محمدﷺ

محمدﷺ

لالہ لال چند فلک

نغمہ وحدت حق دہر میں گایا تو نے

کملی والے یہ عجب گیت سنایا تو نے

رب بے مثل کا، دُنیا میں بٹھا کر سکہ

نقش اوہام پرستی کا مٹایا تو نے

پڑ گئے ماند سبھی شرک خودی کے اختر

مہر توحید کا جلوہ جو دکھایا تو نے

جو شراب اور نشے کے تھے ازل سے مشتاق

مئے وحدت کا انہیں جام پلایا تو نے

باہمی نفرت و کینہ تھا وطیرہ جن کا

انس و الفت کا سبق ان کو پڑھایا تو نے

خواب غفلت میں پڑے سوتے تھے مکی مدنی

لبِ اعجاز سے قم کہہ کے اُٹھایا تو نے

ریت کے ذروں کو بارود کی طاقت بخشی

خاک ناچیز کو اکسیر بنایا تو نے

کر دیا ایک، شہنشاہ و گدا کا رتبہ

اونچ اور نیچ کا سب فرق مٹایا تو نے

دختر حارث غمگیں کو رہائی بخشی

قید پر غم سے غلاموں کو چھڑایا تو نے

کیوں نہ قربان مسلمان ترے نام پہ ہوں

حق پرستی کا جنہیں طور بتایا تو نے

گنبد و سقفِ گوشِ زمیں گونج اٹھے

نعرہ توحید الٰہ کا جو لگایا تو نے

***

مزید : ایڈیشن 1