سب سے زیادہ ضرورت اسی موقع پر پیش آتی ہے، اسی سفر میں اتنے نشیب و فراز سے ہر حاجی کو گزرنا پڑتا ہے کہ اس کی انسانیت، اس کے دین ہر چیز کا امتحان ہو جاتا ہے، چھوٹی چھوٹی حقیر باتوں پر دست بگریباں ہونا مسلمان کی شان نہیں۔

* آٹھویں ذی الحجہ (یوم الترویہ) کو حاجی جب منیٰ میں خیمہ زن ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ نمازیں باجماعت پڑھے اس لئے کہ باجماعت نماز کا ثواب انفرادی نماز سے پچیس گنا یا ستائیس گنا زیادہ ہے، فضول اور دنیاوی لایعنی باتوں میں اپنے قیمتی اوقات رائیگاں نہ ہونے دے، جو دعائیں یاد ہوں وہ پڑھے یا دعاؤں کی کتاب دیکھ کر پڑھتا رہے۔

* نویں ذی الحجہ کو جب میدان عرفات میں اپنے خیمہ میں پہنچے تو زوال تک آرام کر کے تازہ دم ہو جائے، ظہر کے اول وقت میں پہلے ظہر پھر عصر کی نمازیں باجماعت ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ اداکرے اور اس کے بعد سے غروب آفتاب تک زیادہ سے زیادہ دعا و اذکار، تلاوت قرآن وغیرہ میں مصروف رہے، اس لئے کہ وہ حج کا دن ہے اور اسی کے لئے وہ وہاں گیا ہے

* نویں ذی الحجہ کو سورج ڈوبنے کے بعد بغیر نماز مغرب ادا کئے پورے سکون و اطمینان کے ساتھ تلبیہ پڑھتا ہوا مزدلفہ آئے، یہاں پہنچ کر مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھے پھر باقی رات سو کر گزار دے، کنکریاں مزدلفہ سے چنے یا منیٰ سے کوئی حرج نہیں۔

* دسویں ذی الحجہ کو مزدلفہ میں فجر کی نماز ادا کر کے دیر تک دعائیں کرتا رہے جب روشنی پھیل جائے تو طلوع آفتاب سے پہلے منیٰ کے لئے روانہ ہو جائے، منیٰ پہنچ کر بڑے شیطان کو کنکریاں مارے، اس سے پہلے تلبیہ بند کر دے۔

* گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کو زوال کے بعد تینوں (جمرات) شیطانوں کو کنکریاں مارے اور باقی اوقات دعا و اذکار میں مصروف رہے۔ اگر تیرہ ذی الحجہ کو بھی ٹھہرنا ہے تو اس دن بھی زوال کے بعد شیطانوں کو کنکریاں مارے، پھر مکہ پہنچ کر طواف افاضہ و سعی کرے، اس کا حج پورا ہو گیا، اب باقی ایام حرم میں نمازوں اور طواف کی پابندی کرے اور زیادہ سے زیادہ نوافل و تلاوت قرآن میں اپنے اوقات صرف کرے، کس کو کیا معلوم کہ پھر کب آنا ہو یا یہ اس کی زندگی کا آخری حج ہو۔

مزید : ایڈیشن 1